Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

pakistan-politics-election-police-state
کالماہم ترینتازہ ترین

ہمارے ڈنڈے والے استاد

By Akhtar Rasool
جنوری 28, 2024 4 Min Read
0

اسلام آباد میں نوجوانوں سے سپہ سالار کے خطاب کی جھلکیاں پڑھتے ہوئے میری نسل کے ان لوگوں کو، جنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گذشتہ صدی میں سرکاری اسکولوں میں حاصل کی ہے، انہیں اپنے ہائی اسکول کے استاد یاد آئے ہوں گے۔

اب بھی کبھی بچہ پوچھتا ہے کہ آپ کے اسکول میں کیا ہوتا تھا تو میں بتاتا ہوں کہ پڑھائی اور کُٹائی، تو انہیں یقین نہیں آتا۔ بچہ پوچھتا ہے کہ کیا آپ ہوم ورک نہیں کرتے تھے یا کلاس میں شرارتیں کرتے تھے، تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ ہمارے ان اسکولوں میں کبھی کبھی پڑھائی اور کُٹائی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

میں کلاس میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لے ہی لیتا تھا، لیکن جب استاد کے ہاتھ میں سوٹی آتی تھی تو وہ بہانے بھی ڈھونڈ ہی لیتا تھا۔ اسکولوں میں استادوں کے ہاتھوں طالب علموں کی کُٹائی نہ صرف عام تھی بلکہ والدین اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔

بچے کو اسکول میں داخلہ دلاتے ہوئے فخر سے کہتے تھے کہ ماسٹر صاحب یہ ہے ہمارا بچہ، اب اس کی ہڈیاں ہماری اور گوشت آپ کا۔۔۔ عام تاثر یہی تھا کہ جو استاد بچوں کی پٹائی نہیں کرتا، وہ کیا خاک پڑھائے گا۔ میں نے بھی اوائل جوانی میں کراچی کے ایک پرائیوٹ اسکول میں چند مہینے پڑھایا اور جب پرنسپل نے بتایا کہ یہاں ڈنڈا سوٹی بالکل منع ہے تو میں نے بےساختہ پوچھ ہی لیا کہ سر پڑھاؤں گا کیسے۔۔

اب ایک طرف الیکشن کا ماحول ہے۔ جو خوش قسمت امیدوار جیل میں نہیں، وہ اپنے حلقے میں واپس اترے ہیں۔ ریڑھیوں پر پکوڑے کھا رہے ہیں، عوام میں گھل مل رہے ہیں، موٹروے اور ایئرپورٹ بنانے کے وعدے کر رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ نگران اور نگرانوں کے نگران نے نوجوانوں کی تعلیمِ نو کی ایک سپر انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔ پہلے نگران وزیرِاعظم یونیورسٹیوں میں درس دینے پہنچے۔ انہوں نے طلباء کو بلوچستان سمجھانے کی کوشش کی، بلکہ ڈرانے کی کوشش کی کہ وہاں پر سب مارے جائیں گے لیکن وہ اتنے اسٹائلش اور کیوٹ ہیں کہ کوئی ان سے ڈرا ہی نہیں۔

پہلے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ انتخاب کے اس ماحول میں نوجوانوں کے دل جیتنے کی کوشش وہ لوگ کیوں کر رہے ہیں، جنہوں نے انتخاب میں حصہ ہی نہیں لینا، کسی سیانے نے سمجھایا کہ انہوں نے بھی وہ سروے پڑھ رکھے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ ووٹروں کی ایک کثیر تعداد نوجوان ہے، جنہیں سوشل میڈیا اور عمران خان نے مل کر خراب کر دیا ہے۔

اب ان میں سے جو اپنے آپ کو لمز ٹائپ یونیورسٹیوں میں پڑھ کر بڑے دانشور بنتے ہیں، ان کو ہال میں اکٹھا کرو، ان کا دماغ صاف کریں گے۔ نگران وزیرِاعظم نے یورپی فلاسفر بن کر خرگوش کے شکار کی مثالیں دینی شروع کیں تو طلباء کی ہنسی چھوٹ گئی۔ نگران یہ سمجھے کہ یہ طلباء کے ساتھ انگریزی والی بانڈنگ ہو گئی ہے۔

نوجوان ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے بھٹک گئے ہوں، لیکن انہیں بھی ڈنڈے والے اور بغیر ڈنڈے والے استاد کا فرق پتا ہے۔

تو نگرانوں کے نگران کلاس پڑھانے خود پہنچ گئے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ایک کلاس کسی نامعلوم مقام پر لاہور میں ہوئی اور یہ پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ اگر آپ سیاست اور جمہوریت جیسے مضامین پڑھاتے ہیں تو آپ بھی لاپتا ہونے کے آداب کے نام سے ایک کورس پڑھانا شروع کر دیں، کافی استاد مل جائیں گے۔

لیکن بڑا خطبہ سب سے بڑے نگران نے دارالحکومت میں دیا اور سوشل میڈیا کے بھٹکائے ہوئے نوجوانوں کو تو سمجھ آئی یا نہیں آئی، لیکن مجھے گھر بیٹھے گذشتہ صدی کے والدین کی یاد آ گئی کہ ہڈیاں ہماری اور گوشت آپ کا۔۔

پہلا اور بنیادی سبق۔ چاہتے تو تم سب ڈی ایچ اے میں رہنا اور سی ایم ایچ میں علاج کروانا۔ نہیں کر سکتے تو جلنا چھوڑ دو۔ الیکشن لڑنا ہے تو لڑو۔۔ کھلی چھٹی تو نہیں دے سکتے، تم ملک بھی توڑو گے تو ہم کیا توڑنے دیں گے؟ اور حکومت پا کر پانچ سال پورے کرنے والا خواب بھی چھوڑ دو۔

سوشل میڈیا سے جو تم نے مغربی تہذیب والی بد تمیزی سیکھی ہے، اس کو بھول جاؤ۔۔ استادوں کے استاد وہی ہوتا ہے، جو پہلے ڈنڈا دکھائے اور پھر گلے لگائے۔

میرے ہائی اسکول کے استاد نے میری ذہانت اور فرمانبراداری کو مان کر مجھے کلاس کا مانیٹر بنا دیا۔ ایک دن ڈنڈا لانا یاد نہیں رہا تو مجھے اسکول میں لگے درخت سے سوٹی توڑ کر لانے کا حکم ہوا۔ میں بیٹھتا تو سب سے پہلے بینچ پہ تھا لیکن دوستی ان سے تھی، جو بیک بینچر تھے اور مار ان ہی کو پڑنی تھی۔

شیشم کے درخت سے شاخ توڑنا ذرا مشکل ہوتا ہے، میں نے بھی تھوڑی سُستی کی، اس لیے کہ جب تک سوٹی لے کر پہنچوں گا، آدھا پیریڈ گذر چکا ہوگا۔ استاد آخر استاد ہوتا ہے، جب میں سوٹی لے کر پہنچا تو استاد نے مجھے سب کے سامنے لٹا کر پہلی پٹائی میری پشت پر کی۔۔ اور پوری کلاس کو بتایا کہ یہ دیکھو تمہارا مانیٹر سمجھتا ہے کہ ڈنڈا دیر سے آئے گا تو تمہاری جان بچ جائے گی۔

خدا ہمارے الیکشن لڑنے والوں اور ان کے ووٹروں کو سلامت رکھے، لیکن بہت امیدوار ہمارے استاد کے اردگرد جمع ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈا دے کر کہہ رہے ہیں کہ اس کو مارو، کیونکہ اس نے سائفر کیا ہے، اس نے نو مئی کیا ہے، اس نے پہلے والے استاد کو گالی دی تھی، گالیاں دینا تو ہمارے نوجوانوں کو سکھایا ہی اس نے۔۔ یہ لو ڈنڈا اور چلاؤ۔

میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں، جنہیں پاکستان کہ ریاست نے مفت اور معیاری تعلیم دی۔ اس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ جب استاد کو ڈنڈا پیش کرو کسی اور کو مارنے کے لیے تو اپنی پشت بھی یاد رکھو۔

بشکریہ بی بی سی اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Democracydemocracy in pakistandemocracy of pakistanPakistanpakistan (country)Pakistan Armypakistan democracypakistan democracy farcepakistan democracy newspakistan democracy unhrcpakistan farce democracypakistan newsPakistan Politicspakistan's democracywhat is democracy in pakistanwhy democracy fail in pakistanwhy democracy fail in pakistan explained in urduwhy democracy fails in pakistanwhy pakistan always loses democracy battle
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
somnath-temple-gurat-babri-masque-ram-temple
Previous

سومناتھ سے ایودھیا تک

urdu-literature-urdu-stories-urdu-fictions
Next

مرغ یا مرغی؟ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme