Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Urdu-Hindi-fictions-and-stories
ادباہم ترینتازہ ترین

دلی کی سیر

By Akhtar Rasool
مارچ 19, 2024 3 Min Read
0

’’اچھی بہن ہمیں بھی تو آنے دو‘‘ یہ آواز دالان میں سے آئی اور ساتھ ہی ایک لڑکی کرتے کے دامن سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔

ملکہ بیگم ہی پہلی تھیں جو اپنی سب ملنے والیوں میں پہلے پہل ریل میں بیٹھی تھیں۔۔ اور وہ بھی فرید آباد سے چل کر دہلی ایک روز کے لیے آئی تھیں، محلہ والیاں تک ان کی داستانِ سفر سننے کے لیے موجود تھیں۔

’’اے ہے آنا ہے تو آؤ! میرا منہ تو بالکل تھک گیا۔۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سینکڑوں ہی بار تو سنا چکی ہوں۔ یہاں سے ریل میں بیٹھ کر دلی پہنچی اور وہاں ان کے ملنے والے کوئی نگوڑے اسٹیشن ماسٹر مل گئے۔ مجھے اسباب کے پاس چھوڑ یہ رفو چکر ہوئے اور میں اسباب پر چڑھی برقعہ میں لپٹی بیٹھی رہی۔ ایک تو کمبخت برقعہ، دوسرے مَردوے۔ مرد تو ویسے ہی خراب ہوتے ہیں اور اگر کسی عورت کو اس طرح بیٹھے دیکھ لیں تو اور چکر پر چکر لگاتے ہیں۔ پان کھانے تک نوبت نہ آئی۔ کوئی کمبخت کھانسے، کوئی آوازے کسے اور میرا ڈر کے مارے دَم نکلا جائے اور بھوک وہ غضب کی لگی ہوئی کہ خدا کی پناہ! دلی کا اسٹیشن کیا ہے بوا، قلعہ بھی اتنی بڑا نہ ہوگا۔۔ جہاں تک نگاہ جاتی تھی، اسٹیشن ہی اسٹیشن نظر آتا تھا اور ریل کی پٹریاں، انجن اور مال گاڑیاں۔۔۔ سب سے زیادہ مجھے ان کالے کالے مَردوں سے ڈر لگا جو انجن میں رہتے ہیں۔“

’’انجن میں کون رہتے ہیں؟‘‘ کسی نے بات کاٹ کر پوچھا۔

’’کون رہتے ہیں؟ نہ معلوم بوا کون! نیلے نیلے کپڑے پہنے، کوئی داڑھی والا، کوئی صفا چٹ۔۔ ایک ہاتھ سے پکڑ کر چلتے انجن میں لٹک جاتے ہیں، دیکھنے والوں کا دل سن سن کرنے لگتا ہے۔ صاحب اور میم صاحب تو بوا دلی اسٹیشن پر اتنے ہوتے ہیں کہ گنے نہیں جاتے۔۔ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گٹ پٹ کرتے چلے جاتے ہیں۔۔ ہمارے ہندستانی بھائی بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکتے رہتے ہیں۔ کمبختوں کی آنکھیں نہیں پھوٹ جاتیں۔ ایک میرے سے کہنے لگا ’ذرا منہ بھی دکھا دو۔‘ میں نے فوراً۔۔۔۔۔“

’’تو کیا تم نے نہیں دکھایا؟‘‘ کسی نے چھیڑا۔

’’اللہ اللہ کرو بوا۔۔ میں ان موؤں کو منہ دکھانے گئی تھی۔۔ دل بلیوں اچھلنے لگا‘‘ تیور بلدل کر ’’سننا ہے تو بیچ میں نہ ٹوکو۔‘‘

ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ایسی مزیدار باتیں فریدآباد میں کم ہوتی تھیں اور ملکہ کی باتیں سننے تو عورتیں دور دور سے آتی تھیں۔

’’ہاں بوا سودے والے ایسے نہیں، جیسے ہمارے ہاں ہوتے ہیں۔ صاف صاف خاکی کپڑے اور کوئی سفید، لیکن دھوتیاں کسی کسی کی میلی تھیں ٹوکرے لیے پھرتے ہیں، پان، بیڑی، سگریٹ، دہی بڑے، کھلونا ہے کھلونا اور مٹھائیاں چلتی ہوئی گاڑیوں میں بند کیے بھاگے پھرتے ہیں۔۔ ایک گاڑی آ کر رکی۔ وہ شورغل ہوا کہ کانوں کے پردے پھٹے جاتے، ادھر قلیوں کی چیخ پکار ادھر سودے والے کان کھائے جاتے تھے، مسافر ہیں کہ ایک دوسرے پر پلے پڑتے ہیں اور میں بچاری بیچ من اسباب پر چڑھی ہوئی۔ ہزاروں ہی تو ٹھوکریں دھکے کھائے ہوں گے۔ بھئی ’جل تُو جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو‘ گھبرا گھبرا کر پڑھی رہی تھی۔ خدا خدا کر کے ریل چلی تو مسافر اور قلیوں میں لڑائی شروع ہوئی،
’ایک روپیہ لوں گا۔‘
’نہیں، دو آنہ ملیں گے۔‘
ایک گھنٹہ جھگڑا ہوا، جب کہیں اسٹیشن خالی ہوا۔۔ اسٹیشن کے شہدے تو جمع ہی رہے۔ کوئی دو گھنٹہ کے بعد یہ مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے دکھائی دیئے اور کس لا پرواہی سے کہتے ہیں، ’بھوک لگی ہو تو کچھ پوریاں ووریاں لادوں، کھاؤ گی؟ میں تو ادھر ہوٹل میں کھا آیا۔‘
میں نے کہا کہ، ’خدا کے لیے مجھے میرے گھر پہنچا دو، میں باز آئی اس موئی دلی کی سیر سے۔۔ تمہارے ساتھ تو کوئی جنت میں بھی نہ جائے، اچھی سیر کرانے لائے تھے۔‘ فرید آباد کی گاڑی تیار تھی اس میں مجھے بٹھا اور منہ پھلا لیا کہ، ’’تمہاری مرضی، سیر نہیں کرتیں تو نہ کرو!‘‘

(مطبوعہ: 1936)

Tags:

#emotional storyaddiction of novelsEducationemotional moral stories in urduemotional stories in urduinformationromantic novels in urduromantic urdu novelromantic urdu novelsthe prisoner of zenda urdu translationthink and grow rich translationtop 10 urdu romantic novelUrduurdu audio booksurdu audio novelsurdu audiobooksurdu emotional novelsurdu kahaniurdu novels romanticurdu romantic novelurdu romantic novels
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
gaza-israel-and-palestine-children-future
Previous

خوفِ جہنم سے بے نیاز طفلانِ غزہ

The-fascinating-history-of-lipstick-and-the-story-of-the-discovery-of-the-worlds-oldest-lipstick-in-Iran
Next

لپ اسٹک کی دلچسپ تاریخ اور ایران میں دنیا کی قدیم ترین لپ اسٹک دریافت کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme