Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Let-us-introduce-you-to-four-thousand-year-old-bureaucrats
تاریخاہم ترینتازہ ترینخبریں

آئیے، آپ کو چار ہزار سال قدیم بیوروکریٹس سے ملواتے ہیں۔۔

By Akhtar Rasool
مارچ 18, 2025 4 Min Read
0

دنیا میں جہاں کہیں بھی سرخ فیتہ، فائلوں کے ڈھیر، اور دفتری پیچیدگیاں نظر آتی ہیں، وہاں اکثر لوگ اسے جدید حکومتی نظام کی دَین سمجھتے ہیں، مگر اگر آپ کو بتایا جائے کہ یہ سب کچھ ہزاروں سال سے چل رہا ہے، تو شاید آپ حیران ہوں!

نئی دریافتوں کے مطابق، افسر شاہی کا نظام کم از کم چار ہزار سال پہلے بھی اتنا ہی مضبوط اور پیچیدہ تھا جتنا کہ آج ہے۔ برطانوی میوزیم اور عراق کے اسٹیٹ بورڈ آف اینٹیکویٹیز اینڈ ہیریٹیج کے ماہرین آثار قدیمہ نے میسوپوٹیمیا (آج کا عراق) میں قدیم سمیری شہر گرسو میں 200 سے زائد انتظامی تختیاں اور کسی شے کو مہر بند کرنے کے لیے استعمال ہونے والی سلنڈر مہروں کے نشانات دریافت کیے ہیں۔

یہ دریافتیں اس بات کا واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ تقریباً 2300 قبل مسیح سے 2150 قبل مسیح کے دوران اکادی سلطنت کے زیر انتظام سمیری شہر ایک منظم دفتری بیوروکریسی کے تحت چل رہے تھے۔ یعنی سرکاری دفاتر، ریکارڈ رکھنے کے اصول، منصوبہ بندی، مالیاتی امور، اور ریاستی کنٹرول کے وہی بنیادی ڈھانچے اُس وقت بھی موجود تھے، جو آج جدید حکومتوں کا حصہ ہیں۔

آج کے فائل ورک اور آڈٹ رپورٹس کی طرح، اس زمانے میں مٹی کی تختیوں پر تمام مالیاتی اور انتظامی ریکارڈ محفوظ کیے جاتے تھے۔ ان تختیوں پر تکونی (Cuneiform) رسم الخط میں حسابات درج تھے، جن میں درج ذیل تفصیلات شامل تھیں:
● زمین کی تقسیم اور زرعی پیداوار
● جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کا ریکارڈ
● خوراک، گندم، جو، آٹے، اور بیئر کی ترسیل
● اون اور کپڑوں کا حساب
● ملازمین اور کاریگروں کی فہرستیں

یہ بالکل وہی دفتری انداز ہے جس میں آج بھی حکومتیں ٹیکس، تجارت، اور عوامی خدمات کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔

اگرچہ یہ تحریریں سمیری ادب کے کسی عظیم شاہکار، مثال کے طور پر گلگامش کے رزمیہ کی طرح نہیں، لیکن برطانوی عجائب گھر میں قدیم میسوپوٹیمیا کے کیوریٹر اور گرسو پروجیکٹ کے ڈائریکٹر سباسٹیئن رے کے مطابق ”اس کے باوجود یہ انتہائی اہم ہیں۔“

سباسٹیئن رے کا کہنا ہے ”یہ تختیاں ہمیں نہ صرف قدیم ریاستی معاملات کے بارے میں بتاتی ہیں بلکہ ہمیں اُن افراد کے حقیقی نام، ان کے پیشے، اور روزمرہ زندگی کی جھلک بھی دکھاتی ہیں جو ہزاروں سال پہلے اس بیوروکریسی کا حصہ تھے۔“

گرسو اُس دور کے سب سے قدیم شہروں میں سے ایک تھا اور سمیریوں کے دیوتا نینگرسو کا مقدس مقام سمجھا جاتا تھا۔ اپنے عروج کے دور میں یہ سینکڑوں ہیکٹر زمین پر پھیلا ہوا تھا۔ جب 2300 قبل مسیح میں مشہور بادشاہ سرگونِ اکاد نے میسوپوٹیمیا پر قبضہ کیا، تو گرسو کو اکادی سلطنت کے بیوروکریٹک نظام میں شامل کر لیا گیا۔ گرسو کا یہ قدیم سمیری شہر آج کے تیلو (Tello) کے علاقے میں واقع ہے۔

سرگون کی سلطنت 150 سال تک قائم رہی اور پھر ایک بغاوت کے نتیجے میں زوال پذیر ہو گئی، لیکن اس کے اثرات بعد کی تہذیبوں پر بھی رہے۔ آج کے بغداد کے قریب موجود قدیم اکاد شہر اس سلطنت کا دارالحکومت تھا، مگر حیرت انگیز طور پر اس کی درست جگہ اب بھی معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

اس قدیم بیوروکریسی کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ سرکاری معیارات اور پیمائش کے اصول بھی مقرر کیے گئے تھے۔ اکادی سلطنت نے ایک مخصوص پیمائشی اکائی ”اکاد گُر“ متعارف کرائی، جو آٹا اور جو کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے آج ہم میٹر، کلوگرام، یا پاؤنڈ جیسی پیمائشی اکائیوں کو استعمال کرتے ہیں۔

سباسٹیئن رے کا کہنا ہے کہ یہ معیاری نظام اس بات کی علامت ہے کہ سلطنت کو ہر چیز پر براہِ راست کنٹرول حاصل تھا۔

دریافت شدہ تختیاں ایک ایسی سرکاری آرکائیو بلڈنگ میں پائی گئیں، جس کی دیواریں کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں اور اس میں مختلف دفاتر موجود تھے۔

ماہرین نے یہاں عمارتوں کے نقشے، زرعی کھیتوں کی منصوبہ بندی، اور نہری نظام کے ڈیزائن بھی دریافت کیے ہیں، جو کہ قدیم دنیا میں نقشہ سازی (Cartography) کی ابتدائی ترین مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔

یہ تمام دریافتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ چار ہزار سال پہلے بھی حکومتیں منصوبہ بندی کرتی تھیں، ریکارڈ محفوظ رکھتی تھیں، اور اپنے وسائل کی گنتی میں دلچسپی رکھتی تھیں، بلکہ شاید اس وقت بھی کچھ افسران کام سے جی چراتے ہوں گے اور کچھ لوگ سرخ فیتے کی پیچیدگیوں سے تنگ آ کر شکایت کرتے ہوں گے!

یہ دریافتیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ افسر شاہی کی جڑیں تاریخ میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ بیوروکریسی ایک جدید ایجاد ہے، لیکن حقیقت میں یہ قدیم زمانے سے ہی انسان کی منظم سوسائٹی کی ’ضرورت‘ سمجھی جاتی رہی ہے۔

چاہے وہ میسوپوٹیمیا کے کاتب ہوں یا آج کے سرکاری کلرک، بنیادی کام ریاست کے معاملات کو سنبھالنا اور ان کا ریکارڈ رکھنا ہی تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہمارے پاس مٹی کی تختیاں نہیں بلکہ کمپیوٹر اور ڈیجیٹل فائلیں ہیں۔

اور شاید ہزاروں سال بعد کوئی نئی تہذیب ہماری بچی کھچی فائلیں یا ڈیٹا دیکھ کر یہی نتیجہ نکالے گی کہ: ”انسان ہمیشہ سے ایک بیوروکریٹک مخلوق رہا ہے!“

Tags:

Administrative AuthorityAdministrative OfficesAdministrative TabletsAgricultural economyAgricultural PlanningAkkadian CultureAkkadian EmpireAkkadian GurAkkadian TerritoriesAncient AuditingAncient BureaucracyAncient Civil Recordsancient civilizationsAncient GovernmentAncient IraqAncient LawsAncient Measurement SystemsAncient RegulationsAncient State ControlAncient Supply Chainsarchaeological discoveriesBabylonian InfluenceBritish MuseumBureaucratic ComplexityBureaucratic EvolutionBureaucratic LegacyCentralized AuthorityCity-State AdministrationCity-State GovernanceCivil EngineeringCivil ServicesClay TabletsClerical DutiesClerical WorkConstruction PlanningCuneiform RecordsCylinder SealsEarly BankingEarly CartographyEarly DiplomacyEarly Office SystemsEarly Writing SystemsEconomic PoliciesEconomic RecordsEmpire ManagementFinancial ManagementFood DistributionGirsu CityGovernance FrameworkGovernance in AntiquityGovernance ModelsGovernment ArchivesGovernment Oversightgovernment planningGovernmental HierarchiesHistoric Accountinghistorical continuityhistorical documentationHistorical GovernanceImperial RecordsIrrigation PlanningLand DistributionLegacy of BureaucracyLegal CodificationsMesopotamian BureaucracyMesopotamian CitiesMesopotamian EconomyMilitary BureaucracyOfficial CorrespondenceOfficial DocumentationOfficial SealsPalace Administrationpolitical historyPublic AdministrationRation SystemsRecord KeepingRecord-Keeping PracticesRed Tape HistoryReligious BureaucracyResource managementRoyal ArchivesRoyal DecreesRoyal DirectivesSargon of AkkadScribe TraditionsSocial StructureStandardized UnitsStandardized WeightsState ArchivesState controlState PoliciesState-Owned IndustriesState-Owned ResourcesSumerian AdministrationTax CollectionTaxation HistoryTemple EconomyTrade AgreementsTrade DocumentationTrade Regulationsurban developmenturban planningWorkforce ManagementWorkforce Supervision
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Growing-female-genocide-in-Dera-Bugti
Previous

ڈیرہ بگٹی میں بڑھتی خواتین ’نسل کشی‘

Slavery-in-America-from-which-one-could-only-be-freed-by-death
Next

امریکہ میں غلامی، جس سے مر کر ہی رہائی ملتی تھی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme