
دنیا میں جہاں کہیں بھی سرخ فیتہ، فائلوں کے ڈھیر، اور دفتری پیچیدگیاں نظر آتی ہیں، وہاں اکثر لوگ اسے جدید حکومتی نظام کی دَین سمجھتے ہیں، مگر اگر آپ کو بتایا جائے کہ یہ سب کچھ ہزاروں سال سے چل رہا ہے، تو شاید آپ حیران ہوں!
نئی دریافتوں کے مطابق، افسر شاہی کا نظام کم از کم چار ہزار سال پہلے بھی اتنا ہی مضبوط اور پیچیدہ تھا جتنا کہ آج ہے۔ برطانوی میوزیم اور عراق کے اسٹیٹ بورڈ آف اینٹیکویٹیز اینڈ ہیریٹیج کے ماہرین آثار قدیمہ نے میسوپوٹیمیا (آج کا عراق) میں قدیم سمیری شہر گرسو میں 200 سے زائد انتظامی تختیاں اور کسی شے کو مہر بند کرنے کے لیے استعمال ہونے والی سلنڈر مہروں کے نشانات دریافت کیے ہیں۔
یہ دریافتیں اس بات کا واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ تقریباً 2300 قبل مسیح سے 2150 قبل مسیح کے دوران اکادی سلطنت کے زیر انتظام سمیری شہر ایک منظم دفتری بیوروکریسی کے تحت چل رہے تھے۔ یعنی سرکاری دفاتر، ریکارڈ رکھنے کے اصول، منصوبہ بندی، مالیاتی امور، اور ریاستی کنٹرول کے وہی بنیادی ڈھانچے اُس وقت بھی موجود تھے، جو آج جدید حکومتوں کا حصہ ہیں۔
آج کے فائل ورک اور آڈٹ رپورٹس کی طرح، اس زمانے میں مٹی کی تختیوں پر تمام مالیاتی اور انتظامی ریکارڈ محفوظ کیے جاتے تھے۔ ان تختیوں پر تکونی (Cuneiform) رسم الخط میں حسابات درج تھے، جن میں درج ذیل تفصیلات شامل تھیں:
● زمین کی تقسیم اور زرعی پیداوار
● جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کا ریکارڈ
● خوراک، گندم، جو، آٹے، اور بیئر کی ترسیل
● اون اور کپڑوں کا حساب
● ملازمین اور کاریگروں کی فہرستیں
یہ بالکل وہی دفتری انداز ہے جس میں آج بھی حکومتیں ٹیکس، تجارت، اور عوامی خدمات کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔
اگرچہ یہ تحریریں سمیری ادب کے کسی عظیم شاہکار، مثال کے طور پر گلگامش کے رزمیہ کی طرح نہیں، لیکن برطانوی عجائب گھر میں قدیم میسوپوٹیمیا کے کیوریٹر اور گرسو پروجیکٹ کے ڈائریکٹر سباسٹیئن رے کے مطابق ”اس کے باوجود یہ انتہائی اہم ہیں۔“
سباسٹیئن رے کا کہنا ہے ”یہ تختیاں ہمیں نہ صرف قدیم ریاستی معاملات کے بارے میں بتاتی ہیں بلکہ ہمیں اُن افراد کے حقیقی نام، ان کے پیشے، اور روزمرہ زندگی کی جھلک بھی دکھاتی ہیں جو ہزاروں سال پہلے اس بیوروکریسی کا حصہ تھے۔“
گرسو اُس دور کے سب سے قدیم شہروں میں سے ایک تھا اور سمیریوں کے دیوتا نینگرسو کا مقدس مقام سمجھا جاتا تھا۔ اپنے عروج کے دور میں یہ سینکڑوں ہیکٹر زمین پر پھیلا ہوا تھا۔ جب 2300 قبل مسیح میں مشہور بادشاہ سرگونِ اکاد نے میسوپوٹیمیا پر قبضہ کیا، تو گرسو کو اکادی سلطنت کے بیوروکریٹک نظام میں شامل کر لیا گیا۔ گرسو کا یہ قدیم سمیری شہر آج کے تیلو (Tello) کے علاقے میں واقع ہے۔
سرگون کی سلطنت 150 سال تک قائم رہی اور پھر ایک بغاوت کے نتیجے میں زوال پذیر ہو گئی، لیکن اس کے اثرات بعد کی تہذیبوں پر بھی رہے۔ آج کے بغداد کے قریب موجود قدیم اکاد شہر اس سلطنت کا دارالحکومت تھا، مگر حیرت انگیز طور پر اس کی درست جگہ اب بھی معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
اس قدیم بیوروکریسی کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ سرکاری معیارات اور پیمائش کے اصول بھی مقرر کیے گئے تھے۔ اکادی سلطنت نے ایک مخصوص پیمائشی اکائی ”اکاد گُر“ متعارف کرائی، جو آٹا اور جو کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے آج ہم میٹر، کلوگرام، یا پاؤنڈ جیسی پیمائشی اکائیوں کو استعمال کرتے ہیں۔
سباسٹیئن رے کا کہنا ہے کہ یہ معیاری نظام اس بات کی علامت ہے کہ سلطنت کو ہر چیز پر براہِ راست کنٹرول حاصل تھا۔
دریافت شدہ تختیاں ایک ایسی سرکاری آرکائیو بلڈنگ میں پائی گئیں، جس کی دیواریں کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں اور اس میں مختلف دفاتر موجود تھے۔
ماہرین نے یہاں عمارتوں کے نقشے، زرعی کھیتوں کی منصوبہ بندی، اور نہری نظام کے ڈیزائن بھی دریافت کیے ہیں، جو کہ قدیم دنیا میں نقشہ سازی (Cartography) کی ابتدائی ترین مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔
یہ تمام دریافتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ چار ہزار سال پہلے بھی حکومتیں منصوبہ بندی کرتی تھیں، ریکارڈ محفوظ رکھتی تھیں، اور اپنے وسائل کی گنتی میں دلچسپی رکھتی تھیں، بلکہ شاید اس وقت بھی کچھ افسران کام سے جی چراتے ہوں گے اور کچھ لوگ سرخ فیتے کی پیچیدگیوں سے تنگ آ کر شکایت کرتے ہوں گے!
یہ دریافتیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ افسر شاہی کی جڑیں تاریخ میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ بیوروکریسی ایک جدید ایجاد ہے، لیکن حقیقت میں یہ قدیم زمانے سے ہی انسان کی منظم سوسائٹی کی ’ضرورت‘ سمجھی جاتی رہی ہے۔
چاہے وہ میسوپوٹیمیا کے کاتب ہوں یا آج کے سرکاری کلرک، بنیادی کام ریاست کے معاملات کو سنبھالنا اور ان کا ریکارڈ رکھنا ہی تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہمارے پاس مٹی کی تختیاں نہیں بلکہ کمپیوٹر اور ڈیجیٹل فائلیں ہیں۔
اور شاید ہزاروں سال بعد کوئی نئی تہذیب ہماری بچی کھچی فائلیں یا ڈیٹا دیکھ کر یہی نتیجہ نکالے گی کہ: ”انسان ہمیشہ سے ایک بیوروکریٹک مخلوق رہا ہے!“