
پانی کی تاریخ ہمیشہ جغرافیہ سے شروع ہوتی ہے، مگر اس کا انجام سیاست پر ہوتا ہے۔ کراچی اس حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے، ایک ایسا شہر جس کی پیاس محض فطری نہیں، بلکہ انسانی فیصلوں کی پیداوار ہے۔ آج جب ہم پانی کے عالمی دن پر اس بحران کو دیکھتے ہیں تو یہ سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کراچی کی کہانی صرف ایک شہر کی نہیں، بلکہ دریا، پہاڑ اور اقتدار کے درمیان جاری ایک طویل کشمکش کی کہانی ہے۔
کراچی کبھی پانی سے محروم شہر نہیں تھا۔ اس کی بنیاد ایک ایسے مربوط آبی نظام پر تھی جس کی ابتدا کیرتھر رینج کی پہاڑیوں سے ہوتی تھی۔ بارش ان پہاڑوں پر گرتی، ندی نالوں میں ڈھلتی، اور پھر زمین کے اندر اتر کر ایک خاموش ذخیرے کی صورت اختیار کر لیتی۔ یہی پانی کنوؤں اور چشموں کے ذریعے شہر تک پہنچتا—ایک ایسا نظام جو نہ صرف پائیدار تھا بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ بھی تھا۔
اسی نظام کی سب سے نمایاں علامت ملیر کے ڈملوٹی ویلز "Dumloti Wells” تھے، جنہوں نے ایک صدی سے زائد عرصے تک کراچی کو پانی فراہم کیا۔ یہ نظام برطانوی دور میں ترتیب دیا گیا، جب شہر کی بندرگاہی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا آبی ڈھانچہ قائم کیا گیا جو مقامی جغرافیہ سے ہم آہنگ تھا۔ ابتدا میں ملیر دریا کے اندر ایک کاریز سسٹم "جو قدیم اور جدید پانی رسانی کا امتزاج تھا” کے ذریعے پانی کو شہر تک پہنچایا جاتا تھا۔ کوئی بھی ذی شعور انسان یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس وقت ملیر دریا اور اس کے اطراف کی زمینوں میں پانی کی کس قدر فراوانی رہی ہوگی۔ آج بھی ملیر کے سینے میں اس کاریز کے آثار اس ریاستی بے حسی کی خاموش تصویر بنے ہوئے ہیں۔
ڈملوٹی کے کنویں اس بات کا ثبوت تھے کہ اگر پانی کے بہاؤ کو سمجھا جائے تو زمین خود ایک خزانہ بن سکتی ہے۔ مگر اس خزانے کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو ہم عموماً اپنی قدرتی میراث کے ساتھ کرتے ہیں، اسے نظرانداز کیا گیا، اس کے گرد کے نظام کو توڑا گیا، اور پھر اسے ناکارہ قرار دے دیا گیا۔
ڈملوٹی کا زوال کسی ایک دن کا واقعہ نہیں تھا۔ یہ ایک مسلسل عمل تھا جس میں ملیر دریا کے بہاؤ کو روکا گیا، اس کے کناروں کو تعمیرات کی نذر کیا گیا، اور اس کے قدرتی راستوں کو مسدود کر دیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وہی ملیر، جو کبھی شہر کو خوراک اور پانی دیتا تھا، ایک زخمی ندی کی صورت میں اپنی پہچان کھو چکا ہے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے، جب کسی دریا کو اس کے راستے سے ہٹایا جاتا ہے تو صرف پانی نہیں رکتا، بلکہ اس کے ساتھ جڑا ہوا پورا ماحولیاتی نظام ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی کچھ کراچی کے ساتھ ہوا۔ اور جب مقامی آبی نظام تباہ ہوا تو شہر کو ایک نئے سہارے کی ضرورت پڑی، یہ سہارا تھا دریا سندھ۔
اس کے ساتھ حب ڈیم بھی ایک ذریعہ بنا، جس کے ذریعے کراچی کو پانی فراہم کیا جانے لگا۔ اگرچہ حب ڈیم کی تعمیر نے حب ندی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کیا اور اس کے اپنے ماحولیاتی اثرات بھی سامنے آئے، مگر اس وقت اسے ایک قابلِ قبول حل سمجھا گیا۔
آج کراچی کا ستر سے اسی فیصد پانی اسی دریا سے آتا ہے۔ یعنی ایک ایسا شہر جو کبھی اپنے پہاڑوں اور اپنی زمین پر انحصار کرتا تھا، اب سینکڑوں کلومیٹر دور بہنے والے دریا کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ انحصار محض ایک انتظامی حل نہیں، بلکہ ایک خطرناک کمزوری بھی ہے۔
کیونکہ دریا سندھ آج خود ایک شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کا ڈیلٹا تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں سمندر تیزی سے زمین کو نگل رہا ہے اور لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ دریا کے پانی پر ڈیمز تعمیر ہو رہے ہیں، نئی نہریں نکالی جا رہی ہیں، اور پانی کی تقسیم ایک پیچیدہ سیاسی تنازع میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سندھ کے حصے کا پانی کم ہونے کا خدشہ صرف دیہی علاقوں کا مسئلہ نہیں، یہ براہِ راست کراچی کے مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے۔ یہاں پانی کے منصوبے K4 کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی، اس منصوبے کے حوالے سے کسی وقت بہت شور ہوا تھا، مگر اصل حقائق آج بھی منظر عام پہ نہیں آئے ـ اصل میں K4 کا منصوبہ جس روٹ پہ بنایا جا رہا ہے، جس طریقے سے کئی ماسٹر پلان بنائے گئے پچیس سے زائد منصوبے کے نقشے بنائے گئے اور K4 منصوبے پہ جتنا کام ہوا ہے، اس سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ پانی کا یہ منصوبہ کراچی کے لیئے نہیں بلکہ کراچی کے مضافات میں کمرشل ہاؤسنگ پراجیکٹس بحریہ ٹاؤن کراچی، اے ایس ایف سٹی، ڈی ایچ اے سٹی کراچی اور دوسرے سرمایہ داروں کے بنائے پراجیکٹس جیسے کہ ایجوکیشن سٹی کے لیئے، اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو یہیں تک محدود رہے گا ـ یہ اور بات ہے دریا سندھ زخموں سے چور ہو کر بھی پانی دے پاتا ہے کہ نہیں ـ
اگر دریا کے بہاؤ کو اسی طرح روکا جاتا رہا، اگر اس کے پانی کو مسلسل موڑا جاتا رہا، تو کراچی کا موجودہ آبی نظام بھی غیر مستحکم ہو جائے گا۔
یہ صورتحال ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے، کراچی نے پہلے اپنے مقامی پانی کے ذرائع کو کھویا، اور اب وہ ایک ایسے دریا پر انحصار کر رہا ہے جس کا اپنا وجود بھی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔
اور افسوسناک بات یہ ہے کہ وہی غلطیاں آج بھی جاری ہیں جنہوں نے اس بحران کو جنم دیا تھا۔
لیاری ندی کو تباہ کر کے سیوریج نالے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد کیرتھر سے نکلنے والی ندیاں، نالے اور ملیر دریا ہی وہ آخری قدرتی نظام تھے جو ملیر کے گرین زون، زیرِ زمین پانی اور کراچی کے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔ مگر ریتی بجری کی بے دریغ مائننگ نے اس پورے ایکولوجیکل نظام کو تباہ کر دیا ہے۔
ملیر دریا کے بہاؤ پر تعمیر ہونے والا بھٹو ایکسپریس وے محض ایک سڑک نہیں، بلکہ پانی کے قدرتی راستے میں ایک براہِ راست مداخلت ہے۔ اسی طرح کیرتھر نیشنل پارک اور اس کے اطراف جاری ریتی بجری کی مائننگ ایک خاموش تباہی ہے، جو زمین کے اس نظام کو کھوکھلا کر رہی ہے جس پر پانی کا انحصار ہوتا ہے۔ جب پہاڑوں کا سینہ چاک کیا جاتا ہے، جب ندیوں کے پیندے سے ریت نکالی جاتی ہے، تو دراصل پانی کے وہ راستے مٹا دیے جاتے ہیں جن کے ذریعے وہ زمین میں اتر کر ذخیرہ بنتا ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور خاموش بحران جنم لے چکا ہے، زیرِ زمین پانی کا تیزی سے ختم ہونا۔ کراچی میں بے قابو ٹیوب ویلز اور نجی بورنگ نے پانی کو اس رفتار سے نکالا ہے کہ زمین کو اسے دوبارہ جذب کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ریچارج زون ختم ہو چکے ہیں، اور پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا خسارہ ہے جس کی واپسی دہائیوں میں بھی ممکن نہیں۔
اسی کا ایک اور پہلو شہری سیلاب کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آج بارش پہلے سے زیادہ نہیں ہوئی، مگر تباہی زیادہ ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پانی کے قدرتی راستے ختم ہو چکے ہیں۔ جہاں کبھی پانی زمین میں جذب ہوتا تھا، آج وہاں کنکریٹ کھڑا ہے۔ نتیجہ یہ کہ پانی بہنے کے بجائے ٹھہرتا ہے، اور شہر ڈوب جاتا ہے۔
اس سب پر مستزاد موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ بارشوں کا نظام غیر متوازن ہو چکا ہے، کبھی طویل خشک سالی، کبھی اچانک شدید بارشیں۔ ایک ایسا شہر جس نے اپنے قدرتی نظام کو خود تباہ کیا ہو، وہ ایسے غیر متوقع موسمی جھٹکوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اور شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہا، یہ طاقت کا ذریعہ بن چکا ہے۔ کراچی میں پانی کی ترسیل اب ایک سیاسی اور معاشی کنٹرول کا نظام ہے، جہاں پانی تک رسائی بھی ایک اختیار ہے، اور اس اختیار کے پیچھے طاقت کے ڈھانچے کھڑے ہیں۔
یہ سب کچھ ہمیں ایک ایسے موڑ پر لے آیا ہے جہاں مسئلہ صرف پانی کی قلت کا نہیں رہا، بلکہ پانی کے پورے نظام کی بقا کا ہو چکا ہے۔
سوال اب یہ نہیں کہ کراچی کو پانی کہاں سے ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے پاس کوئی ایسا نظام باقی بچے گا جو پانی کو سنبھال سکے؟
اگر دریا سندھ پر دباؤ بڑھتا رہا، اگر کیرتھر کے پہاڑ اور ملیر کے بہاؤ اسی طرح متاثر ہوتے رہے، تو کراچی ایک ایسے شہر میں تبدیل ہو سکتا ہے جہاں پانی ایک مستقل بحران نہیں بلکہ ایک مستقل عدم دستیابی بن جائے گا۔
اس صورتحال میں واپسی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ تاہم جس سمت میں حالات بڑھ رہے ہیں، وہ اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں کراچی شاید ایک ایسا شہر بن جائے جہاں رہنا ہی مشکل ہو جائے۔
ڈملوٹی کے کنویں آج بھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوئے۔ اگر ملیر کے بہاؤ کو بحال کیا جائے، اگر کیرتھر کے قدرتی نظام کو تحفظ دیا جائے، اور اگر زمین کو دوبارہ پانی جذب کرنے کا موقع دیا جائے، تو یہ نظام کسی حد تک دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ہمیں ترقی کے اس تصور پر نظرثانی کرنا ہوگی جو ہر بہتے ہوئے راستے کو رکاوٹ سمجھتا ہے۔
کیونکہ پانی کو روکا نہیں جا سکتا، اسے صرف سمجھا جا سکتا ہے۔
اور اگر ہم نے اسے سمجھنے کے بجائے اسی طرح اس کے راستے بدلنے کی کوشش جاری رکھی، تو شاید آنے والا وقت ہمیں یہ موقع بھی نہ دے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کر سکیں۔




