انسانی تاریخ کا پوشیدہ المیہ: ہم تقسیم کی جبلت کے باوجود متحد کیسے ہوئے؟

سنگت ڈیسک

کیا آپ نے کبھی اس تضاد پر غور کیا ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی بحث، انتخابی معرکہ یا بین الاقوامی تنازع سر اٹھاتا ہے، تو ہمارا ذہن فوراً ایک فریق کا انتخاب کیوں کر لیتا ہے؟ "ہم بمقابلہ وہ” (Us vs. Them) کی یہ نفسیاتی خلیج محض ایک عادت نہیں، بلکہ انسانی جبلت کا قدیم ترین حصہ ہے۔ لیکن یہاں ایک فکر انگیز سوال پیدا ہوتا ہے: اگر انسان فطری طور پر گروہ بندی اور تقسیم کا اسیر ہے، تو پھر آج آٹھ ارب کی آبادی ایک ہی عالمی معاشی نظام، ایک ہی انٹرنیٹ اور ایک ہی قسم کے بین الاقوامی قوانین کے تابع کیسے ہو گئی؟

یوول نووا ہراری اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘سیپینز’ (Sapiens) میں ان قوتوں کی نشاندہی کرتے ہیں جنہوں نے انسانیت کو اس کے قبائلی حصاروں سے نکال کر ایک عالمی برادری میں بدل دیا۔ بطور ایک مؤرخ، یوول نووا ہراری کا ماننا ہے کہ اس ارتقاء کو سمجھے بغیر ہم اپنے حال کے تضادات کو کبھی حل نہیں کر پائیں گے۔

تقسیم کا ڈی این اے: قبائلی منطق اور بقا کی جنگ

انسانی تاریخ کے ابتدائی لاکھوں سال چھوٹے چھوٹے قبائل میں گزرے۔ اس دور میں اجنبیوں پر عدم اعتماد کرنا کوئی اخلاقی برائی نہیں بلکہ بقا کی ایک ٹھوس حکمتِ عملی تھی۔ جو آپ کے گروہ سے باہر تھا، وہ ممکنہ طور پر آپ کا دشمن تھا۔ ہراری کے مطابق، اس قدیم قبائلی منطق نے ہماری نفسیات پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جو آج بھی مٹنے کا نام نہیں لیتے۔

"کئی افریقی قبائل کا نام لفظی طور پر ‘دی پیپل’ (The People) تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ صرف ان کے اپنے قبیلے کے لوگ ہی ‘اصل انسان’ ہیں، جبکہ باقی سب کو انسانیت کے زمرے میں بمشکل ہی شمار کیا جاتا تھا۔”

آج کے دور میں قبائل کی جگہ قومیتوں، مسلکوں اور نظریات نے لے لی ہے۔ لیبل بدل گئے ہیں—پاکستانی بمقابلہ ہندوستانی، جدید بمقابلہ پسماندہ، لبرل بمقابلہ قدامت پسند—لیکن اس کے پیچھے کام کرنے والی قدیم قبائلی جبلت وہی ہے۔

سلطنتیں: تاریخ کی سب سے بڑی "اتحاد ساز مشینیں”

اس قبائلی قید کو پہلی بار جس طاقت نے توڑا، وہ ‘سلطنتیں’ (Empires) تھیں۔ اگرچہ سلطنتوں کا قیام جنگ و جدل اور انسانی استحصال کی مرہونِ منت تھا، لیکن ہراری انہیں تاریخ کی سب سے مؤثر "یونیفائنگ مشین” قرار دیتے ہیں۔ روم، فارس، چین اور مغل جیسی سلطنتوں نے جب علاقوں کو فتح کیا، تو انہوں نے صرف جغرافیہ نہیں بدلا بلکہ ایک مشترکہ شناخت تخلیق کی۔

ہر عظیم سلطنت ایک مخصوص ‘توسیعی چکر’ (Imperial Cycle) سے گزرتی ہے:

  1. فتح اور غلبہ: ایک عزمِ مصمم رکھنے والا گروہ طاقت کے بل پر سلطنت کی بنیاد رکھتا ہے۔
  2. ثقافتی یلغار و ترویج: فاتح اپنی زبان، قوانین اور اقدار کو ‘بہترین’ قرار دے کر مفتوحہ علاقوں میں رائج کرتا ہے۔
  3. قبولیت و انضمام: مفتوحہ لوگ آہستہ آہستہ اس نئی ثقافت اور طرزِ زندگی کو اپنا کر خود کو اس نظام کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
  4. حقوقِ مساوی کا مطالبہ: جب مفتوحہ لوگ مکمل طور پر اس ثقافت میں رنگ جاتے ہیں، تو وہ فاتحین کے برابر حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس مقام پر سلطنت یا تو ارتقاء پذیر ہو کر سب کو سمو لیتی ہے (جیسے روم میں 212ء میں تمام آزاد شہریوں کو شہریت دی گئی) یا پھر تضادات کے بوجھ سے ٹوٹ جاتی ہے۔

سلطنتیں سیاسی طور پر مٹ جاتی ہیں، لیکن ان کی ثقافتی اور لسانی میراث صدیوں تک انسانیت کو جوڑے رکھتی ہے۔

 برطانوی راج: ایک تکلیف دہ اور پیچیدہ سچائی

تاریخ کو صرف "خیر اور شر” کے دو خانوں میں تقسیم کرنا ایک دانشورانہ بددیانتی ہے۔ برطانوی راج اس کی کلاسیکی مثال ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ برطانوی سامراج نے برصغیر کا معاشی استحصال کیا اور یہاں کی صدیوں پرانی معیشت کو تباہ کیا۔ لیکن ایک "ناخوشگوار سچ” یہ بھی ہے کہ انہی انگریزوں نے ریلوے کا وہ نیٹ ورک دیا جس نے بکھرے ہوئے خطوں کو جوڑا، انگریزی زبان دی جو آج ہماری عالمی معاشی طاقت کا ذریعہ ہے، اور وہ قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جس پر ہماری جمہوریتیں کھڑی ہیں۔

ہماری جدید شناخت کا ایک بڑا حصہ اسی سامراجی دور کی پیداوار ہے جسے ہم ناپسند کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کی ہر عظیم تبدیلی تباہی اور تعمیر کا ایک ایسا مرکب ہوتی ہے جسے الگ کرنا ناممکن ہے۔

جدید "عالمی سلطنت” جس کا کوئی بادشاہ نہیں

آج ہم ایک ایسی عالمی سلطنت میں سانس لے رہے ہیں جس کا کوئی ایک مرکز یا بادشاہ نہیں ہے۔ ٹوکیو، نیروبی اور لندن میں بیٹھے لوگ ایک ہی آئی فون استعمال کرتے ہیں، ایک ہی فنانشل مارکیٹ سے جڑے ہیں اور واٹس ایپ کے ذریعے ایک ہی عالمی گاؤں کا حصہ ہیں۔

اس نئی عالمی سلطنت کے ستون ٹیکنالوجی، معیشت اور انسانی حقوق کے عالمی تصورات ہیں۔ لیکن یہ مکمل رابطہ کاری (Connectivity) اپنے ساتھ سنگین خطرات بھی لائی ہے۔ جب پورا نظام ایک لڑی میں پرو دیا جائے، تو ایک جگہ پیدا ہونے والا بحران خواہ وہ 2008 کا معاشی زوال ہو یا 2020 کی عالمی وبا, پلک جھپکتے میں پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ آج کوئی بھی ملک مکمل طور پر خود مختار نہیں، بلکہ سب اس عالمی نظام کے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

مذہب بطور "سماجی ٹیکنالوجی”

ہراری مذہب کو محض ایک شخصی عقیدہ نہیں، بلکہ ایک ایسی "سماجی ٹیکنالوجی” کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے لاکھوں اجنبیوں کو ایک نظم و ضبط میں پرو دیا۔ جب قوانین کو کسی ‘اعلیٰ طاقت’ کی سند مل جاتی ہے، تو ان پر عمل درآمد آسان ہو جاتا ہے۔

انسانی معاشرت کے ارتقاء کے ساتھ مذہب نے بھی کئی کروٹیں بدلیں:

  • کائنات پرستی (Animism): جب انسان خود کو قدرت کا ایک حصہ سمجھتا تھا اور ہر درخت و پتھر میں روح دیکھتا تھا۔
  • کثیر خدا پرستی (Polytheism): زراعت کے بعد جب مختلف طاقتوں (بارش، جنگ) کے لیے الگ الگ دیوتا مانے گئے۔ یہ نظام حیرت انگیز طور پر روادار تھا کیونکہ ایک گروہ کا خدا دوسرے کے لیے خطرہ نہیں تھا۔
  • توحید اور ثنویت (Monotheism vs Dualism): توحید نے ایک خدا اور ایک سچائی کا تصور دیا جس سے نظم و ضبط تو پیدا ہوا لیکن ‘شر’ (Evil) کی وضاحت کرنا مشکل ہو گیا۔ اس کے برعکس ‘ثنویت’ (Dualism) نے خیر اور شر کی دو آزاد قوتوں کے درمیان جنگ کو بنیاد بنایا، جو برائی کی وضاحت تو کرتی ہے لیکن کائنات کے عمومی نظم کو الجھا دیتی ہے۔
  • بدھ مت کا انقلاب: گوتم بدھ نے اس بحث کا رخ ہی بدل دیا اور کہا کہ مسئلہ خدا یا شیطان میں نہیں، بلکہ انسانی ‘ذہن’ میں ہے۔ ان کے مطابق دکھ کی اصل جڑ ہماری اپنی خواہشات اور لایعنی لگاؤ (Craving) ہیں۔

عالمگیر مذاہب (عیسائیت، اسلام، بدھ مت) نے جغرافیائی حدود کو مٹا کر انسانیت کو ایک مشترکہ مقصد اور شناخت عطا کی۔

جدید دور کے "مذاہب”: انسانیت پسندی کی تین شاخیں

جدید دور میں جب مرکزِ نگاہ ‘خدا’ سے ہٹ کر ‘انسان’ پر آ گیا، تو اس نے ‘انسانیت پسندی’ (Humanism) کو جنم دیا۔ لیکن یہاں بھی اتحاد کے بجائے تین متضاد نظریات سامنے آئے:

  1. لبرل ہیومنیزم: جو فرد کی آزادی اور حقوق کو سب سے مقدس خیال کرتا ہے۔
  2. سوشلسٹ ہیومنیزم: جو انفرادی آزادی کے بجائے اجتماعی برابری اور طبقہ اولیٰ کے حقوق پر زور دیتا ہے۔
  3. ارتقائی ہیومنیزم: جس کا ایک بھیانک ورژن نازی ازم کی صورت میں سامنے آیا، جہاں بعض انسانوں کو برتر اور بعض کو کمتر قرار دیا گیا۔

گویا کہانیوں کے کردار بدل گئے، لیکن انسان کی معنی اور مقصد کی تلاش آج بھی وہی ہے۔

 بعد از وقت دانائی کا مغالطہ اور تاریخ کا جبر

تاریخ کو پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سب کچھ بہت منطقی اور ناگزیر لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ قسطنطین کا عیسائیت قبول کرنا یا سلطنتِ روم کا زوال بالکل ویسے ہی ہونا تھا جیسے ہوا۔ لیکن اسے ہراری "بعد از وقت دانائی کا مغالطہ” (Hindsight Fallacy) کہتے ہیں۔ حقیقت میں تاریخ ایک "افراتفری کا نظام” (Chaotic System) ہے جہاں ایک چھوٹا سا اتفاق پورے مستقبل کا رخ بدل دیتا ہے۔

سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ انسانی فائدے کے لیے کام نہیں کرتی۔ نظریات—خواہ وہ قوم پرستی ہو یا مذہب—اکثر کسی ‘وائرس’ کی طرح پھیلتے ہیں۔ وہ اس لیے نہیں جیتتے کہ وہ انسانوں کو خوش رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے جیتتے ہیں کیونکہ ان میں پھیلنے اور بقا کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ ہم اکثر ان عظیم نظریات کے خالق نہیں، بلکہ محض ان کے "بردار” (Carriers) ہوتے ہیں۔

تاریخ کوئی سیدھی لکیر یا پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک الجھا ہوا اور غیر متوقع سفر ہے۔ ہم جس نظام کو آج ابدی سچائی سمجھتے ہیں، وہ کل کی گرد میں کہیں گم ہو سکتا ہے۔ تاریخ کو سمجھنے کا اصل فائدہ یہ نہیں کہ ہمیں گزرے ہوئے کل کا علم ہو، بلکہ یہ ہے کہ ہم آج کے دور میں رائج "کہانیوں” کی حقیقت کو پہچان سکیں۔

جاتے جاتے خود سے ایک سوال کیجئے: آپ آج جس مقصد، جس عقیدے یا جس نظریے کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں، کیا وہ واقعی آپ کی اپنی سوچ کا ثمر ہے؟ یا آپ بھی محض ایک ایسا میدانِ جنگ ہیں جہاں صدیوں پرانے نظریات ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں؟ سوچئے گا ضرور۔
__________________

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button