گرائپ واٹر: دادی کے ٹوٹکے سے لیبارٹری تک، ایک اتفاقیہ دریافت کی کہانی

سنگت ڈیسک

تصور کریں ایک ایسے دور کا جب پاکستان کے تقریباً ہر گھر کی الماری یا باورچی خانے کے کسی گوشے میں نیلے اور سفید کاغذ میں لپٹی ایک پراسرار بوتل لازمی موجود ہوتی تھی۔ یہ محض ایک شیشہ نہیں تھا، بلکہ ماؤں کے لیے سکون کا وہ استعارہ تھا جس پر ایک ننھا بچہ اپنے ہاتھوں میں دو سانپ جکڑے دکھائی دیتا تھا۔ جب بھی کوئی نومولود رات کے سناٹے میں اچانک بلک اٹھتا، پیٹ کے مروڑ سے تڑپتا یا دودھ ہضم نہ ہونے پر بے چین ہوتا، تو ممتا کے ہاتھ فوراً اسی شفاف مائع کی طرف بڑھتے۔ چمچ میں بھر کر پلایا جانے والا یہ ’گرائپ واٹر‘ گویا ایک جادوئی گھونٹ تھا جو خاندانوں کے نزدیک روتے ہوئے بچے کو فوری سکون اور پیٹ کی تکلیف سے نجات دلانے کا واحد ضامن سمجھا جاتا تھا۔ ووڈ ورڈز گرائپ واٹر کا یہ نام نسلوں کے بھروسے کی وہ داستان ہے جو آج کی جنریشن کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ہی ہر پاکستانی گھرانے کی تاریخ کا حصہ بن چکی تھی۔

گرائپ واٹر کی کہانی کسی طلسماتی داستان سے کم نہیں جس کا سفر انیسویں صدی کے برطانوی دوا خانوں سے شروع ہو کر آج کی جدید لیبارٹریوں تک پھیلا ہوا ہے۔

اس داستان کا آغاز 1851 میں ہوا جب ولیم ووڈورڈ نامی ایک انگریز فارماسسٹ، جو ان دنوں مشرقی انگلستان میں ملیریا اور فین فیور نامی بیماریوں کے علاج پر کام کر رہا تھا، نے اتفاقیہ طور پر ایک ایسا فارمولا دریافت کر لیا جس نے روتے ہوئے بچوں کی دنیا بدل دی۔ ووڈورڈ نے محسوس کیا کہ بخار کے لیے تیار کردہ اس آمیزے سے نہ صرف بچوں کی بے چینی ختم ہو رہی ہے بلکہ ان کے معدے کی تکلیف میں بھی حیرت انگیز افاقہ ہو رہا ہے۔

اس ابتدائی نسخے میں الکحل، چینی، سوڈیم بائی کاربونیٹ اور سویا کے تیل کا ایک ایسا امتزاج تھا جس نے اسے دیکھتے ہی دیکھتے ماؤں کی پسندیدہ ترین دوا بنا دیا۔ اشتہارات سے زیادہ یہ دوا دادیوں اور نانیوں کے ٹوٹکوں کے طور پر مشہور ہوئی، جس کا سلوگن ہی یہ تھا کہ دادی نے ماں کو بتایا اور ماں نے مجھے بتایا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس معجزاتی مشروب کی کیمسٹری بدلتی رہی۔ سترہویں صدی کی قدیم بیاضوں میں گرائپ واٹر کے جو نسخے ملتے ہیں، وہ آج کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہنگے تھے، جن میں درجنوں اقسام کے پھول، جڑی بوٹیاں اور مہنگے غیر ملکی مصالحے شامل کیے جاتے تھے۔

تاہم، بیسویں صدی کے اواخر انسانی شعور نے جب طبی سائنس کی قبا پہنی، بیسویں صدی کے اواخر میں اس کے اجزاء پر شکوک کے بادل منڈلانے لگے۔ سب سے بڑا محاذ اس میں موجود الکحل اور چینی کی مقدار پر کھلا۔ اسی تناظر میں برطانوی حکومت نے 1992 میں اور امریکی ایف ڈی اے نے 1993 میں اس کی درآمد اور اجزاء پر سخت پابندیاں عائد کیں، جس کے بعد اسے باقاعدہ دوا کے درجے سے ہٹا کر غذائی سپلیمنٹ کی فہرست میں دھکیل دیا۔

آج کا جدید گرائپ واٹر الکحل کے نشے سے پاک ہو کر ادرک، سونف اور لیمن بام کی قدرتی مہک سے سجا ہوا ہے، تاکہ معصوم جانوں کو جدید طبی معیار کے مطابق تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

گرائپ واٹر کے گرد گھومتی یہ بحث کسی سسپنس فلم کے اتار چڑھاؤ سے کم نہیں، جہاں آج کی طبی دنیا دو واضح حصوں میں منقسم نظر آتی ہے۔ ایک جانب وہ کروڑوں مائیں ہیں جو اسے اپنے بچے کی تکلیف کا واحد حل مانتی ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ محققین ہیں جو اسے محض ایک میٹھا واہمہ قرار دیتے ہیں۔ بھارت جیسے ممالک میں ہونے والی تحقیق نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کہیں یہ میٹھا پانی بچوں میں قبض یا الٹیوں کا سبب تو نہیں بن رہا؟ ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اسے صرف ایک عارضی مصلحت قرار دیتا ہے، جس کا میٹھا ذائقہ روتے ہوئے بچے کو خاموش تو کر دیتا ہے لیکن اس کے معدے کے اصل بگاڑ کو ٹھیک نہیں کرتا۔ اس علمی جنگ کے درمیان کولک کام جیسے ہومیوپیتھک برانڈز نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، جو روایتی میٹھے سوڈے کے بجائے ایکٹیویٹڈ چارکول کے ذریعے گیس کے بلبلوں کو قدرتی طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو اس صنعت میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

آج کی تاریخ میں گرائپ واٹر صرف شیشے کی بوتل میں بند ایک مائع نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے جو نسل در نسل سینوں میں محفوظ چلا آ رہا ہے۔ جہاں دورِ جدید کے ماہرینِ اطفال بچوں کو ڈکار دلانے، ٹانگوں کی ورزش کروانے اور جدید پروبائیوٹکس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں، وہیں گرائپ واٹر کی بوتل اب بھی دنیا بھر کی ماؤں کی پہلی امید بن کر الماریوں میں سجی رہتی ہے۔

غیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو یہ کہانی سائنس اور روایت کے درمیان جاری اس کشمکش کی ہے جو ہر دور میں والدین کو پیش آتی ہے۔ یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ چاہے طبی معیار بدل جائیں یا تحقیقات نئے رخ اختیار کر لیں، اپنے بچے کو آرام پہنچانے کی فطری تڑپ ہمیشہ ایسے ہی راستے تلاش کرتی رہے گی، جہاں کبھی تجربہ جیت جاتا ہے اور کبھی صدیوں پرانا بھروسہ۔

مینڈک کے آنتوں سے ملنے والا جرثومہ، کینسر کے علاج کے لیے نئی امید

 

سائنس اور روایت کی اس کشمکش میں حتمی فیصلہ اب بھی والدین اور ڈاکٹر کے مشورے پر منحصر ہے، کیونکہ ہر بچے کی طبیعت اور اس کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ گرائپ واٹر کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ کبھی کبھی اتفاقیہ دریافتیں صدیوں تک انسانی معاشرت کا حصہ بنی رہتی ہیں، چاہے ان کی افادیت پر بحث ختم نہ ہو۔

آخر میں گرائپ واٹر کے حوالے سے اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر منیر نیازی کا ذکر بھی کرتے چلیں، جن کی شخصیت میں بچوں جیسی حیرت اور بلا کی بے چینی سمائی ہوئی تھی۔ منیر نیازی، جو اپنی شاعری میں آسیب زدہ نگروں اور نیم وا دریچوں کی بات کرتے تھے، زندگی کی محفلوں میں بھی ایک الگ ہی رنگ رکھتے تھے۔ 1970 کی دہائی کے اواخر میں ملتان کے ایک مشاعرے کے بعد جب کچھ طلبہ ان کی ناز برداریوں سے تھکنے لگے، تو منیر نیازی نے اپنے مخصوص بیانیے میں اس طلسماتی مشروب کا ذکر چھیڑ کر سب کو حیران کر دیا۔ وہاں سے رخصت ہوتے وقت انہوں نے پنجابی زبان میں طلبہ سے بڑی معصومیت اور شوخی سے کہا، "اگر مجھے بلانا ہو تو گرائپ واٹر کا انتظام لازمی کیا کرو، کیونکہ اس کے بغیر میری زبان کی لکنت نہیں کھلتی۔”

منفرد اسلوب کے حامل شاعر کی اس گفتگو نے گرائپ واٹر کو محض ایک دوا کے خانے سے نکال کر ادب اور ظرافت کے پیراہن میں ڈھال دیا۔ منیر نیازی کا یہ جملہ اس تاریخی مشروب کی اس سماجی اور نفسیاتی حیثیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے جو صدیوں سے ہماری روایت کا حصہ چلی آرہی ہے۔ گرائپ واٹر کی کہانی چاہے ولیم ووڈورڈ کے برطانوی دوا خانے سے شروع ہوئی ہو یا جدید ہومیوپیتھک لیبارٹریوں تک پہنچی ہو، منیر نیازی جیسے تخلیق کاروں کے تذکرے اسے ایک ایسا انسانی لمس عطا کر دیتے ہیں جو اسے محض ایک طبی ضرورت کے بجائے ایک دلچسپ داستان بنا دیتا ہے۔ یوں گرائپ واٹر کی یہ کہانی سائنس، روایت اور ادب کے سنگم پر آج بھی اپنی تمام تر تاثیر اور تنازعات کے ساتھ زندہ ہے۔

______________________

______________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button