
جون 2026 کی ایک گرم رات، میکسیکو سٹی کے تاریخی اسٹیڈیو ازٹیکا میں جب افتتاحی سیٹی بجے گی تو دنیا محض ایک فٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز نہیں دیکھ رہی ہوگی، بلکہ ایک ایسے عالمی تماشے میں داخل ہو رہی ہوگی جس میں سیاست، سرمایہ، شہرت، قوم پرستی، میڈیا پاور، سپر اسٹار کلچر اور انسانی جذبات سب ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہوں گے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کئی حوالوں سے تاریخ کا سب سے غیر معمولی ورلڈ کپ ہے۔ پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہوں گی، پہلی بار تین ممالک – امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ میزبانی کریں گے، اور پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ فٹ بال اپنی اصل رومانویت اور جدید کارپوریٹ دنیا کے درمیان ایک عجیب کشمکش میں داخل ہو چکا ہے۔
لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ ٹرافی کون اٹھائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون اس دباؤ، اس شور، اس کاروبار اور اس پاگل پن کے درمیان اپنے اعصاب سلامت رکھ پائے گا؟ اور شاید اسی لیے کارلو اینچلوتی کا جملہ اس ورلڈ کپ کا سب سے سچا تعارف محسوس ہوتا ہے، ”ورلڈ کپ مکمل ٹیم نہیں جیتتی، کیونکہ مکمل ٹیم وجود ہی نہیں رکھتی۔“
یہ وہ ورلڈ کپ بھی ہوگا جس میں شاید آخری بار لیونیل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے دو عہد ساز نام ایک ہی عالمی اسٹیج پر دکھائی دیں۔ پچھلے پندرہ برسوں میں فٹ بال کی پوری کائنات انہی دو ستاروں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اب وقت بدل رہا ہے۔ ایک نئی نسل دروازہ پِیٹ رہی ہے۔ لامین یامال، اینڈرک، نیکو پاز، ڈیزائر ڈوئے اور پیڈری جیسے نوجوان کھلاڑی صرف مستقبل نہیں، بلکہ حال پر قبضہ کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ یہ ورلڈ کپ شاید صرف ایک چیمپیئن کا فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ اگلے دس برس فٹ بال کی زبان کون بولے گا۔
کون کتنے پانی میں؟
فیفا ورلڈ کپ 2026 محض ایک اور عالمی ٹورنامنٹ نہیں بلکہ فٹ بال کی نئی عالمی طاقتوں، پرانی سلطنتوں اور ابھرتے ہوئے خوابوں کا سب سے بڑا امتحان بننے جا رہا ہے۔ کہیں فرانس اپنی رفتار اور گہرائی کے ساتھ میدان میں اترے گا، کہیں ارجنٹینا ایک بار پھر میسی کے آخری جادو پر یقین کرے گا، جبکہ اسپین، برازیل اور جرمنی جیسی روایتی طاقتیں اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس پانے کی کوشش کریں گی۔ لیکن ورلڈ کپ ہمیشہ صرف بڑے ناموں کی کہانی نہیں ہوتا؛ ہر بار کوئی نہ کوئی خاموش ٹیم اچانک دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون سب سے مضبوط فیورٹ ہے، بلکہ یہ بھی کہ کون دباؤ، اعصاب اور توقعات کے اس طوفان میں سب سے دیر تک کھڑا رہ پائے گا۔ تو آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں۔
فرانس: اگر اس وقت دنیا کی سب سے مکمل، سب سے خطرناک اور سب سے متوازن ٹیم کا نام لیا جائے تو زیادہ تر ماہرین بغیر توقف فرانس کا نام لیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی ایک ٹیم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ باقی دنیا سے آدھا قدم آگے کھڑی ہے، تو وہ فرانس ہے۔ ڈیڈیئر ڈیشامپ کی ٹیم گزشتہ ایک دہائی سے عالمی فٹ بال میں ایسی مستقل مزاجی دکھا رہی ہے جو قومی ٹیموں میں شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔ 2018 کا عالمی ٹائٹل، 2022 کا سنسنی خیز فائنل اور اب 2026 میں عالمی نمبر ایک کی حیثیت، ان حقائق کی روشنی میں فرانس اس وقت صرف ایک ٹیم نہیں بلکہ ایک فٹ بال مشین دکھائی دیتا ہے جس کے ہر پرزے میں الگ تباہی چھپی ہوئی ہے۔
فرانس کی اصل دہشت صرف اس کی جیتنے کی عادت نہیں، بلکہ اس کے اٹیک کی گہرائی ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ فرانس کے پاس صرف ایک اسٹار نہیں، بلکہ کئی سپر اسٹار موجود ہیں۔ کائلین ایمباپے اب بھی دنیا کے سب سے تباہ کن فارورڈز میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ عثمان ڈیمبیلے نے گزشتہ دو برسوں میں خود کو ایک مکمل اٹیکنگ ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ مائیکل اولیسے، رایان چرکی اور نوجوان ڈیزائر ڈوئے جیسی نئی نسل اس ٹیم کو مزید خطرناک بناتی ہے۔ مارچ میں امریکہ میں کھیلے گئے دوستانہ میچز میں فرانس نے پہلے برازیل کو شکست دی، پھر مکمل مختلف لائن اپ کے ساتھ کولمبیا کو بھی ہرا دیا۔ یہ وہ اشارہ تھا جس نے دنیا کو یاد دلایا کہ فرانس کے پاس صرف ”پہلی ٹیم“ نہیں بلکہ تقریباً دو عالمی معیار کی ٹیمیں موجود ہیں۔
اور پھر ایک جذباتی عنصر بھی ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ڈیڈیئر ڈیشامپ کا آخری ورلڈ کپ ہوگا۔ 2012 سے فرانس کی کوچنگ کرنے والے ڈیشامپ پہلے ہی بطور کھلاڑی اور کوچ دونوں حیثیتوں میں ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔ فٹ بال اکثر اپنے عظیم کرداروں کو ڈرامائی رخصت دیتا ہے، اور فرانس چاہے گا کہ اس کہانی کا اختتام ایک اور ٹرافی کے ساتھ ہو۔
اسپین: دوسری جانب اسپین کو کھیلتے دیکھنا بعض اوقات ایسا لگتا ہے جیسے کوئی عظیم موسیقار آرکسٹرا چلا رہا ہو۔ ہر پاس ایک سوچ کے تحت، ہر حرکت ایک ترتیب کے ساتھ، اور ہر کھلاڑی ایک بڑے ڈیزائن کا حصہ۔ یورو 2024 جیتنے کے بعد سے اسپین ناقابلِ شکست ہے اور لوئس ڈی لا فوینتے نے اس ٹیم کو صرف خوبصورت نہیں بلکہ عملی طور پر مہلک بنا دیا ہے۔
اس ٹیم کی سب سے بڑی علامت 18 سالہ لامین یامال ہیں، جنہیں کئی لوگ پہلے ہی میسی کے بعد فٹ بال کا سب سے بڑا جادوگر قرار دینے لگے ہیں۔ بارسلونا کا یہ ونگر ایسی بے خوفی کے ساتھ کھیلتا ہے جو عموماً عظیم کھلاڑیوں میں بھی کم نظر آتی ہے۔ تاہم ان کی ہیم اسٹرنگ انجری نے اسپین کے خدشات بڑھا دیے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ گروپ مرحلے کے ابتدائی میچز سے باہر رہ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اسپین کے حملے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، لیکن اس ٹیم کی اصل طاقت شاید اس کا اجتماعی توازن ہے۔
پیڈری اور روڈری جیسے کھلاڑی اسپین کو وہ ذہانت دیتے ہیں جو صرف عظیم ٹیموں میں ہوتی ہے۔ پیڈری اب صرف ایک اچھے مڈفیلڈر نہیں رہے بلکہ وہ اس نسل کے بہترین ”میچ کنٹرولرز“ میں شمار ہوتے ہیں۔ پیڈری ان کھلاڑیوں میں سے ہیں جو گیند کو صرف پاس نہیں کرتے، بلکہ میچ کی رفتار لکھتے ہیں۔ بارسلونا کے اس مڈفیلڈر نے خود کو زاوی ہرنینڈز کے فکری وارث کے طور پر منوا لیا ہے۔ اگر سپین یہ ورلڈ کپ جیتتا ہے، تو شاید تاریخ اسے ”یامال کا ٹورنامنٹ“ نہیں بلکہ ”پیڈری کا ورلڈ کپ“ کہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپین کے کئی اہم کھلاڑی اب بارسلونا اور مانچسٹر سٹی کے جدید پوزیشنل فٹ بال سسٹمز میں پروان چڑھ چکے ہیں، اسی لیے یہ ٹیم گیند کے بغیر بھی اتنی ہی منظم دکھائی دیتی ہے جتنی گیند کے ساتھ۔
ارجنٹینا: اب کچھ ذکر دنیائے فٹبال کے تخت پر براجمان ارجنٹینا کا۔۔ 2022 میں قطر کے آسمان تلے لیونیل میسی نے وہ تصویر مکمل کی تھی جس کا انتظار دنیا تقریباً دو دہائیوں سے کر رہی تھی۔ اب 2026 میں وہ 39 برس کے ہو چکے ہیں۔ ان کی چال بدل گئی ہے، رفتار قدرے کم ہوئی ہے، لیکن شاید ان کی ذہانت پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ میسی عظیم ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جسم اب بھی دل کے خوابوں کا ساتھ دے سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ امریکہ اب ان کے لیے اجنبی سرزمین نہیں رہی۔ انٹر میامی میں وہ ایک سپر اسٹار سے زیادہ ایک ثقافتی مظہر بن چکے ہیں۔ ان کی موجودگی نے امریکی فٹ بال کی معیشت بدل دی، ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھا دیں اور ایم ایل ایس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
لیکن ارجنٹینا کی اصل طاقت اب صرف میسی نہیں رہے۔ فٹبال کی دنیا کے بہترین کوچز میں سے ایک لیونل سکالونی نے گزشتہ دو برسوں میں ٹیم کو میسی پر مکمل انحصار سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور ایک ایسی ٹیم بنائی ہے جو جذبات، نظم، منصوبہ بندی اور مہارت کا امتزاج ہے۔ یہی چیز انہیں ایک بار پھر خطرناک بناتی ہے۔ لاوتارو مارٹینیز اور جولین الواریز جدید فٹ بال کے دو مختلف لیکن مکمل اسٹرائیکرز ہیں، جبکہ نیکو پاز جیسے نوجوان کھلاڑی مستقبل کی امید سمجھے جا رہے ہیں۔ ریال میڈرڈ اکیڈمی سے نکلنے والا یہ نوجوان تکنیکی مہارت، وژن اور دور سے شاٹس کی صلاحیت کے باعث پہلے ہی یورپ کے بڑے کلبوں کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔
انگلینڈ: انگلینڈ شاید دنیا کی وہ واحد فٹ بال قوم ہے جہاں ہر ورلڈ کپ امید سے زیادہ نفسیاتی دباؤ لے کر آتا ہے۔ 1966 کے بعد سے ہر نسل نے یہی سنا کہ ”فٹبال گھر واپس آ رہا ہے“، لیکن ہر بار کچھ نہ کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔ کبھی پینلٹیز، کبھی دفاع، کبھی اعصاب اور بالآخر خواب بھی!
اب انگلینڈ نے اپنی قسمت جرمن کوچ تھامس ٹوخیل کے ہاتھ میں دی ہے۔ تھامس ٹوخیل ایک ایسے کوچ ہیں جو ٹیکٹیکل نظم اور نفسیاتی نظم دونوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انگلینڈ کے بے شمار انفرادی ستاروں کو ایک حقیقی ٹیم میں کیسے بدلا جائے۔
ہیری کین اس وقت اپنے کیریئر کی شاید بہترین فارم میں ہیں۔ بائرن میونخ کے لیے ان کے 58 گول کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، لیکن انگلینڈ کے لیے سوال ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ کیا ان کے ستارے بین الاقوامی دباؤ میں بھی ویسے ہی کھیل سکتے ہیں جیسے کلب فٹبال میں کھیلتے ہیں؟ جوڈ بیلنگھم اور کول پالمر کے سیزنز غیر مستقل رہے، دفاع میں اب بھی مسائل ہیں، لیکن پھر بھی انگلینڈ کی ٹیم اتنی ٹیلنٹ سے بھری ہوئی ہے کہ اسے نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ اس کے پاس ایک اور نام نیکو او ریلی بھی ہے، پیپ گارڈیولا نے اس نوجوان کو لیفٹ بیک سے حملہ آور ہتھیار بنا دیا ہے۔ کبھی کبھی ورلڈ کپ ایسے ہی غیر متوقع کرداروں سے بدل جاتا ہے۔
برازیل: برازیل سامبا کی گمشدہ روح کی مجسم تلاش بنا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں برازیل کا ایک اطالوی کوچ منتخب کرنا صرف کوچنگ فیصلہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی اعتراف تھا۔ دنیا کی ایک رومانوی فٹ بال قوم اس وقت اپنی شناخت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ 2002 کے بعد برازیل صرف ایک بار سیمی فائنل تک پہنچ سکا، اور 2014 میں جرمنی کے ہاتھوں 7-1 کی ذلت آمیز شکست اب بھی قومی یادداشت کا زخم ہے۔
برازیل کی قومی فٹ بال ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ اور مینیجر کارلو اینچلوٹی اب اس زخمی دیو کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اینچلوٹی کا سب سے بڑا ہتھیار شاید ان کی شخصیت ہے۔ وہ ڈریسنگ روم میں سکون پیدا کرتے ہیں، اور برازیل کو شاید اس وقت اسی سکون کی ضرورت ہے۔
وینیسیئس جونیئر اب اس ٹیم کے مرکزی چہرے ہیں، جبکہ نوجوان اینڈرک کو برازیل کا اگلا عظیم اسٹرائیکر سمجھا جا رہا ہے۔ اینڈرک کی جسمانی ساخت، جارحانہ انداز اور گول کے سامنے بے رحمانہ اعتماد نے لوگوں کو روماریو کی یاد دلانا شروع کر دی ہے۔ اگر وہ چل پڑا تو یہ ٹورنامنٹ اس کا عالمی تعارف بن سکتا ہے۔
پرتگال: اکتالیس برس کی عمر میں کرسٹیانو رونالڈو کا چھٹا ورلڈ کپ خود ایک حیرت ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ رونالڈو اب بھی ایک متاثر کن کھلاڑی ہیں یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کیا پرتگال اب بھی ان کے گرد گھومنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ٹیم کی اصل طاقت اس کا جدید، تخلیقی اور تکنیکی مڈفیلڈ ہے۔ وٹینیا، برونو فرنینڈیز، برنارڈو سلوا اور جواو نیویس جیسے کھلاڑی پرتگال کو شاید تاریخ کی سب سے متوازن پرتگالی ٹیم بناتے ہیں۔
لیکن ورلڈ کپ میں نفسیات اکثر ٹیکٹکس سے بڑی ہو جاتی ہے۔ اگر رونالڈو جذباتی مرکز بنے رہے تو وہ پرتگال کو اوپر اٹھا سکتے ہیں، لیکن اگر ٹیم ان کے گرد ضرورت سے زیادہ گھومتی رہی تو یہی چیز بوجھ بھی بن سکتی ہے۔
نیدرلینڈز: ورلڈ کپ کی بڑی بحثوں میں اکثر نیدرلینڈز کا نام شور سے نہیں لیا جاتا، لیکن یہی خاموشی انہیں خطرناک بناتی ہے۔ ڈچ فٹ بال ہمیشہ خوبصورتی، تکنیکی ذہانت اور ٹیکٹیکل انقلاب کی علامت رہا ہے، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں یہ ٹیم اکثر ”اچھی مگر ادھوری“ محسوس ہوتی رہی۔ اب صورتحال بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ جدید یورپی فٹ بال کے دباؤ، رفتار اور پوزیشنل کھیل نے نیدرلینڈز کو دوبارہ متعلقہ بنا دیا ہے۔ اس ٹیم کے پاس اب ایک ایسا توازن موجود ہے جس میں ورجل وین ڈائک جیسی قیادت، فرینکی ڈی یونگ جیسا دماغ اور نوجوان اٹیکنگ ٹیلنٹ ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ کئی پاور رینکنگز میں نیدرلینڈز کو ٹاپ چھ ٹیموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس ٹیم کی سب سے بڑی طاقت شاید یہ ہے کہ یہ اب ”ٹوٹل فٹ بال“ کی رومانوی یادگار بننے کے بجائے عملی اور نتیجہ خیز فٹ بال کھیل رہی ہے۔ اگر ان کا اٹیک بڑے میچوں میں اعصاب برقرار رکھ سکا تو نیدرلینڈز خاموشی سے سیمی فائنل تک جا سکتا ہے، اور وہاں سے ورلڈ کپ چند لمحوں کی کہانی بن جاتا ہے۔
مراکش: مراکش نے اب تک یہ ثابت کیا ہے کہ ہم بڑے ٹورنامنٹ میں صرف حاضری لگانے نہیں آتے۔ 2022 میں مراکش نے دنیا کو چونکا دیا تھا جب وہ ورلڈ کپ سیمی فائنل تک پہنچنے والی پہلی افریقی اور عرب ٹیم بن گئی۔ لیکن اب دلچسپ بات یہ ہے کہ مراکش کو صرف ”سرپرائز پیکج“ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ ایک سنجیدہ طاقت تصور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں مراکش نے یورپ میں پیدا ہونے والے دوہری شہریت رکھنے والے نوجوان ٹیلنٹس کو مسلسل اپنی طرف کھینچا ہے، اور حال ہی میں فرانسیسی نژاد نوجوان ایوب بوعدی کی شمولیت کو بھی بڑا بوسٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
اشرف حکیمی اب صرف ایک بہترین فل بیک نہیں بلکہ عالمی اسٹار ہیں، جبکہ سوفیان امرابط، عزالدین اوناحی اور نئی نسل کے کئی تکنیکی مڈفیلڈرز اس ٹیم کو یورپی معیار کے قریب لے آئے ہیں۔ مراکش کی اصل طاقت اس کی اجتماعی دفاعی نظم اور کاؤنٹر اٹیک کی بے رحمانہ رفتار ہے۔ اگر ان کا اعتماد برقرار رہا تو یہ ٹیم ایک بار پھر یورپ اور جنوبی امریکہ کی بڑی طاقتوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن سکتی ہے۔
یوراگوئے: یوراگوئے ہمیشہ ورلڈ کپ میں اپنی آبادی سے کہیں بڑی ٹیم دکھائی دیتی ہے۔ صرف ساڑھے تین کروڑ آبادی والا یہ ملک دو عالمی کپ جیت چکا ہے اور ہر نسل میں جنگجو فٹبالرز پیدا کرتا ہے۔ اب ان کے پاس مارسیلو بئیلسا جیسا کوچ موجود ہے، جو فٹ بال کے سب سے جنونی، پیچیدہ اور غیر متوقع دماغوں میں شمار ہوتا ہے۔
فیڈریکو والورڈے اس ٹیم کا دھڑکتا ہوا دل ہیں۔ ان کی توانائی، لمبے رنز اور میچ کے ہر حصے میں موجودگی یوراگوئے کو مختلف بناتی ہے۔ ڈارون نونیز اب بھی بے ترتیبی اور تباہی کا عجیب امتزاج ہیں – کبھی ناقابلِ یقین، کبھی مایوس کن۔ لیکن یہی غیر متوقع پن یوراگوئے کو خطرناک بناتا ہے۔ کئی تجزیہ نگار یوراگوئے کو ”ڈارک ہارس“ قرار دے رہے ہیں۔ اگر بئیلسا کی ہائی پریسنگ مشین بڑے میچوں میں کامیاب رہی تو یوراگوئے کسی بھی بڑی ٹیم کو باہر کر سکتا ہے۔
جاپان: ایک وقت تھا جب ایشیائی ٹیموں کو ورلڈ کپ میں محض ”محنتی“ سمجھا جاتا تھا، لیکن جاپان اب اس مرحلے سے آگے نکل چکا ہے۔ جاپان اب تکنیکی، جسمانی اور ٹیکٹیکل ہر سطح پر عالمی معیار کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کے زیادہ تر اہم کھلاڑی یورپ کی بڑی لیگز میں کھیل رہے ہیں اور یہی چیز ان کی رفتار اور نظم کو مختلف بناتی ہے۔
جاپان کی سب سے بڑی طاقت شاید اس کی اجتماعی ذہانت ہے۔ وہ اب صرف دفاعی فٹ بال نہیں کھیلتے بلکہ گیند کے ساتھ اعتماد سے کھیلتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے جرمنی، اسپین اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف متاثر کن نتائج حاصل کیے ہیں، جس کے بعد اب انہیں صرف ”اچھی ایشیائی سائیڈ“ نہیں سمجھا جاتا۔
اگر جاپان ناک آؤٹ مرحلے میں جلد کسی بڑے دیو سے نہ ٹکرایا تو یہ ٹیم کوارٹر فائنل یا اس سے آگے بھی جا سکتی ہے۔
کروشیا: ہر چند برس بعد دنیا سوچتی ہے کہ کروشیا کا سنہری دور ختم ہو چکا ہے، اور پھر کروشیا کسی نہ کسی طرح واپس آ جاتا ہے۔ 2018 کا فائنل، 2022 کی تیسری پوزیشن، یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی فٹ بال ثقافت کا نتیجہ ہے جو دباؤ میں بہتر کھیلتی ہے۔
لوکا موڈرچ اب 40 برس کے ہو چکے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہوگا۔ حالیہ سرجری کے باوجود وہ ابتدائی اسکواڈ میں شامل ہیں۔ لیکن کروشیا اب صرف موڈرچ کی ٹیم نہیں رہی۔ جوشکو گواردیول، میٹیو کووچیچ اور نئی نسل کے کئی کھلاڑی اس ٹیم کو نئی جان دے رہے ہیں۔
کروشیا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ٹیم کبھی گھبراتی نہیں۔ اضافی وقت، پینلٹیز، اعصابی دباؤ – یہ سب ان کے لیے معمول کی چیزیں بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی بڑی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے میں کروشیا کا سامنا نہیں چاہے گی۔
بیلجیئم: ایک زمانے میں بیلجیئم کو ”گولڈن جنریشن“ کہا جاتا تھا۔ کیون ڈی بروئنے، رومیلو لوکاکو، تھیبو کورتوا، یہ سب نام ایک خواب کی طرح لگتے تھے، لیکن یہ خواب کبھی مکمل نہ ہو سکا۔ اب 2026 شاید اس نسل کا آخری بڑا امتحان ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹیم بوڑھی ہو رہی ہے۔ لوکاکو انجری مسائل کا شکار رہے، جبکہ کئی ماہرین بیلجیئم کی دفاعی ساخت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی کیون ڈی بروئنے جیسے کھلاڑی ایک ہی پاس سے پورا ٹورنامنٹ بدل سکتے ہیں۔ اگر بیلجیئم جذباتی دباؤ سے آزاد ہو کر کھیلا تو یہ ٹیم خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر ماضی کی ناکامیاں ذہن پر سوار رہیں تو ان کا سفر جلد ختم بھی ہو سکتا ہے۔
ناروے: ناروے شاید اس ورلڈ کپ کا سب سے دلچسپ ڈارک ہارس ثابت ہو۔ اگر کوئی ٹیم خاموشی سے دنیا کو حیران کر سکتی ہے تو وہ یہی ہو سکتی ہے۔ 1998 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں واپسی کرنے والی ناروے کے پاس اب وہ چیز موجود ہے جو ہر خطرناک ٹیم کے پاس ہوتی ہے: ایک سپر اسٹار جو میچ کا رخ اکیلا بدل سکتا ہے۔
ارلنگ ہالینڈ اب دنیا کے سب سے خوفناک اسٹرائیکرز میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ مارٹن اوڈیگارڈ جیسے تخلیقی مڈفیلڈر ان کے پیچھے موجود ہیں۔ کئی پاور رینکنگز ناروے کو حیران کن طور پر ٹاپ سات یا آٹھ ٹیموں میں شامل کر رہی ہیں۔ اگر ان کا دفاع دباؤ برداشت کر گیا تو ناروے اس ورلڈ کپ کی سب سے بڑی ”سرپرائز اسٹوری“ بن سکتا ہے۔
جرمنی: اب تک جرمنی کا ذکر نہ ہونے پر آپ حیران تو ہونگے ہی۔۔ اس پر حیران ہونا سمجھ میں آنے والی بات ہے ہے، خاص طور پر اس لیے کہ جرمنی ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ چار عالمی کپ، آٹھ فائنلز، اور ایک ایسی فٹ بال ثقافت جس نے دہائیوں تک ”ٹورنامنٹ مشین“ کی شہرت برقرار رکھی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ 2026 کے ورلڈ کپ سے پہلے جرمنی کے بارے میں عالمی رائے شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیوں میں وہ خاموشی سے پس منظر میں چلا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اب بھی خطرناک ترین ٹیموں میں شامل ہو سکتا ہے۔
جرمنی کی گزشتہ چند برسوں کی کہانی عجیب تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ 2014 میں برازیل کی سرزمین پر عالمی چیمپیئن بننے والی یہی ٹیم اگلے دو ورلڈ کپ، یعنی 2018 اور 2022 میں گروپ مرحلے سے باہر ہو گئی۔ یہ صرف شکست نہیں تھی بلکہ جرمن فٹ بال کی پوری ساخت کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا تھا۔ پھر یورو 2024 آیا جہاں میزبان ہونے کے باوجود جرمنی کوارٹر فائنل سے آگے نہ جا سکا۔ اسی لیے دنیا اب جرمنی کو پہلے جیسی ”ناقابلِ شکست طاقت“ کے طور پر نہیں دیکھتی۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں جرمنی خطرناک ہو جاتا ہے۔
جولین ناگلزمین جدید فٹ بال کے سب سے ذہین اور تخلیقی کوچز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ روایتی جرمن ڈسپلن کو جدید پوزیشنل فٹ بال کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس تجربے اور نوجوان توانائی کا دلچسپ امتزاج موجود ہے۔ جوشوا کیمخ اب بھی اس ٹیم کا ذہنی مرکز ہیں، جبکہ فلورین ورٹز کو کئی ماہرین دنیا کے بہترین نوجوان پلے میکرز میں شمار کرتے ہیں۔ کائی ہیورٹز، جمال موسیالا اور انتونیو روڈیگر جیسے کھلاڑی اس ٹیم کو وہ معیار دیتے ہیں جو بڑے میچ جتوا سکتا ہے۔
خاص طور پر جمال موسیالا اس ورلڈ کپ کے ممکنہ سپر اسٹارز میں شامل ہیں۔ ان کی ڈرِبلنگ، تنگ جگہوں میں کھیلنے اور میچ کا بہاؤ بدلنے کی صلاحیت انہیں منفرد بناتی ہے۔ بعض اوقات وہ ایسے کھیلتے ہیں جیسے سڑکوں کے فٹ بال کا تخیل جدید یورپی ٹیکٹکس کے اندر زندہ ہو گیا ہو۔
جرمنی کا مسئلہ شاید ٹیلنٹ نہیں بلکہ نفسیات ہے۔ پرانی نسل کے زوال اور نئی نسل کی غیر مستقل مزاجی کے درمیان ٹیم اب بھی اپنی نئی شناخت تلاش کر رہی ہے۔ لیکن ورلڈ کپ کی تاریخ ہمیں ایک بات بار بار سکھاتی ہے: جرمنی کو کبھی قبل از وقت خارج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ ٹیم ہے جو اکثر تب خطرناک بنتی ہے جب دنیا اس سے نظریں ہٹا چکی ہوتی ہے۔
اور شاید یہی 2026 کے جرمنی کی سب سے دلچسپ بات ہے – وہ اس بار فیورٹ نہیں، لیکن شاید یہی چیز انہیں دوبارہ جرمنی بنا دے۔
شاید یہی ورلڈ کپ کی اصل خوبصورتی ہے۔ ہر ورلڈ کپ سے پہلے دنیا چند بڑی ٹیموں کے گرد کہانیاں بناتی ہے، لیکن تاریخ اکثر کسی غیر متوقع ملک کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے۔ 1954 کا مغربی جرمنی، 1998 کا کروشیا، 2002 کا جنوبی کوریا، 2022 کا مراکش۔۔ فٹ بال ہمیشہ کسی نہ کسی نئے خواب کو جنم دیتا ہے۔
شاید 2026 میں بھی ایسا ہی ہو۔ شاید کوئی چھوٹا ملک ایک بڑی سلطنت گرا دے۔ شاید کوئی انیس سالہ لڑکا ایک رات میں عالمی سپر اسٹار بن جائے۔ اور شاید دنیا ایک بار پھر جان لے کہ ورلڈ کپ صرف بہترین ٹیم نہیں جتاتا بلکہ سب سے بہادر اعصاب کو امر کر دیتا ہے۔
فٹ بال ورلڈ کپ کی چمکتی دنیا کا ایک تاریک پہلو
اس ورلڈ کپ کا ایک تاریک، پیچیدہ اور غیر رومانوی پہلو بھی ہے۔ چین اور انڈیا جیسے ممالک میں ابھی تک نشریاتی حقوق مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً 2.8 ارب آبادی میں سے کروڑوں لوگ ممکنہ طور پر ٹورنامنٹ کو روایتی نشریاتی ذرائع سے نہیں دیکھ سکیں گے۔ فیفا کے بھاری مالی مطالبات، امریکی ٹائم زون اور مقامی مارکیٹوں کی ترجیحات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکہ میں بھی صورتحال ویسی نہیں جیسی فیفا نے تصور کی تھی۔ جیو پولیٹیکل کشیدگی، مہنگے ٹکٹ اور امریکہ مخالف جذبات نے کئی بین الاقوامی شائقین کو سفر سے دور رکھا ہے۔ ہوٹلوں نے قیمتیں کم کرنا شروع کر دی ہیں، جبکہ بعض شہروں میں ہزاروں کمروں کی بکنگ منسوخ ہو چکی ہیں۔ نیو جرسی میں ہونے والے فائنل کے ٹکٹ ہزاروں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ فٹ بال شاید پہلے کبھی اتنا عالمی نہیں تھا، لیکن شاید پہلے کبھی اتنا مہنگا بھی نہیں تھا۔
اور آخر میں۔۔۔ ورلڈ کپ ہمیشہ صرف فٹ بال نہیں ہوتا۔ یہ قوموں کے خوابوں، شکستوں، غرور، یادداشتوں اور آنے والی نسلوں کی کہانی بھی ہوتا ہے۔ 2026 کا ورلڈ کپ شاید ہمیں آخری بار میسی اور رونالڈو کو ایک ہی عالمی افق پر دکھائے۔ شاید یہی ٹورنامنٹ لامین یامال یا اینڈرک کو فٹبال کا اگلا عالمی دیوتا بنا دے۔ شاید فرانس اپنی برتری ثابت کر دے، یا برازیل اپنی کھوئی ہوئی روح واپس پا لے۔ شاید انگلینڈ ایک اور دل ٹوٹنے والی رات جھیلے، یا جرمنی خاموشی سے سب کو حیران کر دے۔۔ یا میسی جاتے جاتے اپنی ٹیم کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کر دے۔
لیکن ایک بات یقینی ہے: جب جون کی راتوں میں امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے اسٹیڈیم روشنیوں سے بھر جائیں گے، تو دنیا پھر چند ہفتوں کے لیے اپنی تمام جنگیں، نفرتیں، سرحدیں اور اختلاف بھول کر ایک گیند کے پیچھے دوڑنے لگے گی۔




