قلم کا نوحہ، دھرتی کا مقدمہ: گل حسن کلمتی کی یاد اور علم پر گرتی بجلیاں

شاہد رضا

آج 17 مئی 2026 کا دن ہے۔ وہ دن جب ملیر کی مٹی اپنے ایک عظیم اور لازوال بیٹے کی جدائی کے صدمے کو تین سال گزرنے پر بھی محسوس کر رہی ہے۔ آج سے ٹھیک تین سال پہلے اسی دن کراچی کے ڈاؤ ہسپتال میں ایک ایسا انسان ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا، جو بذاتِ خود ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ تھا! ایک ایسا شخص، جسے اپنی دھرتی سے کسی محبوبہ سے بھی بڑھ کر محبت تھی۔ سندھ اور بلوچستان کی تاریخ، وہاں کا کلچر اور وہاں کے جفاکش لوگ ان کے دل میں بستے تھے، مگر ان کی محبت کا اصل محور ”ملیر کراچی“ تھا۔

ان کی تحقیق کا مرکز کراچی اور سندھ کی مٹی تھی، جس پر انہوں نے تاریخ کا ایک ایسا بے مثال انسائیکلوپیڈیا تخلیق کیا جس کی نظیر آج تک کوئی پیش نہیں کر سکا۔ وہ ایک تنہا انسان ہو کر بھی اپنے حصے کا وہ تاریخی کام کر گئے جو بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور اکیڈمیاں نہ کر سکیں۔ زندگی میں انہوں نے تیرا شاہکار کتابیں لکھیں، لیکن ان کے پانچ مزید علمی منصوبے ابھی آنے کو تھے، جن پر وہ تادمِ مرگ کام کر رہے تھے۔ ان کے دیرینہ اور مخلص دوست پروفیسر ڈاکٹر رخمان گل پالاری صاحب ان ادھورے منصوبوں اور ان کی یاد میں لکھتے ہیں: ”گل حسن کلمتی سے میری چالیس سالہ بھائیوں جیسی دوستی تھی۔ بارہ تیرہ سال تک میں ان کی تصانیف ’سنڌ جا سامونڊي ٻيٽ‘، ’ڪراچي جا لافاني ڪردار‘، ’سسئي جي واٽ‘، اور اشاعت کی منتظر کتابوں ’ڪوھستان جا گوندر‘، ’ڪوھستان قبيلائي جنگين، ملير کان بارڻ تائين مينار‘، ’نانگي ناني نھارين‘، ‘سورھيه بادشاھ جي قبر’ اور ’ننڌڻڪو ڪوھستان‘ جیسی ادھوری دستاویزات، داستانوں اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف چلنے والی ایک طویل جدوجہد میں گل حسن کلمتی کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہا۔“

کراچی کے سمندر سے لے کر کھارو چھان تک، جب دھرتی کے ساحلی بیلٹ اور جزیروں پر قبضے کا بازار گرم تھا، تو گل حسن کلمتی صاحب نے ان جزائر کی تاریخ پر ایک انتہائی شاندار کتاب تخلیق کی تھی۔ اس کتاب کا دوسرا والیم (جلد) بھی آنے کو تھا، مگر زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔ اب ہمیں پوری امید ہے کہ ان کے مخلص رفقا اس دوسرے والیم کو مکمل کریں گے، جو ڈسٹرکٹ ٹھٹہ کی سمندری حدود کے آخری بندرگاہ ’کھارو چھان‘ تک کی تاریخ پر محیط ہوگا۔

لیکن یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا۔ کلمتی صاحب اپنے حصے کا چراغ جلا کر رخصت ہو چکے؛ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف ان کے ریسرچ بیسڈ کام، مظلوم مقامی (Indigenous) لوگوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے مشن، اور اس پاک سرزمین کی تہذیب و تمدن کی حفاظت کے خواب کو مرنے نہ دیں!

گل حسن کلمتی: تحقیق، تاریخ اور مزاحمت کی علامت

 

اسی عزم کے تحت، ایک انتہائی کامیاب اور یادگار پروگرام کے انعقاد پر محترم گل حسن کلمتی صاحب کے اہلِ خانہ اور تمام مخلص دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے، جہاں ان کے نام پر ایک تاریخ ساز ادارہ ’گل حسن کلمتی اکیڈمی‘ قائم ہونے جا رہا ہے۔ یہ اکیڈمی محض ایک نام نہیں، بلکہ ان کے مشن کا تسلسل ہوگی جو ان کے ادھورے تحقیقی کاموں کو آگے بڑھائے گی، ان کی کتابوں پر مضامین اور تحقیقی مقالے لکھ کر انہیں عام عوام تک پہنچائے گی۔ چونکہ سائیں کا زیادہ تر کام سندھی زبان میں تھا، اس لیے اب اس لازوال علمی خزانے کو مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائے گا، تاکہ سندھ کی دھرتی کی یہ سچی آواز پوری دنیا میں گونج اٹھے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ باتیں کہنا بہت آسان ہے، لیکن اس کٹھن راستے کے لیے بے پناہ وقت، خونِ جگر اور لازوال محنت درکار ہے؛ اور ہم پرامید ہیں کہ ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں گے۔

ابھی کل ہی دھرتی کلمتی صاحب کی تیسری برسی کا غم منا رہی تھا کہ اسی دن سوشل میڈیا پر ایک اور ایسی دردناک خبر گردش کرنے لگی جس نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ براہوئی زبان کے معروف دانشور، غمخوار حیات افسانہ نگار، ترقی پسند شاعر اور پروفیسر، محترم محمد خان بالمعروف غمخوار حیات کو بلوچستان کے شہر نوشکی میں بیدردی سے شہید کر دیا گیا۔

یہ خبر روح کو پاش پاش کر دینے والی ہے! ایک ایسا انسان جو درس و تدریس سے وابستہ ہو، جو قلم کا دھنی ہو، جو اپنی مادری زبان میں امن، محبت، افسانے اور شاعری لکھتا ہو اسے اس بے رحمی سے قتل کر دیا گیا! جن قوموں کے استادوں، محققوں اور دانشوروں کو دن دھاڑے قتل کیا جانے لگے یا وہ مٹی کے دکھ میں گھل کر رخصت ہو جائیں، ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے؟

کل ہم ایک طرف گل حسن کلمتی کی برسی کا غم منا رہے تھے، اور دوسری طرف علم کے اس نئے جنازے نے ہمیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ قلم، کتاب اور مٹی کا یہ نوحہ کب ختم ہوگا؟

گل حسن کلمتی اکیڈمی کا قیام اب محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ ان تمام شہیدوں، ادیبوں اور مٹی کے بیٹوں کے خوابوں کا تحفظ ہے جو اپنی دھرتی کا مقدمہ لڑتے لڑتے تاریخ کا حصہ بن گئے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ یہ قلم اب کبھی نہیں رکے گا!

قندیل تمامیں شہر ءِ مراناں یک یکّءَ
دل بُریں زھیر تاھیر گراناں یک یک ءَ۔۔۔
مبارک قاضی

________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button