Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Gul Hassan Kalmatti Historian Researcher
اہم ترینتازہ ترینکالم

قلم کا نوحہ، دھرتی کا مقدمہ: گل حسن کلمتی کی یاد اور علم پر گرتی بجلیاں

By Akhtar Rasool
مئی 17, 2026 4 Min Read
0

آج 17 مئی 2026 کا دن ہے۔ وہ دن جب ملیر کی مٹی اپنے ایک عظیم اور لازوال بیٹے کی جدائی کے صدمے کو تین سال گزرنے پر بھی محسوس کر رہی ہے۔ آج سے ٹھیک تین سال پہلے اسی دن کراچی کے ڈاؤ ہسپتال میں ایک ایسا انسان ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا، جو بذاتِ خود ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ تھا! ایک ایسا شخص، جسے اپنی دھرتی سے کسی محبوبہ سے بھی بڑھ کر محبت تھی۔ سندھ اور بلوچستان کی تاریخ، وہاں کا کلچر اور وہاں کے جفاکش لوگ ان کے دل میں بستے تھے، مگر ان کی محبت کا اصل محور ”ملیر کراچی“ تھا۔

ان کی تحقیق کا مرکز کراچی اور سندھ کی مٹی تھی، جس پر انہوں نے تاریخ کا ایک ایسا بے مثال انسائیکلوپیڈیا تخلیق کیا جس کی نظیر آج تک کوئی پیش نہیں کر سکا۔ وہ ایک تنہا انسان ہو کر بھی اپنے حصے کا وہ تاریخی کام کر گئے جو بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور اکیڈمیاں نہ کر سکیں۔ زندگی میں انہوں نے تیرا شاہکار کتابیں لکھیں، لیکن ان کے پانچ مزید علمی منصوبے ابھی آنے کو تھے، جن پر وہ تادمِ مرگ کام کر رہے تھے۔ ان کے دیرینہ اور مخلص دوست پروفیسر ڈاکٹر رخمان گل پالاری صاحب ان ادھورے منصوبوں اور ان کی یاد میں لکھتے ہیں: ”گل حسن کلمتی سے میری چالیس سالہ بھائیوں جیسی دوستی تھی۔ بارہ تیرہ سال تک میں ان کی تصانیف ’سنڌ جا سامونڊي ٻيٽ‘، ’ڪراچي جا لافاني ڪردار‘، ’سسئي جي واٽ‘، اور اشاعت کی منتظر کتابوں ’ڪوھستان جا گوندر‘، ’ڪوھستان قبيلائي جنگين، ملير کان بارڻ تائين مينار‘، ’نانگي ناني نھارين‘، ‘سورھيه بادشاھ جي قبر’ اور ’ننڌڻڪو ڪوھستان‘ جیسی ادھوری دستاویزات، داستانوں اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف چلنے والی ایک طویل جدوجہد میں گل حسن کلمتی کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہا۔“

کراچی کے سمندر سے لے کر کھارو چھان تک، جب دھرتی کے ساحلی بیلٹ اور جزیروں پر قبضے کا بازار گرم تھا، تو گل حسن کلمتی صاحب نے ان جزائر کی تاریخ پر ایک انتہائی شاندار کتاب تخلیق کی تھی۔ اس کتاب کا دوسرا والیم (جلد) بھی آنے کو تھا، مگر زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔ اب ہمیں پوری امید ہے کہ ان کے مخلص رفقا اس دوسرے والیم کو مکمل کریں گے، جو ڈسٹرکٹ ٹھٹہ کی سمندری حدود کے آخری بندرگاہ ’کھارو چھان‘ تک کی تاریخ پر محیط ہوگا۔

لیکن یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا۔ کلمتی صاحب اپنے حصے کا چراغ جلا کر رخصت ہو چکے؛ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف ان کے ریسرچ بیسڈ کام، مظلوم مقامی (Indigenous) لوگوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے مشن، اور اس پاک سرزمین کی تہذیب و تمدن کی حفاظت کے خواب کو مرنے نہ دیں!

گل حسن کلمتی: تحقیق، تاریخ اور مزاحمت کی علامت

 

اسی عزم کے تحت، ایک انتہائی کامیاب اور یادگار پروگرام کے انعقاد پر محترم گل حسن کلمتی صاحب کے اہلِ خانہ اور تمام مخلص دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے، جہاں ان کے نام پر ایک تاریخ ساز ادارہ ’گل حسن کلمتی اکیڈمی‘ قائم ہونے جا رہا ہے۔ یہ اکیڈمی محض ایک نام نہیں، بلکہ ان کے مشن کا تسلسل ہوگی جو ان کے ادھورے تحقیقی کاموں کو آگے بڑھائے گی، ان کی کتابوں پر مضامین اور تحقیقی مقالے لکھ کر انہیں عام عوام تک پہنچائے گی۔ چونکہ سائیں کا زیادہ تر کام سندھی زبان میں تھا، اس لیے اب اس لازوال علمی خزانے کو مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائے گا، تاکہ سندھ کی دھرتی کی یہ سچی آواز پوری دنیا میں گونج اٹھے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ باتیں کہنا بہت آسان ہے، لیکن اس کٹھن راستے کے لیے بے پناہ وقت، خونِ جگر اور لازوال محنت درکار ہے؛ اور ہم پرامید ہیں کہ ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں گے۔

ابھی کل ہی دھرتی کلمتی صاحب کی تیسری برسی کا غم منا رہی تھا کہ اسی دن سوشل میڈیا پر ایک اور ایسی دردناک خبر گردش کرنے لگی جس نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ براہوئی زبان کے معروف دانشور، غمخوار حیات افسانہ نگار، ترقی پسند شاعر اور پروفیسر، محترم محمد خان بالمعروف غمخوار حیات کو بلوچستان کے شہر نوشکی میں بیدردی سے شہید کر دیا گیا۔

یہ خبر روح کو پاش پاش کر دینے والی ہے! ایک ایسا انسان جو درس و تدریس سے وابستہ ہو، جو قلم کا دھنی ہو، جو اپنی مادری زبان میں امن، محبت، افسانے اور شاعری لکھتا ہو اسے اس بے رحمی سے قتل کر دیا گیا! جن قوموں کے استادوں، محققوں اور دانشوروں کو دن دھاڑے قتل کیا جانے لگے یا وہ مٹی کے دکھ میں گھل کر رخصت ہو جائیں، ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے؟

کل ہم ایک طرف گل حسن کلمتی کی برسی کا غم منا رہے تھے، اور دوسری طرف علم کے اس نئے جنازے نے ہمیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ قلم، کتاب اور مٹی کا یہ نوحہ کب ختم ہوگا؟

گل حسن کلمتی اکیڈمی کا قیام اب محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ ان تمام شہیدوں، ادیبوں اور مٹی کے بیٹوں کے خوابوں کا تحفظ ہے جو اپنی دھرتی کا مقدمہ لڑتے لڑتے تاریخ کا حصہ بن گئے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ یہ قلم اب کبھی نہیں رکے گا!

قندیل تمامیں شہر ءِ مراناں یک یکّءَ
دل بُریں زھیر تاھیر گراناں یک یک ءَ۔۔۔
مبارک قاضی

________________

  • گل حسن کلمتی

  • گل حسن کلمتی کی یاد میں کراچی اور گوادر میں تقریبات

  • ایک عوامی دانشور، گل حسن کلمتی

Tags:

Academic activism PakistanBahria Town land controversyCoastal belt SindhEnvironmental activist SindhGul Hassan KalmattiGul Hassan Kalmatti AcademyHistorical research KarachiIndigenous communities SindhIndigenous land rights PakistanIndigenous rights defender PakistanKarachi environmental issuesKarachi history researcherKharo Chann historyKohistan Sindh historyLand grabbing in SindhMalir Karachi heritagePakistan historiansResearch based activismSindh coastal heritageSindh cultural preservationSindh environmental movementSindh historianSindh maritime islandsSindhi intellectualsSindhi LiteratureSindhi scholarSocial activist PakistanSocial justice SindhThatta coastal historyTribute to Gul Hassan Kalmatti
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Trump China meeting_Sangat Mag
Previous

بیجنگ میں ٹرمپ کی خاموشی: کیا دنیا کا نیا نظام بدل رہا ہے؟

Gul Hassan Kalmatti Historian, researcher, writer
Next

وہ شخص جس نے کراچی کو اُس کی گمشدہ روح واپس دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme