ہم روتے کیوں ہیں؟ آنسوؤں کا ارتقائی راز

سنگت ڈیسک

1872 میں شائع ہونے والی شہرۂ آفاق کتاب ”دی ایکسپریشن آف دی ایموشنز اِن مین اینڈ اینیملز“ میں ماہرِ فطریات چارلس ڈارون نے ایک حیران کن بات لکھی۔ میں مشہور سائنسدان چارلس ڈارون نے اپنی ایک کتاب میں ایک حیران کن بات لکھی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا جذباتی ہو کر رونا تقریباً بے مقصد عمل ہے۔ ان کے خیال میں رونا ایک ایسا اضافی اثر ہے جس کا کوئی خاص حیاتیاتی فائدہ یا مقصد نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی جسم کے نظام میں ایک ایسی چیز ہے جو کسی خاص وجہ کے بغیر خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔انہوں نے انسان کے جذباتی رونے کو تقریباً بے مقصد قرار دیتے ہوئے اسے ”ایپی فینامینن“ (epiphenomenon) کہا، یعنی ایک ایسا حیاتیاتی ضمنی مظہر جو کسی واضح مقصد کے تحت پیدا نہیں ہوا بلکہ گویا حیاتیاتی نظام کے حاشیے پر درج ایک نوٹ کی طرح ہے۔

سادہ الفاظ میں بات کریں تو ان کا کہنا تھا کہ انسان کا جذباتی ہو کر رونا تقریباً بے مقصد عمل ہے۔ ان کے خیال میں رونا ایک ایسا اضافی اثر ہے جس کا کوئی خاص حیاتیاتی فائدہ یا مقصد نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی جسم کے نظام میں ایک ایسی چیز ہے جو کسی خاص وجہ کے بغیر خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ رائے معمولی نہیں تھی۔ ڈارون وہ سائنس دان تھے جو انسانی اور حیوانی رویّوں کی باریک ترین تفصیلات میں بھی ارتقائی معنی تلاش کرتے تھے۔ لیکن جب بات آنسوؤں کی آئی تو وہ ایک حد پر آ کر رک گئے۔ گویا انہوں نے خاموشی سے اعتراف کیا کہ یہاں ارتقا کی منطق سمجھ میں نہیں آ رہی۔

ڈیڑھ صدی بعد سائنس اس خاموشی کا جواب دینے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اور جو جواب سامنے آ رہا ہے وہ حیران کن بھی ہے اور گہرا بھی – شاید اتنا گہرا کہ خود ڈارون بھی اس کا تصور نہ کر پاتے۔

اگر سطحی نظر سے دیکھا جائے تو رونا ارتقائی منطق کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ آنسو آنکھوں کو دھندلا دیتے ہیں، آپ کی توجہ منتشر کر دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ آس پاس موجود لوگوں کو فوراً آپ کی کمزوری کا اشارہ دے دیتے ہیں۔ جنگل یا ابتدائی انسانی معاشروں میں کمزوری کا اظہار اکثر خطرناک ہو سکتا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو رونا بظاہر کسی فائدے کا عمل نہیں لگتا۔

اس کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے: رونا ایک عالمگیر انسانی رویّہ ہے۔ دنیا کی ہر ثقافت، ہر عہد اور ہر معاشرے میں انسان روتے آئے ہیں۔ تاریخ کی تمام معلوم تہذیبوں میں آنسو موجود ہیں۔ لاکھوں برس کے ارتقائی سفر میں کسی رویّے کا اس طرح باقی رہنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔

2018 میں علمی جریدے ’ہیومن نیچر‘ میں شائع ہونے والے ایک اہم تحقیقی جائزے نے اس معمّے کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ اس تحقیق کے مطابق رونا دراصل ایک واحد عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور کثیر سطحی مواصلاتی نظام ہے۔ یہ بیک وقت آواز، بصری اشاروں اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے کام کرتا ہے۔ اس کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔

اس تحقیق کا مرکزی خیال حیران کن ہے: جذباتی آنسو اصل میں صرف غم ظاہر کرنے کے لیے ارتقا پذیر نہیں ہوئے، بلکہ ان کا اصل مقصد اپنے اردگرد موجود لوگوں کے رویّے کو تبدیل کرنا ہے۔

مدد کی ابتدائی پکار

آنسوؤں کی ارتقائی کہانی دراصل غم سے نہیں بلکہ بھوک، سردی اور خوف سے شروع ہوتی ہے اور اس کہانی کا پہلا کردار ایک شیرخوار بچہ ہے۔

ممالیہ جانوروں میں جب بچہ اپنی ماں سے جدا ہو جاتا ہے تو وہ ایک مخصوص آواز پیدا کرتا ہے جسے سائنس دان ”ڈسٹریس ووکلائزیشن“ کہتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مدد کی پکار ہوتی ہے جس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے: بچے اور نگہداشت کرنے والے کے درمیان فاصلے کو ختم کرنا۔

2018 کے ’ہیومن نیچر‘ جائزے کے مطابق انسانی بچوں کا رونا اسی ممالیہ حیاتیاتی خاکے سے ارتقا پذیر ہوا۔ بچے کا رونا دراصل ایک درجہ بند صوتی سگنل ہوتا ہے۔ اس کی آواز کی پچ اور شدت اس بات کے مطابق بدلتی ہے کہ ضرورت کتنی فوری ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سگنل غیر معمولی طور پر قابلِ اعتماد ہوتا ہے۔ جب بچہ واقعی بھوکا، خوف زدہ یا تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کے رونے کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھ بھال کرنے والے افراد اکثر یہ پہچان لیتے ہیں کہ بچے کو کس چیز کی ضرورت ہے۔

یہ نظام اس لیے کام کرتا ہے کہ بچے اور نگہداشت کرنے والے دونوں کے ارتقائی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر بچہ جھوٹا سگنل دے تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، اور اگر سگنل حقیقی ہو تو اس کا جواب ملتا ہے۔

لیکن انسانی ارتقا کے طویل سفر میں اس سادہ نظام میں ایک غیر معمولی تبدیلی آئی۔ یہ تکلیف کا صوتی سگنل صرف بچپن تک محدود نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ بالغ انسانی زندگی میں بھی داخل ہو گیا۔

اس کے ساتھ اس میں نئے عناصر شامل ہو گئے: بہتے ہوئے آنسو، لرزتے ہوئے ہونٹ، جھکی ہوئی گردن، اور شکستہ جسمانی انداز۔

یوں یہ عمل اندھیرے میں رونے والے بچے کی پکار سے بڑھ کر ایک پیچیدہ انسانی زبان بن گیا۔

 جذباتی آنسو: ایک سماجی تیکنیک

جب ایک بالغ انسان روتا ہے تو اس کا اثر صرف اس پر نہیں پڑتا بلکہ اس منظر کو دیکھنے والوں کے دماغ اور رویّوں پر بھی پڑتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کسی کو روتے ہوئے دیکھنے سے لوگوں میں ہمدردی بڑھ جاتی ہے جبکہ جارحیت کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔

یہ صرف جذباتی تاثر نہیں بلکہ قابلِ پیمائش سائنسی نتیجہ ہے۔ اسی لیے محققین آنسوؤں کو ایک ”پروسوشل سگنلنگ میکانزم“ قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا سماجی اشارہ جو یہ پیغام دیتا ہے: ”میں خطرہ نہیں ہوں۔ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔۔ اور میں تم پر اتنا اعتماد کرتا ہوں کہ اپنی کمزوری تمہارے سامنے ظاہر کر رہا ہوں۔“

علمی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب کوئی شخص دوسرے انسان کو روتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دماغ کے وہی حصے متحرک ہو جاتے ہیں جو خود رونے والے شخص کے دماغ میں سرگرم ہوتے ہیں۔

یہ عمل دماغ کے ایک نظام کے ذریعے ہوتا ہے جسے ”مرر نیورون نیٹ ورک“ کہا جاتا ہے۔ یہی نظام ہمیں دوسروں کے جذبات محسوس کرنے اور ہمدردی پیدا کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

ارتقائی تاریخ کے کسی مرحلے پر آنسو ایک ایسا اشارہ بن گئے جو دوسرے انسان میں خودکار طور پر ہمدردی کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ایسی نوع کے لیے جو باہمی تعاون کے ذریعے زندہ رہی، یہ صلاحیت غیر معمولی فائدہ رکھتی تھی۔

اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ آنسو دراصل ہتھیار ڈالنے کا اشارہ بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسے جنگ میں سفید جھنڈا یا کھلی ہتھیلی۔ یہ بتاتے ہیں کہ رونے والا شخص جارحیت چھوڑ چکا ہے اور اپنی کمزوری تسلیم کر رہا ہے۔

اجنبیوں، حریفوں یا محبت کرنے والوں کے درمیان تنازعات میں یہ اشارہ اکثر ایسے حالات کو ٹھنڈا کر دیتا ہے جنہیں الفاظ حل نہیں کر سکتے۔

ارتقائی منطق بالکل واضح ہے: اگر دونوں فریق اس سگنل کو صحیح سمجھ لیں تو لڑائی کو آخری حد تک لے جانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اس معنی میں آنسو صرف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ تنازع کم کرنے کی ایک حیاتیاتی تیکنیک بھی ہیں۔

آنسوؤں کی خفیہ کیمیا

یہ وہ مقام ہے جہاں سائنس واقعی حیران کن رخ اختیار کرتی ہے۔

2011 میں سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سائنس دانوں نے ایک عجیب دریافت کی۔ انہوں نے پایا کہ انسانی جذباتی آنسوؤں میں ایسے کیمیائی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو بے بو ہونے کے باوجود ناک کے نظامِ حس کے ذریعے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

یعنی آنسو ایک ایسی فریکوئنسی پر پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں جسے انسان شعوری طور پر محسوس نہیں کرتے مگر ان کا جسم اسے وصول کر لیتا ہے۔

2023 میں جریدے پی ایل او ایس بایولوجی (PLOS Biology) میں شائع ہونے والی تحقیق نے اس تصور کو مزید مضبوط کیا۔ اس تجربے میں مرد شرکاء کو انجانے میں جذباتی آنسو سونگھنے دیے گئے، ایسے آنسو جن میں کوئی قابلِ محسوس بو نہیں تھی۔

نتیجہ حیران کن تھا: ان افراد کے جارحانہ رویّے میں 43.7 فیصد کمی آ گئی۔

دماغ کی امیجنگ سے معلوم ہوا کہ آنسوؤں کو سونگھنے سے ناک کے حسی نظام اور جارحیت سے متعلق دماغی نیٹ ورکس کے درمیان رابطہ بڑھ جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دشمنی اور غصے سے وابستہ دماغی حصے دب جاتے ہیں۔

حیاتیاتی کیمیا اس کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ جذباتی آنسو عام آنسوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو نم رکھنے والے آنسوؤں کو ”بیسل ٹیئرز“ (basal tears) کہا جاتا ہے جبکہ پیاز کاٹنے سے آنے والے آنسو ”ریفلیکس ٹیئرز“ (reflex tears) کہلاتے ہیں۔

جذباتی آنسوؤں میں بعض مخصوص کیمیائی اجزا زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، مثلاً: پرولیکٹن، ایڈرینوکارٹیکوٹروپک ہارمون، لیو اینکیفالِن، پوٹاشیئم اور مینگنیز۔ یہ ہارمونز اور پیپٹائیڈز دراصل اس اندرونی جذباتی کیفیت کا کیمیائی نقش ہوتے ہیں جس نے آنسو پیدا کیے۔

یعنی آنسو صرف پانی نہیں بلکہ جسم کے اندرونی جذباتی طوفان کا سالماتی ریکارڈ بھی ہوتے ہیں۔

البتہ سائنس دان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس میدان میں تحقیق ابھی جاری ہے۔ 2011 کی تحقیق کے کچھ نتائج کو بعد کی تحقیقات میں پوری طرح دہرایا نہیں جا سکا، اور اصل محققین نے ان تجربات کے طریقۂ کار پر اعتراضات بھی اٹھائے۔ تاہم 2023 کے نتائج زیادہ مضبوط تجرباتی اصولوں کے تحت سامنے آئے ہیں۔ یوں تصویر واضح تو ہو رہی ہے، مگر ابھی مکمل نہیں۔

 حیاتیات اور ثقافت کی کشمکش

اگر آنسو اتنے مفید ہیں تو پھر ہم انہیں چھپانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟

یہ سوال دراصل انسانی معاشرے کی ایک گہرے تضاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

بہت سے پیشہ ورانہ ماحول اور مردانہ سماجی تصورات میں کھلے جذبات، خاص طور پر آنسو کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے ایسے ادارے، قیادت کے نمونے اور سماجی اصول بنا لیے ہیں جہاں رونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ جدید سائنس بتا رہی ہے کہ آنسو دراصل ایک پیچیدہ اور مؤثر انسانی مواصلاتی نظام ہیں۔

تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ روتی ہیں۔ اس فرق میں جزوی طور پر ہارمونز اور جزوی طور پر سماجی تربیت کا کردار ہوتا ہے۔ لیکن رونے اور دوسروں کے آنسوؤں پر ردعمل دینے کی بنیادی اعصابی صلاحیت تقریباً تمام انسانوں میں موجود ہے۔

فرق صرف اجازت کا ہے، صلاحیت کا نہیں۔

انسانی آنسوؤں کی سب سے عجیب جہت شاید یہ ہے کہ ہم صرف حقیقی واقعات پر ہی نہیں بلکہ جمالیاتی تجربات پر بھی روتے ہیں۔ ہم فلم دیکھ کر روتے ہیں۔ موسیقی سن کر روتے ہیں۔ ناول کے آخری صفحے پر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کسی سمفنی کے آخری سُر پر دل بھر آتا ہے۔ ہم ایسے فرضی کرداروں کے لیے بھی رو سکتے ہیں جن سے ہم کبھی نہیں ملے اور نہ کبھی ملیں گے۔ زمین پر کوئی دوسرا جانور ایسا نہیں کرتا۔

2018 کے ’ہیومن نیچر‘ جائزے کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اعصابی نظام جو اصل میں سماجی بقا کے لیے بنا تھا، بعد میں انسانی ثقافت اور فن کے تجربات کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ یعنی وہی دماغی نظام جو حقیقی انسانی تکلیف کے سگنل پر ردعمل دیتا ہے، وہی نظام طاقتور ادبی یا موسیقیائی تجربات پر بھی متحرک ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہم فن پر اس لیے روتے ہیں کیونکہ فن اسی جذباتی زبان میں بات کرتا ہے جو ارتقا نے ہمیں سکھائی ہے۔


ہم ہنستے کیوں ہیں، سچی ہنسی اور جھوٹی ہنسی میں کیا فرق ہے؟


ارتقا کا خاموش ہنر

رونا اس لیے باقی نہیں رہا کہ یہ صرف ایک کام اچھی طرح کرتا ہے، بلکہ اس لیے زندہ رہا کیونکہ وقت کے ساتھ اس نے بیک وقت کئی کام کرنے شروع کر دیے۔ یہ آواز کے ذریعے مدد کا سگنل بھی ہے۔ یہ بصری ہمدردی کو بیدار کرنے والا اشارہ بھی ہے۔ یہ جارحیت کو کم کرنے والا حیاتیاتی پیغام بھی ہے۔ یہ سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے والا ذریعہ بھی ہے۔۔ اور شاید ایک کیمیائی پیغام رسانی کا نظام بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ارتقا نے اسے محفوظ رکھا۔

ارتقا دراصل کسی منظم انجینئر کی طرح صفر سے حل نہیں بناتا۔ یہ ایک موقع پرست عمل ہے۔ یہ پہلے سے موجود ساختوں کو نئے کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے، پرانے نظاموں پر نئی خصوصیات چڑھاتا ہے اور انہیں مختلف حالات میں ڈھال دیتا ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسان کی آنکھوں سے بہنے والے یہ چھوٹے سے قطرے، جو بظاہر کمزوری کی علامت لگتے ہیں، درحقیقت انسانی ارتقا کے سب سے پیچیدہ اور معنی خیز سگنلز میں سے ایک ہیں۔


Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button