
بچپن کی یادیں اکثر شفاف پانیوں اور لہروں کے شور سے عبارت ہوتی ہیں، لیکن ایرانی ماحولیاتی صحافی مریم کے لیے اپنی جائے پیدائش کی یادیں اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہیں۔ شمالی ایران کے ساحلی شہر ’رودسر‘ میں پلنے بڑھنے والی مریم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بحیرۂ کیسپین کے سحر انگیز کناروں پر گزارا۔ 1990 کی دہائی میں جب وہ چھوٹی تھیں، پانی کی سطح اتنی بلند تھی کہ سیلاب ان کے اپنوں کے گھر بہا لے گیا تھا۔
برسوں بعد جب وہ انہی ساحلوں پر دوبارہ لوٹیں، تو منظر بدل چکا تھا۔ وہ سمندر جو کبھی بپھرا ہوا اور طاقتور لگتا تھا، اب ایک اجنبی کی طرح پیچھے ہٹ رہا تھا۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا اصل نام پوشیدہ رکھنے والی مریم کہتی ہیں، ”میں ساحل سے بہت آگے تک چلتی چلی گئی، لیکن پانی صرف میرے گھٹنوں تک ہی آ سکا، یہ ایک ایسے شخص کے لیے جو اس سمندر کے عشق میں پلا بڑھا ہو، انتہائی خوفناک اور دل دہلا دینے والا تجربہ تھا۔“
دنیا کی سب سے بڑی جھیل خطرے میں
مریم کا یہ ذاتی مشاہدہ محض ایک جذباتی تاثر نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی سائنسی حقیقت ہے۔ بحیرۂ کیسپین، جو تکنیکی طور پر دنیا کا سب سے بڑا اندرونی یا بند آبی ذخیرہ (Largest inland body of water) ہے۔ جسے اپنی وسعت کی وجہ سے ’سمندر‘ کہا جاتا ہے، لیکن جغرافیائی طور پر یہ ایک جھیل ہے۔ یہ کوہِ قاف (Caucasus Mountains) کے مشرق اور وسطی ایشیا کے وسیع میدانوں کے مغرب میں واقع ہے۔
یہ پانچ ممالک کے درمیان گھرا ہوا ہے: روس، قازقستان، ترکمانستان، ایران اور آذربائیجان۔ اس کا کل رقبہ تقریباً 386,400 مربع کلومیٹر ہے، جو جاپان کے کل رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی جنوبی حصے میں تقریباً 1,025 میٹر (3,360 فٹ) ہے۔ اس کی سطح، عالمی سطحِ سمندر سے تقریباً 27 میٹر (90 فٹ) نیچے ہے۔
اگرچہ اسے سمندر کہا جاتا ہے، لیکن اس کا پانی مکمل طور پر نمکین نہیں ہے بلکہ یہ ’نیم نمکین‘ (Brackish) ہے، کیونکہ یہ میٹھے دریاؤں اور قدیم سمندری نمکیات کا آمیزہ ہے۔ اس کے شمالی حصے میں دریائے وولگا (Volga) گرتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں پانی تقریباً میٹھا ہے، جبکہ جنوبی حصوں میں نمکیات زیادہ ہیں۔
بحیرہ کیسپین اپنی قدرتی دولت کی وجہ سے عالمی سطح پر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے ساحلوں اور تہہ میں تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو خطے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سمندر ’اسٹرجن‘ (Sturgeon) مچھلی کے لیے مشہور ہے، جس سے قیمتی ’کیویار‘ (Caviar) حاصل کیا جاتا ہے۔ اسٹرجن مچھلی کے ختم ہونے سے نہ صرف معیشت بلکہ ایک نایاب حیاتیاتی نسل کے ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں یہ وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم آبی راستہ فراہم کرتا ہے۔
لیکن یہی اہمیت اب اس کی دشمن بن ثابت ہو رہی ہے۔ اس کی حدیں جن پانچ ممالک روس، قازقستان، ترکمانستان، ایران اور آذربائیجان سے لگتی ہیں، ان کے درمیان پانی کی حدود کی تقسیم پر طویل عرصے تک تنازع رہا ہے، جس کی وجہ سے مشترکہ ماحولیاتی اقدامات میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یوں کیسپین کا مسئلہ صرف قدرتی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے، جو مشترکہ بچاؤ کی کوششوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں بحیرہ کیسپین کو پانی کی سطح میں کمی اور آلودگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دریائے وولگا پر بنائے گئے ڈیموں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس کے پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، جو اس کے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک خطرہ ہے۔
یہ نیم نمکین سمندر اپنی تاریخ میں کئی بار اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والی موجودہ کمی کا پلٹنا مشکل ہے۔ اندازوں کے مطابق اس صدی میں پانی مزید پیچھے ہٹے گا، اور کچھ ماڈلز کے مطابق سطح میں 21 میٹر (تقریباً 70 فٹ) تک کمی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس کی موجودہ صورتحال کو ماضی سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ سنگین قرار دیتے ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کے ماہرِ ارتقائی حیاتیات سائمن گڈمین اس بحران کی شدت کو ایک سادہ مثال سے واضح کرتے ہیں، ”سائنسی ماڈلز بتاتے ہیں کہ اس صدی کے اختتام تک پانی کی سطح میں 21 میٹر (تقریباً 70 فٹ) تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر آپ اسے عام فہم انداز میں سمجھیں تو 18 میٹر کی کمی بھی ایک چھ منزلہ عمارت کی اونچائی سے زیادہ بنتی ہے۔“
اس زوال کا ذمہ دار کون؟
بحیرۂ کیسپین کے سکڑنے کی کہانی پیچیدہ ہے، جس میں قدرت اور انسانی مداخلت دونوں ہی عوامل شامل ہیں۔ اس آبی ذخیرے کو میٹھا پانی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ روس کا دریائے وولگا ہے، جو کل میٹھے پانی کا تقریباً 80 فیصد فراہم کرتا ہے۔ دہائیوں سے اس دریا پر ڈیموں کی تعمیر اور آبپاشی کے وسیع منصوبوں نے سمندر تک پہنچنے والے پانی کی مقدار کو محدود کر دیا ہے۔
وہ نیلا آئینہ جو ٹوٹ گیا۔۔ دنیا کی بڑی جھیلوں میں سے ایک کیسے صحرا میں تبدیل ہوئی؟
تاہم گڈمین کے مطابق آئندہ صورتِ حال زیادہ پیچیدہ ہے۔
”اس صدی کے باقی حصے کے لیے اندازے بتاتے ہیں کہ پانی کی سطح میں کمی میں موسمیاتی تبدیلی کا کردار زیادہ نمایاں ہوگا۔“
موجودہ صدی میں ”موسمیاتی تبدیلی“ سب سے بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے۔ تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت جو تیل، گیس اور کوئلہ جلانے سے پیدا ہونے والی گیسوں کا نتیجہ ہے، سمندر کی سطح سے پانی کے بخارات میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بارش اور وولگا کے طاس میں بہاؤ کی کمی بھی ہو رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ پانی آنے سے زیادہ تیزی سے نکل رہا ہے۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندر کی سطح سے پانی کے بخارات بن کر اڑنے کی شرح غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ گڈمین کے مطابق، اب صورتحال یہ ہے کہ جتنا پانی دریاؤں سے سمندر میں آ رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ بخارات بن کر فضا میں گم ہو رہا ہے۔
معاشی اور ماحولیاتی اثرات: لرزتی ہوئی بندرگاہیں
سمندر کا پیچھے ہٹنا صرف نقشے تبدیل نہیں کر رہا بلکہ معیشتوں کی جڑیں بھی ہلا رہا ہے۔ روس اور قازقستان کے شمالی حصوں میں، جہاں پانی کی گہرائی پہلے ہی کم تھی، صورتحال ابتر ہے۔
● جہاز رانی کی مشکلات: بہت سی بندرگاہوں کو فعال رکھنے کے لیے مسلسل کھدائی یعنی ڈریجنگ (Dredging) کرنی پڑ رہی ہے تاکہ بحری جہاز لنگر انداز ہو سکیں۔
● سیلز کا مسکن: شمال مشرقی کیسپین کا وہ علاقہ جو کبھی ہزاروں سیلز (Seals) کی افزائشِ نسل کا مرکز تھا، اب ایک بنجر اور خشک زمین میں تبدیل ہو چکا ہے۔
● ماہی گیری کا بحران: مچھلیوں کے مسکن تباہ ہونے سے مقامی کمیونٹیز کا روزگار ختم ہو رہا ہے۔ اگر پانی کی سطح مزید 10 میٹر گر گئی تو سمندر کا ایک تہائی حصہ ہمیشہ کے لیے خشک ہو سکتا ہے۔
کیا ارال سمندر کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے؟
سائنسدانوں کو سب سے بڑا ڈر یہ ہے کہ کہیں کیسپین کا انجام بھی ”ارال سمندر“ (Aral Sea) جیسا نہ ہو جائے۔ ارال سمندر، جو کبھی دنیا کے عظیم آبی ذخائر میں شامل تھا، سوویت دور میں پانی کے رخ موڑنے کی وجہ سے تقریباً مکمل خشک ہو چکا ہے۔ اس کی تباہی نے نہ صرف معیشت کو برباد کیا بلکہ وہاں سے اٹھنے والے زہریلی گرد کے طوفانوں نے انسانی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
سائمن گڈمین انتباہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”ہم یقیناً اس عمل کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اگر شمالی کیسپین خشک ہو گیا تو بے نقاب ہونے والی سمندری تہہ پورے خطے کے موسم کو بدل دے گی اور فضا میں آلودہ گرد کے وہ طوفان اٹھیں گے جن کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو گا۔“
جنوب میں ایرانی ساحلوں پر بھی رونقیں مانند پڑ رہی ہیں۔ مریم بتاتی ہیں کہ وہ کیفے جو کبھی لہروں کے عین اوپر واقع تھے، اب ساحل سے اتنے دور ہو گئے ہیں کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے ریگستان کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ مچھلی منڈیاں، جو کبھی چہل پہل کا مرکز تھیں، اب ویران نظر آتی ہیں کیونکہ مچھلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو چکی ہے۔
وقت کا تقاضا
بحیرۂ کیسپین پانچ مختلف ریاستوں کے درمیان مشترکہ اثاثہ ہے۔ اس کے بچاؤ کے لیے مشترکہ عالمی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ’تہران کنونشن‘ جیسے اقدامات کے ذریعے حکومتیں باہمی تعاون کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ پالیسی سازوں کی رفتار موسمیاتی تبدیلی کی رفتار سے بہت سست ہے۔
گڈمین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی حل کے لیے سائنسی تحقیق میں مسلسل سرمایہ کاری اور ایسی حکمتِ عملی درکار ہوگی جو ماحولیاتی اور معاشی دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھے اور یہ سب جلد کرنا ہوگا۔
مریم جیسی ہزاروں ساحلی رہائشیوں کے لیے یہ صرف ایک ماحولیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ان کی شناخت اور ماضی کا مٹنا ہے۔ اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی اور علاقائی سطح پر پانی کے منصفانہ استعمال کو یقینی نہ بنایا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب دنیا کا یہ سب سے بڑا تالاب صرف تاریخ کی کتابوں اور مریم جیسے ساحلی باشندوں کی تلخ یادوں میں باقی رہ جائے گا۔
گڈمین کے الفاظ میں: ”ہمیں پالیسی کی رفتار کو ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار کے برابر لانا ہو گا“ ورنہ فطرت ہمیں سوچنے کا موقع بھی نہیں دے گی۔
وہ نیلا آئینہ جو ٹوٹ گیا۔۔ دنیا کی بڑی جھیلوں میں سے ایک کیسے صحرا میں تبدیل ہوئی؟




