
عرفان خان کی وفات کے چھ برس بعد، ان کے کیریئر کے ابتدائی دور کا ایک طویل عرصے سے گمشدہ پروجیکٹ اب ناظرین تک پہنچ گیا ہے، اس بار یوٹیوب کے ذریعے۔ ”دی لاسٹ ٹیننٹ“ (آخری کرایہ دار) کے عنوان سے پیش کی جانے والی اس فلم میں ودیا بالن بھی نظر آتی ہیں، اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ان کی اسکرین پر ابتدائی ترین جھلکیوں میں سے ایک ہے، اُس وقت کی جب وہ فلمی دنیا میں ایک بڑا نام نہیں بنی تھیں۔
”دی لاسٹ ٹیننٹ“ تقریباً 25 برس پہلے بنائی گئی تھی، جسے سارتھک داس گپتا نے لکھا اور ہدایت دی۔ تاہم یہ فلم اُس وقت ناظرین تک نہ پہنچ سکی۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی اصل فوٹیج گم ہو گئی، جس کے باعث یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا اور عملاً سرد خانے کی نذر ہو گیا۔
کئی برسوں تک یہ فلم داس گپتا کے ابتدائی کیریئر کی ایک نامکمل یاد بن کر رہ گئی، جس کی بازیابی کی کوئی خاص امید نہیں تھی۔
یہ صورتِ حال اچانک اُس وقت بدلی جب گھر کی منتقلی کے دوران ایک وی ایچ ایس (VHS) ٹیپ دوبارہ سامنے آئی، جس نے فلم ساز کو دہائیوں سے گم شدہ مواد تک رسائی دی اور بالآخر اسے بحال کر کے ریلیز کرنے کا موقع ملا۔
بحال شدہ فلم 29 اپریل کو ریلیز کی گئی، جو عرفان خان کی برسی کا دن ہے، بطور خراجِ عقیدت اُس اداکار کے لیے جس کے کام نے بھارتی سنیما پر گہرا اثر چھوڑا۔ عرفان خان 29 اپریل 2020 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے، اور ان کا فن آج بھی ناظرین کے لیے کشش رکھتا ہے۔
یوٹیوب پر آنے کے بعد سے اس فلم کو مسلسل توجہ حاصل ہو رہی ہے، اور یہ تقریباً پونے تین لاکھ ویوز عبور کر چکی ہے۔
اس فلم میں عرفان خان، ودیا بالن کے ساتھ نظر آتے ہیں، اگرچہ اس کے بعد دونوں نے کسی ریلیز ہونے والی فلم میں ایک ساتھ کام نہیں کیا۔ یہ ان کی واحد آن اسکرین جوڑی ہے۔ فلم کے مرکزی اداکاروں کے علاوہ فلم میں انو کھنڈیلوال، سوربھ اگروال، سبیا ساچی، ستیش کلرا اور آنند مشرا بھی شامل ہیں۔
فلم کی کہانی ایک ٹوٹے ہوئے موسیقار کے گرد گھومتی ہے، جو ملک چھوڑنے سے پہلے ایک ویران گھر میں پناہ لیتا ہے۔ اس خاموش اور پراسرار جگہ میں یادیں، موسیقی اور خواہشات آہستہ آہستہ ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتی ہیں۔ جیسے جیسے مرکزی کردار اپنے سفر پر نکلتا ہے، کچھ بھی ویسا نہیں ہوتا جیسا وہ توقع کرتا ہے۔ سن 2000 میں تصور کی گئی اس فلم کو بغیر بجٹ اور بغیر کسی ضمانت کے بنایا گیا تھا۔ صرف داس گپتا کے منفرد وژن نے نوجوان اداکاروں کے ایک گروہ کو اکٹھا کیا تاکہ وہ ایک سادہ لیکن خاموش جادو سے بھرپور فلم تخلیق کرسکیں۔
فلم کے طویل سفر کو یاد کرتے ہوئے دی لاسٹ ٹیننٹ کے فلم ساز اور ہدایت کار سارتھک داس گپتا نے کہا، ”میں ایک ناتجربہ کار شخص تھا جسے سب کچھ سیکھنا تھا۔ میں نے کسی کی اسسٹنٹ شپ نہیں کی تھی، نہ فلم اسکول گیا تھا۔ اس وقت نہ ایمیزون تھا جہاں سے کتابیں منگوائی جاتیں، نہ یوٹیوب تھا جہاں ٹیوٹوریلز دیکھے جاتے۔ صرف وجدان کے سہارے میں نے ایک سفر شروع کیا تھا، اور مجھے خود بھی یقین نہیں تھا کہ یہ میرا کیریئر بن پائے گا یا نہیں۔ اب اس فلم کو عرفان کے خراجِ عقیدت کے طور پر جاری کرنا میرے لیے اور بھی جذباتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی بھولے بسرے خواب کو دوبارہ دیکھ رہا ہوں۔“
یہ فلم داس گپتا کی بطور ہدایت کار پہلی فلم بھی تھی، جو ان کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ انجینئرنگ اور ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کارپوریٹ زندگی چھوڑ کر فلم سازی کا راستہ اختیار کیا، اور یہی فیصلہ بعد میں ان کے تخلیقی سفر کی بنیاد بنا۔ بعد میں انہوں نے ’دی میوزک ٹیچر‘ اور ’200 ہلّا ہو‘ جیسی فلمیں بھی بنائیں، جن میں امول پالیکر اور رنکو راج گرو نے اداکاری کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ویب سیریز ’دھروی بینک‘ سمیت کئی طویل دورانیے کے منصوبے بھی تخلیق کیے۔
فلم کے ہدایت کار داس گپتا نے بتایا کہ فلم تقریباً ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئی تھی، کیونکہ اس کا آرکائیول مواد خراب یا گم ہو چکا تھا۔
ان کا کہنا تھا ”اُس زمانے میں ڈیجیٹل بیک اپ نہیں ہوتے تھے، اور ہمارے پاس دو بیٹا ٹیپس تھیں جن میں ساری فوٹیج موجود تھی۔ ایک بیٹا ٹیپ گم ہو گئی اور کبھی نہ ملی، جبکہ دوسری میں فنگس لگ گئی تھی، اس لیے وہ استعمال کے قابل نہیں رہی۔ یوں میں نے اس فلم کو بھلا ہی دیا تھا۔“
وہ مزید بتاتے ہیں کہ دو ہفتے قبل گھر تبدیل کرتے ہوئے انہیں ایک بغیر لیبل والی وی ایچ ایس ٹیپ ملی۔ ”میں نے سوچا یہ شاید میری شادی کی ویڈیو ہوگی، اور آج کے دور میں وی ایچ ایس پلیئر کہاں ملے گا؟ میں اسے پھینکنے والا تھا، لیکن پھر خیال آیا کہ ایک بار دیکھ ہی لیتا ہوں۔۔ اور یوں یہ فلم سامنے آ گئی۔“
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عرفان خان کی برسی پر فلم ریلیز کرنے کا خیال جلدی بن گیا، تاکہ تکنیکی خامیوں کے باوجود اداکار کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
ودیا بالن نے اس فلم کی شوٹنگ 1999–2000 میں کی تھی، اپنے ٹی وی شو ”ہم پانچ“ کے فوراً بعد۔ داس گپتا کے مطابق انہوں نے ودیا کو ٹی وی کے بجائے ایک اشتہار کے ذریعے دریافت کیا تھا، جس نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب فلم کی بازیابی کے بعد انہوں نے ودیا سے رابطہ کیا تو وہ حیرت زدہ اور پُرجوش تھیں۔
فلم کی ریلیز پر جذباتی ردعمل دیتے ہوئے ودیا بالن نے کہا: ”یہ احساس ناقابلِ یقین ہے کہ ’دی لاسٹ ٹیننٹ‘ آخرکار ناظرین تک پہنچ گئی ہے۔ میں تب اپنے کیریئر کے آغاز میں تھی اور اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ عرفان کے ساتھ کام کرنا اُس وقت بھی بہت خاص تھا، اور آج تو اس لیے اور زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ واحد موقع تھا جب ہم نے ایک ساتھ اسکرین شیئر کی۔ یہ فلم مجھے یاد دلاتی ہے کہ میرا سفر کہاں سے شروع ہوا تھا، اور مجھے خوشی ہے کہ اسے عرفان کے خراجِ عقیدت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔“
فلم کی ریلیز کے باوجود داس گپتا کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے لیے اب بھی نامکمل محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر دستیاب فوٹیج کی حالت کے باعث۔ وہ اب بھی بہتر معیار کی گمشدہ فوٹیج کی تلاش میں ہیں تاکہ مستقبل میں اسے مزید مکمل انداز میں بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فلم کے بعد ان کا عرفان خان سے رابطہ برقرار رہا، اور دونوں نے دوبارہ ساتھ کام کرنے پر بات بھی کی، لیکن مصروفیات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔
داس گپتا نے کہا کہ وہ اب بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ناظرین کی جانب سے مرحوم اداکار کے لیے محبت کس قدر گہری ہے: ”ردِعمل غیر معمولی رہا ہے، اور عرفان خان کے لیے محبت آج بھی بے حد خاص محسوس ہوتی ہے۔“
___________________




