تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ
پندرہ نومبر 1884 کو برلن میں جرمن چانسلر بسمارک کی سرکاری رہائش گاہ کے ہال میں انگریزی حرف یو U کی شکل کی میز کے ارد گرد چودہ مغربی ریاستوں کے مندوب بیٹھے اور پھر اگلے 104 دن کی کاوشوں کے نتیجے میں براعظم افریقہ کے نقشے کو اسکیل اور پنسل کی مدد سے سرحدیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط32)
”چلاسی عورت بہت محنتی ہے، سارا دن کام کرتی ہے۔ مجال ہے کسی کے جسم پر ذرا سا بھی موٹاپا نظر آئے۔پیدل سفر، دن بھر کی مشقت، سادہ غذا سبھی موٹاپے کے دشمن ہیں۔ یہاں کی عورت صبح سویرے اٹھتی ہے۔ دودھ دوھنے سے لے کر لسی بنانے اور مکھن نکالنے تک، ناشتے سے رات…
جرمن نسل پرستی، جو ہٹلر تک آ پہنچی
جرمنی تقریباً تین سو کے قریب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا، اس لیے اس کی طاقت اور توانائی بکھری ہوئی تھی۔ اس کے مقابلے میں دوسرے یورپین ممالک سوائے اٹلی کے متحد بھی تھے اور سیاسی طور پر طاقتور بھی۔ اس لیے جرمنی کے دانشوروں میں یہ جذبہ ابھر رہا تھا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
بے ہنگم موسمیاتی تبدیلیاں، کیا ہم ڈوب جائیں گے؟
چند روز قبل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک وارننگ جاری کی تھی کہ آبی قیامت سر پر کھڑی ہے۔ 72 فیصد امکان ہے کہ پاکستان میں سیلاب اور اس کے آفٹر افیکٹس سے تباہی آنے والی ہے پاکستان اس وقت دو موسمی نظاموں کے گرداب میں پھنس چکا ہے۔ ایک یہ کہ فروری کے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط30)
تھور وادی سے چلاس تک گزرتے سندھو نے اس قدر گہری کھائیاں کھود دی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے ہی دھوپ پہنچتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سرزمین بدصورت ہے اور یہاں سے گزرتے دل پر عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ اس وادی کی وسعت میں سندھو خاموشی مگر تیزی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…
تخت و تاج سے اب بچے کھیلتے ہیں
فرانسس بیکن Francis Bacon کہتا ہے ”پہلے ذہنی خوبیاں حاصل کرو، باقی چیزیں یا تو مل جائیں گی یا ان کی کمی کا احساس بھی نہ ہوگا“ افلاطون کہتا ہے کہ انسانی عمل کے بڑے بڑے ماخذ تین ہیں: خواہش، جذبہ اور علم۔ خواہش کا مرکز جسم ہے، جذبے کا مرکز دل ہے، اور علم…