شناخت کا بحران
شناخت کا بحران ایک عام اصطلاح ہے جو انسانی تاریخ میں نئی نسلوں کی آمد کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔ یہ بحران عموماً اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل اپنے تاریخی ورثے، معاشرتی اقدار اور سماجی تنظیم کے بارے میں کم علم رکھتی ہے۔ شناخت کا بحران اور ترقی پذیر دنیا کا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 20)
مرول ٹاپ بادلوں میں چھپ کر پیچھے رہ گیا ہے۔ سڑک قراقرم کے پہاڑوں پر سندھو کے سنگ بل کھاتی ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھری پاک فوج کی چھوٹی چھاؤنی ’ہمزی گونڈ‘ (قمریگون) کو رواں ہے۔ یہ ممنوع علاقہ (restricted area) ہے۔ اس چھاؤنی کو مرکزی سڑک سے ملاتا واحد زمینی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 19)
ایک بار کرنل (آر) شہباز نے بتایا تھا ”میں 1978ء سے1980ء تک 2 این ایل آئی (2NLI) کا کمانڈر رہا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسکردو سے اولڈنگ تک کا راستہ تنگ، دشوار تھا اور اس مسافت طے کرنے میں سات (7) گھنٹے لگتے تھے۔ مرول ٹاپ سے آگے کا راستہ تو بہت ہی کٹھن…
میں خط کیوں نہیں پڑھتا؟
ہمارے ساتھ ایک عجیب نفسیاتی معاملہ ہے۔ فی البدیہہ جتنے بڑے جلسے میں جو مرضی گفتگو کروا لیں، لیکن اگر کسی محفل میں لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر لوگوں کو سنانی پڑ جائے تو ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، آنکھوں کے آگے ترمرے ناچنے لگتے ہیں، ہاتھ یوں لرزتے ہیں جیسے موبائل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 18)
”مرول ٹاپ سے وہ دور پہاڑ کی چوٹی پر جو سفید پتھروں کی لکیر دکھائی دے رہی ہے، دراصل ’لائن آف کنٹرول‘ ہے۔ اسی لائن آف کنٹرول کے دامن سے بہتا میں پاکستان میں داخل ہوا ہوں۔ دونوں سرحدوں پر مجھے کوئی فوجی نظر نہیں آیا البتہ ان اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر دونوں…
اے خیرات دتی اے بے غیرتا؟
حزبِ اختلاف میں ہو تو گالی دو، برسرِ اقتدار ہو تو گھٹنوں کے بل بیٹھ کے کشکول آگے کر دو، خیرات مل جائے تو پھر پلٹ کے منہ بھر گالی دو ’اے خیرات دتی اے بے غیرتا؟ آیندہ جو تیرے ول آواں تے اپنے پئیو دا نئیں۔‘ کم ازکم میں نے تو اپنے ہوش میں…
’جب آنچل بنے پرچم‘ : ایم آر ڈی تحریک کی خواتین
جنرل محمد ضیاءالحق کے طویل مارشل لا کے دوران جمہوریت پسند راہنماؤں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد رکھی۔ سخت پابندیوں کے دور میں، جب خفیہ اداروں کی نگاہیں ہر لیڈر کا تعاقب کر رہی تھیں، بیگم نصرت بھٹو نے اپنے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 17)
میں نے جیپ سے اتر کر کمر سیدھی کی ہے جبکہ سندھو دور نیچے اپنے شور سے اپنے بہنے کا احساس دلا رہا ہے۔ جیپ پھر سڑک پر رواں ہے۔پہلے ہی موڑ نے بتا دیا کہ آنے والا راستہ کتنا دشوار ہوگا۔ فور بائی فور سے یہ موڑ مڑا تو اللہ یاد آ گیا۔ تنگ…