خاموشی کی صلیب پر لٹکی ہماری شناخت
اس آرٹ کو دیکھنے کے بعد شاید آپ کے ذہن میں بھی ہزاروں سوالات جنم لیں۔۔ اسی طرح ایک دن ہمیں ایک سیشن میں بلایا گیا تھا، جو ہمارے ہی لئے تھا اور اس سیشن میں ہمیں بہت ساری چیزوں کے بارے میں آگاہی دی گئی تھی۔ اس سیشن میں کافی سارے لوگ ایسے بھی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 12)
”تبت کے ساتھ میری قربت، لیہہ کے قدیم تجارتی راستے اور مذہبی روابط ہیں۔ لیہہ ’تبت اصغر‘ (چھوٹا تبت) کہلاتا ہے۔ تبت، چین، ہندوستان اور بلتستان کے تاجر ادھر کا رخ کرتے تھے۔ قدیم دور میں یہاں ایک سے زیادہ شوہر (چند شوائی) کا عام رواج تھا لیکن اب یہ رسم قانون…
کہانی ایک سائن بورڈ کی
یہ بورڈ آپ دیکھ رہے ہیں۔۔ آج ایک کہانی اسی بورڈ کا سناتے ہیں۔۔ گڈاپ روڈ سے آف روڈ ایک راستہ تھدو ڈیم کی طرف جاتا ہے، اس سے آگے چلتے ہوئے جیسے ہی آپ کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں داخل ہوتے ہیں، کچھ ہی فاصلے کے بعد یہ بورڈ دکھائی دیتا ہے۔ اس…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 11)
سورج کی نارنجی کرنیں افق پر اپنے رنگ بکھیرنے لگی ہیں۔ سندھو کی گزرگاہ کا یہ علاقہ قابل دید ہے مگر یہاں زندگی بڑی سخت لیکن بے کیف نہیں کیونکہ راستے اور پگڈنڈیاں جو اس وادی سے گزرتی ہیں، مختلف زمانوں میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مذہبی زائر اور تجار…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)
دم چک سے میں نے جیپ کرائے پر لی ہے۔ پنتیس (35) سالہ صحت مند، باریش، گوری رنگت، دم چک کا رہائشی نواز میرا ڈرائیور اور ہم سفر ہے۔ (کیا خوش قسمتی ہے کہ بہاول پور میں میرے ایک سرکاری ڈرائیور کا نام بھی نواز تھا۔ وہ کمال درویش منش اور عمدہ ڈرائیور تھا۔) میرا…
دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا
مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔۔ جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 9)
”میں تقریباً دو سو (200) میل یا تین سو بیس (320) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تبت کی شمال مشرقی سرحد عبور کر کے چھیالیس (46) سو میٹر کی بلندی سے مقبوضہ کشمیر کی وادیِ لداخ میں داخل ہوتا ہوں۔ لہہ سے تیس (30) کلومیٹر دور میری پہلی ڈسٹری بیوٹری دریائے ’زنگسار‘…
امیدوں کے جزیرے
اور آخر کار سندھ میں چند دن پہلے بلدیاتی نظام کا انتخابی عمل مکمل ہوا. تمام بلدیاتی اداروں میں انتخاب کا عمل بھی پایہِ تکمیل تک پہنچا. یونین کاؤنسلز، ٹاؤنز، تحصیل و ضلعی سطح تک کے عہدیداروں نے اپنی اپنی ذمیداریاں بھی سنبھال لی ہیِں. سندھ کے بلدیاتی…