مُنے اور اُن کے ابّا
یادش بخیر! منو بھائی نے ادبِ لطیف میں اس اصطلاح کو تبدیل کرنے کا معرکہ سر کیا۔ منو بھائی سے پہلے یہ اصطلاح بھاگوان خواتین استعمال کیا کرتی تھیں۔ میرے ایک کلاس میٹ اور اُن کے بھائیوں نے پاکستان میں جدید ریستوران کی چَین بنائی۔ میرے کلاس فیلو چند سال یہ…
عمرانی جن اور ٹوٹی ہوئی بوتل
اس طرح کی نعرے بازی یا گھیراؤ جلاؤ کوئی پہلی بار تھوڑی ہوا ہے۔ انیس سو اڑسٹھ میں بھی تو یہی ہوا تھا، جب دس سالہ سیاسی گھٹن کے مارے لوگوں کے سلگتےجذبات پر دس سالہ جشنِ ترقی نے نمک پاشی کا کام کیا اور ڈھاکہ تا پنڈی اور پنڈی تا کراچی پہلی بار بدتمیز…
سب یہ شر پسند ہیں!
شر پسندی کا سب سے آسان مگر زبردست مفہوم پنجابی زبان میں بیان ہوا ہے۔ دل تو چاہتا ہے لکھ ڈالوں لیکن جو چَھپ نہ سکے، اونُوں لِکھن دا فیدا کی؟ فیدا کی، کے حوالے سے عبیر اُبو ذری، جنہیں میں پنجابی زبان کا آخری بابا کہتا ہوئے دوسرے بابوں سے بالکل نہیں ڈرتا،…
تاریخ رقم ہوتی جو ہم نے دیکھی
جو ہوا اُس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ عوام کا غصہ اتنا ہوگا اور غیظ و غضب کا اظہار اس انداز سے ہوگا، یہ ہم سوچ نہ سکتے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ ہوا اور دنیا حیران رہ گئی۔ حرمت و تقدیس کا بھرم یوں ٹوٹا کہ سب دیکھتے رہ گئے۔۔ اور یہ سب…
کور کمانڈر کا مور اور ہمارا مور چور
اگر وہ چاہتا تو کوئی قیمتی چیز بھی اٹھا سکتا تھا۔ دیوار پر لگا کلاک، چھت پر لگا فانوس بھی اتار سکتا تھا۔ فریج میں پڑا قورمہ اٹھا سکتا تھا، ٹھنڈی ٹھار سٹرابری کے مزے لے سکتا تھا، کچن میں پڑا کوئی ڈنر سیٹ لے کر جا سکتا تھا ڈیزائنر صوفوں پر پڑے کشن تو…
عمران خان کی گرفتاری اور حالیہ واقعات کا کس کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
سابق وزیراعظم عمران خان کو منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کرنے کی دیر تھی کہ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا۔ گذشتہ دو دنوں کے دوران مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ جلاؤ…
کام یاد نہیں رہتے؟ موبائل سے جان کیسے چھڑائیں؟
ہمارے اماں ابا اکثر شکایت کرتے تھے کہ تم لوگ دھیان سے کام نہیں کرتے، استادوں کو بھی یہی شکایت تھی اس وقت بے دھیانی کے سارے کھیل ہم لوگوں کے دماغ میں ہوتے تھے۔ پڑھنے بیٹھے ہیں، گھر میں کوئی کام کر رہے ہیں، کوئی سامان لینے گئے ہیں گھر کا، یا اماں ابا…
تبدیل شدہ دنیا کے ناقابل تبدیل شدہ لوگ
امریکا کے فلسفی جان ڈیوی نے کہا تھا ’’ہم صرف اس وقت سوچتے ہیں، جب مشکلات کا سامنا کرتے ہیں‘‘ ڈیوی فطرت پسند چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء سے بہت متاثر تھا، جس کی کتاب ’انواع کی ابتداء‘ 1859 میں شائع ہوئی تھی ڈارون نے انسانوں کو ایسی زندہ مخلوق قرار دیا…