سندھ کی نجی جیلیں: ’لڑکی خوبصورت ہوتی تو منشی اس پر ہاتھ رکھ کر کہتا یہ زمین کا کام نہیں اور کام کرے گی‘
’مجھے دو تین بار اغوا کیا گیا، مارا پیٹا گیا، رحیم یار خان اور جامشورو میں بھی اغوا ہوئی، زمینداروں نے بہت مارا لیکن میں نے کہہ دیا کسانوں سے دستبردار نہیں ہوں گی، انھیں آزاد ضرور کروائیں گے۔‘ یہ ہیں لالی کولھی، جو پہلے خود نجی جیل میں قید تھیں اور اب…
ایران سے آئے پارسی، جنہوں نے برصغیر کی صورت گری میں مرکزی کردار ادا کیا
226 عیسوی سے 651 عیسوی تک ریاست فارس (موجودہ ایران) میں ساسانی سلطنت قائم تھی، جس کا سرکاری مذہب زرتشتی تھا۔ اس مذہب سے جڑے لوگ پارسی کہلاتے تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب جزیرہ عرب کے مسلمانوں نے ریاست فارس کو فتح کر لیا تو اس کے ساتھ ہی ساسانی سلطنت کا…
ہر طرف افراتفریح مچی پڑی ہے
وہاں اس قدر شور برپا تھا کہ الاماں! کان پڑی آواز سننا تو درکنار، ہر کوئی اپنے سامنے والے سے پوچھ رہا تھا کہ ابھی ابھی میں نے کیا کہا؟ (مشتاق یوسفی) لپاڈکی، طوائف الملوکی، آپادھاپی، افراتفری، افراتفریح، نفسانفسی، شترِ بے مہار، گدھا پچیسی، لچرپن، پگڑی…
کراچی کی آبی گذر گاہیں اور ملیر ندی کی حیثیت، چند حقائق
آبی گذر گاہیں یا ندیاں فطرت کی انسانوں کو دی ہوئی نعمتیں ہوتی ہیں. انہی دریاؤں کی بدولت انسانی تہذیب کی شروعات ہوئی۔ انہی ندیوں دریاؤں کی بدولت انسان نے زمین کا سینہ چیر کر اناج اگانا سیکھا۔ انہی ندیوں کی وجہ سے انسان نے اپنے وجود کو پہچانا ـ ہم اگر…
ایک خبطی بڈھے کی داستان
ہوزے موہیکا کی عمر اس وقت اٹھاسی برس ہے۔ وہ یوروگوئے کے دارالحکومت مونٹی وڈیو کے مضافات میں اپنی اہلیہ لوسیا توپولانسکی کے گھر میں رہتے ہیں۔ان کی شادی دو ہزار پانچ میں ہوئی تھی۔ دونوں کا تعلق ملک کی حکمران اشرافیہ سے ہے، مگر یوروگوئے کی ’اشرافیہ‘ کا مطلب…
لوگوں کو زیادہ مہربان بننے سے کیا چیز روکتی ہے؟
مہربان ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلے میں ’کائنڈنس ٹیسٹ‘ دنیا کا سب سے بڑا سروے ہے۔ یہ تحقیق ان عوامل پر روشنی ڈالتی ہے جو ہمیں مہربانی کرنے سے روکتے ہیں اور یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمدردی کا جذبہ ہر جگہ موجود ہے ایک دن میں باہر ورزش کر رہی تھی, جب…
کتاب سے اسکرین تک، ادب کی بے ادبی
تکنیکی ترقی سے جہاں دنیا سمٹ کے ہتھیلی میں سما گئی اور انسان کو ان گنت فوائد حاصل ہوئے، وہیں کہیں نہ کہیں نقصانات بھی ہوتے چلے گئے۔ الیکٹرانک کتب کے فلسفے نے معلومات تک رسائی کو آسان تو کیا مگر نتیجہ کچھ برعکس بھی نکلا۔ نت نئی ایپ کتابوں سے دور کرتی…
شیر دریا، پانی کے دیوتا اور زندہ پیر کی کتھا (دوسرا اور آخری حصہ)
رچرڈ ایف برٹن تو بکھر کا قلعہ دیکھنے کے لیے چلے گئے ہیں۔ ہینری کزنس اپنی تحقیق میں مشغول ہیں۔ اس سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ ہم ابن بطوطہ سے اس جزیرے کے متعلق کچھ باتیں سن لیں۔ وہ محمد بن تغلق کے زمانے (1333ء) یعنی آج سے تقریباً 700 برس پہلے یہاں آئے…