ایران آوارگی (قسط 6)
گزشتہ قسط میں میں نے لاشار کی وجہِ تسمیہ کے حوالے سے دو روایات کا تذکرہ کیا تھا، اس بارے میں (فیسبک پر) ایک کمینٹ میں امین ہوتی نے یہ لکھا کہ ”یہ لاش آور (لاشیں بہا کر لانے والی نہیں) بلکہ ”لاش+وار“ ہے، جس کے معنیٰ ہیں: لاش کھانے والی ندی“ کیونکہ اس ندی…
مرتضیٰ بھٹّو: ذوالفقار علی بھٹّو کے ’حقیقی سیاسی جانشین‘ جو اپنی ہی بہن بےنظیر کے دورِ حکومت میں مارے گئے
’وزیر اعظم کے صرف ایک پیر میں چپّل تھی، دوسرے میں نہیں۔۔۔ وہ بھی بےنظیر بھٹّو جیسی وزیراعظم۔۔۔‘ یہ منظر ہے 20 ستمبر 1996 کی اس رات کا جب پاکستان کی اُس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹّو اپنے بھائی میر مرتضیٰ بھٹّو کی موت پر شدّتِ غم سے نڈھال ہو کر کراچی کے…
بے زبان جو ڈوب گئے۔۔۔
زندگی کے لیے پانی ضروری ہے لیکن یہی پانی کئی بار تباہی کی وجہ بنتا ہے۔ قدرتی آفات میں سب سے عام آفت سیلاب ہے اور کئی بار یہ قدرتی آفت تواتر سے آتی ہے اور ہر بار گذشتہ بار کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے ہم جب بھی سیلاب کی بات کرتے ہیں…
’ریٹائر آپ ہو رہے ہو پاکستان نہیں‘
گذشتہ برس پندرہ اگست کو طالبان کابل میں داخل ہوئے۔ چار ستمبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اچانک کابل پہنچے، حالانکہ تب تک کابل میں کسی باضابطہ حکومت کا وجود نہیں تھا جنرل صاحب نے پاکستانی سفارت خانے میں چائے کا کپ ہاتھ میں لیے نہایت…
سندھ ڈوبا یا ڈبویا گیا؟
کئی دنوں سے میں سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کی کوریج پر تھا، اس سے پہلے میں نے 2010، 2011 اور 2020 کے سیلابوں میں بھی سندھ کی کوریج کی تھی، مگر اس بار جو میں نے تباہی، بدانتظامی دیکھی ہے وہ سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تین ہفتوں سے زیادہ دن گزر…
سب دیکھیں پر نظر نہ آئیں نامعلوم افراد
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک صحافی مدثر نارو سمیت چھ جبری لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ نو ستمبر کو ہونے والی سماعت پر یا تو مذکورہ لاپتہ افراد کو پیش کیا جائے یا پھر وزیرِ اعظم شہباز شریف ذاتی طور پر حاضر…
کیا امریکہ اب لوگوں کے لیے پُرکشش نہیں رہا؟
بین الاقوامی سطح پر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، لیکن صرف امریکیوں کے لیے۔ اصل میں، صرف ماگا (میک امریکہ گریٹ اگین) والے امریکیوں کے لیے۔ باقی دنیا کی طرح اب سمجھدار امریکیوں کا نظریہ بھی وسیع ہے مجھے اس بات کا باقاعدگی…
گورباچوف
بات گوربا چوف کے بہانے اس زمانے کی ہے، کچھ اس طرح کے ذکر اس پری وش کا ہے اور بیان اپنا ہے۔ قصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ پیار کسی فرد سے نہیں ہوتا، کسی نظریے یا سوچ سے بھی ہو سکتا ہے عشق ہو جائے، جنوں کی حد جہاں محبوب کا پیمانہ…