مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار بنتے ہیں مگر…..
پال کو ان کی سابقہ بیوی نے دس سال تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ساٹھ سے زائد بار پال کو باہر نکال کر گھر کے دروازے بند کر دیے، یہاں تک کہ وہ بعض اوقات پال کو گھر سے میلوں دور چھوڑ دیتی تھیں اور پال کو پیدل چل کر واپس گھر آنا…
آخر پاکستان پلاسٹک کا کچرا درآمد کیوں کرتا ہے؟
ہماری زمین پلاسٹک میں ڈوبتی جارہی ہے۔ پلاسٹک کے آسان، سستے اور پائیدار ہونے کی وجہ سے گزشتہ 70 برسوں میں اس کی پیداوار اور کھپت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں 9 ارب 20 کروڑ ٹن پلاسٹک تیار ہوا جو اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر ماحولیات اور انسانی زندگی…
حب الوطنی اور قوم پرستی
جب پاکستان کو ترقی کی اشد ضرورت ہے، مذہبی اور نسلی قوم پرستی ملک کو تقسیم کرتی ہے اور ترقی کو روکتی ہے۔ ملک 1971 میں غلط تصور شدہ قوم پرستی کی وجہ سے ٹوٹ گیا ، نسلی اور لسانی تعصبات نے ملک کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا اور…
زباں فہمی: کیا پنچائتی نظام آریاؤں نے متعارف کروایا تھا
بکھیرتے رہو صحرا میں بیج الفت کے کہ بیج ہی تو ابھر کر شجر بناتے ہیں دشتِ نفرت کو صحنِ الفت میں بدلنے کا نسخہ سُجھانے والے شاعر ’جمیل الدین عالی‘ ہیں۔ ہم ان کے عالی جذبات کی قدر کرتے اور کچھ ’بیج‘ کا ذکر کرتے ہیں ’بیج‘ کی اصل سنسکرت کا ’بیجا/ बीज ‘…
کششِ پندار کے ’بلیک ہول‘
کائنات کی سب سے وزنی، سب سے پرکشش اور سب سے پراسرار اکائی بلیک ہول ہے۔ ان کی بھوک اتنی ہوتی ہے کہ لاکھوں سورج ہڑپ لیں اور ڈکار تک نہ لیں۔ کشش ایسی کہ کائنات کی سب سے تیز رفتار چیز روشنی بھی ان کے چنگل میں پھنس جائے تو ابد تک رہائی نہ…
اصغر خان کا وہ تاریخی خط، جو 1977 کے مارشل لا کا محرک بنا
1977 کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھے جاتے ہیں یہ وہی انتخابات تھے، جن میں شدید دھاندلیوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی گئی اور جس کے نتیجے میں ملک ایک طویل مارشل لا کا شکار بنا ان انتخابات کے لیے پولنگ سات مارچ 1977 کو ہوئی۔ 19…
مرگ فروشوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں
لگتا تھا کہ کوویڈ کے دو برس پر پھیلے تباہ کن معاشی و انسانی اثرات نے کم ازکم کچھ عرصے کے لیے انسان کو انسان کا بچہ بنا دیا ہے، مگر ایسا ممکن نہیں اعلیٰ ترین طاقتور کرسیوں پر جو فیصلہ ساز قابض ہیں وہ تاریخ میں کسی بھی طرح سے اپنا نام کندہ کرانے…
عید مبارک کی آواز اور مرزا پور والے لالہ
جفی کو اس کے دادا یہ آواز مار کے عید کی صبح اٹھا دیتے۔ وہ بے چارہ آنکھیں مَلتا پھر سو جاتا۔ تھوڑی دیر بعد یہی آواز تھوڑی غصیلی ٹون میں آتی، تب اسے مجبوراً اٹھنا پڑتا سب بچوں کا ایک کزن ایسا ہوتا ہے، جس کی عیدی پہ باقی سارے رشک کرتے ہیں بلکہ…