یہ کون ہیں، کہاں سے اترے ہیں؟
اس ملک کے عام دماغوں کو مکمل بانجھیانے کا جو منصوبہ 1977ع میں شروع کیا گیا تھا وہ توقع سے زیادہ کامیاب رہا اور اب چہار سمت ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔‘ ہر شے جواز و معنی و مقام بدل چکی ہے۔ جو جتنا بونا ہے اتنا ہی قد آور ہے، جتنا…
تعلیمی سفر میں فیڈبیک کی اہمیت
کسی بھی چیز یا شخص کے بارے میں رائے دینا جتنا آسان کام ہے، اُتنا ہی مشکل کام اُس کی وضاحت کرنا ہے۔ کیونکہ جب وضاحت دی جاتی ہے تو اس کے حُسن و قُبح، دونوں کو مدلل اور شائستہ انداز میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں کون سی چیز بہت اچھی ہے،…
پہلے اندر سے تو آزاد ہو جائیں
دو ہزار انیس میں جب دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطے میں سیکڑوں طلبا کئی دن تک ’’ ہم لے کے رہیں گے آزادی ’’ کا نعرہ لگا رہے تھے تو مودی سرکار نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کس سے آزادی مانگ رہے ہو ؟ انگریز تو سینتالیس میں چلے گئے۔اس پر…
”ایبسولوٹلی ناٹ“ کو رخصت کر کے ”یس سر“ کو لایا گیا
آخر وہی ہو جس کا مطالبہ امریکا چار ماہ سے کر رہا تھا۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں قائم امن کو امریکا اور بھارت دونوں ہی پسند نہیں کرتے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغانستان سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے…
اشرافیہ علاج کے لیے بیرونِ ملک کیوں جاتی ہے؟
یہ 2014ع کا واقعہ ہے، جب معذوروں کے عالمی دن کے موقعے پہ لاہور کے ڈیوس روڈ پہ نابینا افراد نے جلوس نکالا۔ شرکا اپنے چند مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لیے اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے سیکریٹریٹ جانا چاہتے تھے نابینا یہ سمجھے تھے کہ آنکھوں پہ لگا سیاہ…
دنیا پر امریکی اجارہ داری
انسانی نفسیات بھی بڑی عجیب ہے۔ انسان ہزاروں سال سے کھلی آنکھوں سے وہ خواب دیکھ رہا ہے، جس کی تعبیر ابھی تک نہیں نکل پائی کہ اسے ظالموں کے ظلم و استحصال سے چھٹکارا ملے۔ اس تاریک رات کا خاتمہ ہو۔ وہ صبح کب آئے گی۔ شاید کبھی نہیں۔ سوویت یونین میں سوشلسٹ…
ملیر ایکسپریس وے: ’ہمارے گھروں پر لگے سُرخ نشان ہمارے لیے موت کا پیغام ہیں‘
’ہمارے گھر کی دیواروں پر لگے یہ سُرخ نشانات ہمارے لیے موت کا پیغام ہیں۔ ہمارے گھر چھین لیے جائیں گے تو ہم کہاں جائیں گے، کیا کریں گے؟‘ ہمارے اردگرد مقامی لوگوں کا ہجوم تھا جو اپنے گھر کی دیواروں پر لگائے گئے سُرخ نشانات دکھا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ…
ڈجیٹل صورِ قیامت کلک ہو چکا ہے
وہ جو کہتے ہیں کہ جب سچ بال سنوار کر باہر نکلنے کے لیے تیار ہو رہا ہوتا ہے، تب تک جھوٹ کرہِ ارض کے تین چکر لگا کے سو چکا ہوتا ہے۔ کہا تو یہ کئی عشروں پہلے گیا تھا مگر اس کہے کی حقیقت اب کہیں جا کے کھل رہی ہے کہنے کو…