بے دماغ و بد دماغ سیاست
اعلیٰ دماغ مغربی ممالک کی کوویڈ سے نمٹنے کی حکمتِ عملی سے اس تاثر کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ کوویڈ کا متاثر بظاہر صحت یاب ہو جائے تب بھی اثرات جسم اور ذہن کے مختلف افعال پر عرصے تک غالب رہتے ہیں اور ان سے چھٹکارا رفتہ رفتہ ہی ممکن ہے اس تناظر…
زندگی کی قیمت محض ایک الزام!؟
انسانی زندگی لینا اتنا آسان ہو سکتا ہے، کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ کیا زندگی کی وقعت ایک الزام کی رہ گئی ہے؟ جمعے کو سیالکوٹ میں ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی۔…
ايک تصویر ایک کہانی۔ 22
کوہستان کے جنگل میں قائم ایک لائبریری آج ذکر ان تصاویر کا، جو جنگل میں قائم ایک لائبریری کی ہیں. کراچی سے 95 کلو میٹر شمال کی جانب حیدرآباد کی طرف جاتے ہوئے موٹر وے ایم۔9 سے دادا بھائی کے سامنے سے ایک راستہ مول شہر کی جانب نکلتا ہے، وہاں سے مڑا جائے تو…
پرانی تہذیب و ثقافت اور ہمارا آج
دسمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ کا ثقافتی دن مناتے ہوئے اجرک کا ذکر نہ آئے، یہ کیسے ممکن ہے؟ کہنے کو اجرک ایک چادر ہے، جس کے مخصوص رنگ اور ڈیزائن دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں، لیکن اس کی تاریخ کھوجنے والے ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے کے زمانے میں پہنچ جاتے ہیں۔…
اور پاکستان کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا؟
تقریباً آٹھ ماں پہلے میرے ایک کالم کا عنوان تھا کیا گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟ آج آٹھ ماں بعد میں سمجھتا ہوں کہ گھیرا تنگ ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے حامی بلکہ شاید کچھ اور خوش فہم قارئین اب بھی میرے خیالات سے متفق نہیں ہوں گے کیونکہ ہم پشتون اس جملے کا…
جو جتنا مہذب، اتنا ہی بد تہذیب
حالانکہ ڈچ سائنسداں بتا چکے ہیں کہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون ہفتوں پہلے نیدر لینڈز میں ظاہر ہو چکی تھی۔حالانکہ بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ماہرین کہہ رہے کہ اومیکرون ان کے ہاں مہینے بھر سے موجود ہے۔ مگر جب جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں نے ڈیڑھ ہفتے پہلے…
کہیں ہم گوادر کے آثارِ قدیمہ گنوا نہ دیں
اگست کا گرم دن تھا، شام ڈھلنے سے پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کریموک ہوٹل میں چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ ہوٹل میں مچھیرے بھی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے بیشتر ماہی گیروں کو شاید یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ‘کریموک ہوٹل’ گوادر کے…
ماحول کو عزت دو
غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صرف دو سالوں میں درجہ حرارت میں دو درجے اضافہ ہو گیا ہے۔ کیا کسی کے پاس وقت ہے کہ وہ بیٹھ کر سوچے پانچ دس سال کے بعد یہاں زندگی کیسی ہو گی؟ کوئی اور ملک ہو تو شاید برداشت کر جائے ، ہم تو…