وہ ٹھگ، جس نے بیوی کا انتقام لوگوں سے لینا شروع کردیا
مسلم اکیڈمی ملتان ایک قدیم تعلیمی ادارہ تھا، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے پرائیویٹ سیکٹر میں اپنی عملی خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ یہ ادارہ اگرچہ پرائیویٹ نوعیت کا تھا لیکن اس کے منتظمین نے اسے کاروبار کی غرض سے نہیں بنایا تھا۔ ان کا طریقہء تعلیم اور سالانہ…
بالی ووڈ کی ہندی فلموں میں ساڑھی کا کلچر
ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندی سینما شعوری یا لاشعوری (گمان غالب یہی ہے شعوری) طور پر بھارتی قوم پرستی کا ترجمان بن گیا ۔ نظریاتی لحاظ سے بھارتی سینما نے نوآبادیاتی اقدار و روایات کے خلاف ہندوستانی جاگیردار اشرافیہ کے اقدار کو اپنا ہتھیار بنایا اور انہی…
ملک ریاض، ایک قومی اثاثہ!!
بچپن میں کہانیاں سنتے تھے.. ان میں سے ایک کہانی یوں شروع ہوتی تھی، کہ ایک جن تھا، اس کی جان ایک طوطے میں بند تھی.. جن اس طوطے کو ایک پنجرے میں بند کر کے اس کی حفاظت کرتا تھا ـ میں اسے بس ایک کہانی سمجھتا تھا، مگر آج اس کہانی کو حقیقت…
آزادی کے امام!
جب کوئی سردار مر کر دھرتی میں دفن ہوتا ہے تو دھرتی کے سینے پر ایک بار بن جاتا ہے۔ جو دھرتی اُٹھانا بھی چاہے تو دھرتی سے نہیں اُٹھتا، پر جب کوئی دھرتی کا عاشق شہید ہوکر دھرتی کے سینے میں جاتا ہے، تو دھرتی توازن کھونے لگتی ہے چاند ہزار سال کے ماتم…
بلوچستان کی سب سے بڑی مسجد: مکّی مسجد
کراچی کے بعد آبادی کے لحاظ سے بلوچوں کا سب سے بڑا شہر "دزآپ” (زاھدان) ہے ـ مساحت کے لحاظ سے یہ شاید کوئٹہ سے بھی بڑا ہے، تاہم کوئٹہ کی آبادی یقینی طور پر اس سے زیادہ ہے ـ دزآپ کے لغوی معنی "چور پانی” کے ہیں ـ اصطلاحی لحاظ سے یہ اس…
کابل، جو میں نے دیکھا اور سنا۔۔۔
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد میں 19 اگست کو ساتھی صحافی سمیرا خان کے ہمراہ کابل پہنچا۔ پچھلی بار 27 مئی، 2021 کو ہم یہاں آئے تھے تو ایک الگ سا نظام، ماحول اور حکومت تھی۔ اس بار ہماری آمد ایک الگ فکر کے ساتھ تھی۔ پاکستان سے طورخم باڈر کراس کیا تو…
طالبان کے خلاف احمد مسعود کی مزاحمت میں کتنی جان ہے؟
اسی کی دہائی میں سویت یونین اور نوے کی دہائی میں طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت بننے والی وادی پنج شیر ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ گوریلا کمانڈر احمد شاہ مسعود کے فرزند احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کردیا ہے۔ احمد شاہ مسعود بلا شک و شبہ…
اے فلاحی اداروں کے رضا کارو! بس تھوڑا سا ٹھہرو!
فلاحی اداروں کی خاموش ایمبولینس آتی ہیں۔ ان میں بندوقوں سے چھید کیے اداس لاشیں ، اپنے وجود سے ٹپکتا لہو لیے موجود ہوتی ہیں۔ گورکن لائین میں دشت کے صحرا میں نئی قبریں کھود لیتا ہے. ان لاشوں کے دفن ہونے سے پہلے دشت کے ریت کے ذرّے شور کرتے، چیختے، ماتم کرتے…