یہ جنگ نہیں، مذہبی نسل کشی ہے!
کیا یہ کسی ایک گروہ (حماس) سے جنگ ہے یا فلسطینی قوم کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش؟ بالکل ایسے ہی، جیسے ہٹلر نے اپنی نسل پرستانہ نفرت کو ’فائنل سلوشن‘ کا نام دے کر جتنے یہودیوں اور جپسیوں کو قتل کیا جا سکتا تھا، کیا۔ اور اب کل کے مظلوم (یہودی) اسی ’فائنل…
جعفر طیار لائبریری – ایک زندہ لائبریری
موجودہ دور میں جب کہ سوشل میڈیا نے معاشرے کا مزاج تبدیل کر دیا ہے۔ مطالعے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے اور دوسری طرف ساری کتابیں سمٹ کر پی ڈی ایف کی صورت میں موبائل میں ہر وقت دستیاب ہوتی جا رہی ہیں۔ بظاہر لائبریری کی اہمیت ختم ہوتی ہوئی نظر آ رہی…
برطانیہ کا کیئر ویزا فراڈ، جس کا نشانہ سینکڑوں پاکستانی بنے
فرزانہ خان (فرضی نام) کا تعلق ضلع جہلم سے ہے۔ وہ گذشتہ چھ ماہ سے برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں اپنے خاوند کے ساتھ دھکے کھا رہی ہیں۔ ان کے پاس روزگار ہے اور نہ ہی سر چھپانے کی جگہ، گزر اوقات کے لیے وہ مختلف خیراتی اداروں کی محتاج ہو کر رہ گئی…
سیلفی کا جنون: ایک نفسیاتی بیماری
لڑکی نے موبائل فون سے اپنی تصویر لے کر دیکھی تو اسے بہت بھلی لگی، جس پر وہ بہت خوش ہوئی۔ اس نے یہ اپنی سہیلی کو بھیجی اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی لکھا کہ ”ہماری دوستی کتنی پیاری ہے۔“ پیغام بھیجتے وقت اسے اندازہ نہ تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری…
الیکشن یا سلیکشن؟
’چیزیں جتنی زیادہ تبدیل ہوتی ہیں، ان میں اتنی ہی یکسانیت رہتی ہے۔‘ اس حقیقت کا اطلاق پاکستان کی اقتدار کی سیاست پر ہوتا ہے۔ سیاسی منظرنامے پر ایک بار پھر وہی فرسودہ کھیل کھیلا جارہا ہے، جو ہم ماضی میں کئی بار دیکھ چکے ہیں مگر اس بار پرانے اداکاروں کے…
نارسسٹک پرسنلٹی ڈس آرڈر اور ازدواجی زندگی
حمنہ کا رشتہ آیا تو گھر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لڑکا بہت خوبصورت، اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والا سلجھا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ حمنہ کی خوبصورتی کی تو خاندان بھر میں دھوم تھی۔ دونوں کی چاند سورج کی جوڑی لگ رہی تھی۔ تعلق بنا اور بات چیت شروع…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
مجھے ووٹ دو!
نوٹ: مشہور مزاح نگار مجید لاہوری ’’حرف و حکایت‘‘ کے عنوان سے فکاہی کالم لکھا کرتے تھے۔ جناب شفیع عقیل صاحب نے ان کے فکاہی کالموں کا انتخاب ’’مجید لاہوری کی حرف و حکایت‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا۔ ان کی یہ تحریر 31 مارچ 1953ء کے کالم پر مشتمل ہے، لیکن ملک کے…