یورپی سیاح اور اسلامی دنیا

ڈاکٹر مبارک علی

اسلام اور مسیحیت میں ابتداء ہی سے تصادم اور اشتراک کا عمل رہا ہے۔ مسلمانوں کی پہلی فتوحات میں، جن ملکوں پر قبضہ کیا گیا، وہ بازنطینی سلطنت کا حصہ تھے، جو مسیحیوں کے آرتھوڈوکس فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ 712 عیسوی میں مسلمانوں نے جنوبی اسپین یا اندلس پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں بھی ان کا تصادم مسیحیوں سے ہوا، لیکن عہدِ وسطیٰ میں یورپ نے عربی ترجموں کے ذریعے یونانی فلسفے کو سیکھا اور اسلام کو سمجھنے کے لیے یورپ کی یونیورسٹیوں میں عربی زبان پڑھانے کی ابتداء ہوئی اور یورپی دانشوروں نے اس پر غور کرنا شروع کیا کہ ’اسلام کے خطرے‘ سے کیسے مقابلہ کیا جائے۔

سولہویں اور سترہویں صدیوں میں تین بڑی اسلامی سلطنتوں کا قیام عمل میں آیا۔ ان میں عثمانی، صفوی اور مغل سلطنتیں شامل تھیں۔ ان تینوں میں سب سے زیادہ طاقتور عثمانی سلطنت تھی، جس نے یورپ کے ملکوں میں فتوحات کے ذریعے اپنا تسلط ہنگری تک قائم کر لیا تھا۔ اس نے دوبار ویانا پر حملے کیے مگر اس پر قبضہ نہیں کیا جا سکا۔ عثمانی سلطنت اہلِ یورپ کے لیے نہ صرف سیاسی خطرہ تھی، بلکہ ان کے مذہب اور تجارت کے لیے بھی اس کا وجود مہلک تھا۔

ان حالات میں سترہویں اور اٹھارویں صدیوں میں یورپی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اسلامی ملکوں میں آئی تا کہ ان کے ملکوں کے حالات کا جائزہ لیں۔ ان میں سفید فام ڈپلومیٹ، تجارتی کمپنیوں کے نمائندے اور مشاہیر وغیرہ شامل تھے۔ چونکہ یہ سیاح اپنے ملکوں کے رسم و رواج اور روایات میں رَچے اور بسے ہوئے تھے، اس لیے ان کا رویہ تعصبانہ تھا۔ مجموعی طور پر ان سیاحوں نے جو بیانیہ دیا، وہ یہ تھا کہ مسلمان ملکوں کے حکمراں مکمل بااختیار ہیں۔ ان کا طرزِحکومت استبدادی ہے۔ یہ ہر قانون سے بالاتر ہیں۔ رعایا کی حیثیت غلاموں جیسی ہے، جن کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ چونکہ جانشینی کی کوئی روایات نہیں ہے، اس لیے حکمراں کی وفات کے بعد اس کے لڑکوں میں جنگ ہوتی ہے اور جو طاقتور ہوتا ہے، وہ اپنے بھائیوں کو قتل کرا دیتا ہے۔ بادشاہ ملک کی تمام زمینوں کا مالک ہوتا ہے، اس لیے نجی جائیداد کا ادارہ موجود نہیں۔ جاگیر خاص وقت کے لیے کسی امیر کو دی جاتی ہے اور پھر اس سے واپس لے لی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ان سلطنتوں میں خاندانی اُمراء کا طبقہ نہیں ہے۔ خاندانی اُمراء نہیں ہیں بلکہ یہ حکمران کی پسند پر ہوتا ہے کہ کس کو مراعات دے اور کسے اعلیٰ عہدوں پر فائز کرے، مگر سازش اور ذرا سے شبے پر کسی بھی عہدیدار کا زوال بھی ہو جاتا ہے اور اُس کا خاندان غریب اور مفلس ہو جاتا ہے۔

یہ سیاح اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکمرانوں کا دربار شان و شوکت والا ہوتا ہے۔ اپنی دولت کا مظاہرہ یہ اپنے لباس اور تخت کے ذریعے کرتے ہیں، جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوتے ہیں۔ دربار میں جب بادشاہ تخت پر بیٹھا ہے تو درباری تخت کے دونوں اطراف صفوں میں خاموشی سے کھڑے بادشاہ کے احکامات سنتے ہیں۔ کسی دربای کو یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ بادشاہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرے۔

سیاحوں کے ان تبصروں کی بنیاد پر Machiavelli (d.1527) نے اپنی کتاب The Prince میں لکھا ہے کہ عثمانی سلطنت استبدادی ہے، جبکہ یورپی معاشرے میں فرد کو آزادی ہے۔ کیونکہ یہ یورپی سیاح درباریوں اور اُمراء کے درمیان رہے، اس لیے رعایا کے بارے میں ان کے ہاں بہت کم معلومات ہیں۔ ان سیاحوں کے بیانات پر یورپ میں یہ نظریہ ابھرا کہ مشرقی سلطنتیں اِستبدادی ہیں۔

ان سیاحوں کی آمد کے بارے میں وہ اہم معلومات ملتی ہیں، جو انہوں نے مغل سلطنت کے بارے میں لکھی ہیں۔ عیسائی مشنری سب سے پہلے اکبر کے عہد میں آئے تاکہ اُسے عیسائی بنایا جا سکے، مگر اُن کا مِشن ناکام رہا۔ جہانگیر کے عہد میں انگلستان کا سفیر تھامس رَو (Thomas Roe) آیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا نمائندہ بھی تھا۔ اس نے جہانگیر کو تحفے میں یورپی طرز کی بگی دی اور اس نے بادشاہ کے ساتھ اجمیر میں قیام بھی کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کمپنی کے لیے تجارتی مراعات حاصل کی جائیں۔

دوسرا اہم یورپی سیاح برنیر تھا (Bernier-1688) جس نے شاہجہاں اور اورنگزیب کے بارے میں لکھا ہے۔ اُس نے اپنے سفرنامے میں دارا شکوہ کا حال لکھا ہے، جب وہ شکست کے بعد دَربدر پھر رہا تھا۔ اس نے آنکھوں دیکھا حال بھی لکھا ہے۔ جب دارا اور اُس کے بیٹے کی دہلی شہر میں بیمار ہاتھی پر بیٹھا کر تشہیر کی گیٔی ۔ اُس کے مطابق پبلک رو رہی تھی لیکن یہ ہمت نہیں تھی کہ دارا کو آزاد کرا سکے۔

برنیر نے مُغل حکومت کو استبدادی کہا ہے اور یہ کہ بادشاہ تمام زمینوں کا مالک ہوتا ہے۔ نجی جائیداد نہ ہونے کی وجہ سے زراعت میں ترقی نہیں ہو سکی۔ کیونکہ جاگیردار کو لگان سے دلچسپی ہوتی ہے اور اُسے پیداوار میں اضافہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ برنیر ہندوستانی فوج کے بارے میں بھی یہ رائے رکھتا ہے کہ نہ ان کی کوئی تربیت ہے اور نہ یہ صف بندی سے لڑتے ہیں۔ اس لیے فرانس کا ایک جرنیل اپنی فوج کے ساتھ ان کو شکست دے سکتا ہے۔

مذکورہ سیاحوں کے ان تنقیدی تبصروں کے علاوہ بعض ایسے سیاح بھی تھے، جنہوں نے مسلمان سلطنتوں کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ عثمانی صفوی اور مُغل حکمراں استبدادی نہیں تھے۔ ان پر اسلامی قوانین کا اطلاق ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے اُن کے اختیارات میں کمی آ جاتی تھی۔ عثمانی سلطان کو جانثاروں کی وجہ سے خطرہ رہتا تھا اور وہ انہیں ہر حالت میں خوش رکھنا چاہتا تھا۔ ان تینوں سلطنتوں کے حکمراں اپنے درباریوں اور مصاحبوں سے مشورے کرتے تھے اور پھر کوئی قدم اُٹھاتے تھے۔ انہیں اپنے اُمراء اور رعایا کی جانب سے بھی فکر رہتی تھی۔ اس لیے یہ قحط اور خشک سالی کے زمانے میں ٹیکس معاف کر دیتے تھے اور لوگوں کے کھانے کے لیے لنگر کا انتظام کرتے تھے۔ ان تینوں سلطنتوں میں غیرمسلموں کو تحفظ دیا جاتا تھا اور اُنہیں اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی آزادی تھی۔ ان سیاحوں نے اس بات کا بھی اشارہ کیا ہے کہ سفارتی اور تجارتی تعلقات کی وجہ سے اہلِ یورپ کو کئی فوائد حاصل ہوئے، اور کلچر کے تبادلے نے بہت سے تعصبات کو ختم بھی کیا ہے۔ خاص طور سے کچھ سیاحوں نے عرب کے بُدوؤں کی بڑی تعریف کی ہے، جو ایماندار اور مہمان نواز ہیں۔ استبداد کے خلاف ہیں اور اپنی آزادی کو ہرحال میں برقرار رکھتے ہیں۔

یورپی سیاحوں نے اسلامی ممالک کو تعصب کی نظر سے دیکھا مگر بعض معاملات میں ان کی تعریف بھی کی۔ سیاحوں کے ان منفی اور مُثبت بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی ممالک کو مشرق کے بارے میں جاننے کی جُستجو تھی۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے دونوں معاشروں کا تقابل کیا ہے۔ لیکن اہل مشرق کی جانب سے یورپ کو سمجھنے کی بہت کم کوششیں ہوئیں۔ یہاں سے نہ تو سیاح گئے، نہ ڈپلومیٹ اور تاجروں کے نمائندے جو یورپ میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے اور اپنا مقابلہ یورپ سے کرتے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close