Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بائیڈن کا پوٹن کو جنگی مجرم کہنا ‘ناقابل قبول اور ناقابل معافی’ ہے، روس

By Akhtar Rasool
مارچ 17, 2022 4 Min Read
0

جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے کو روس نے”ناقابل قبول اور ناقابل معافی” قرار دیا۔ ماسکو نے کہا کہ یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

اب جب کہ روس اور یوکرین کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی کارروائی کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو”جنگی مجرم” قرار دیا ہے

جوبائیڈن بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پوٹن جنگی مجرم ہیں تو پہلے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے لیکن جب صحافیوں نے ان سے دوبارہ یہی سوال کیا تو بائیڈن نے کہا،”ہاں میرے خیال میں وہ ایک جنگی مجرم ہیں

بائیڈن نے اپنے بیان کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تاہم وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان یوکرین میں ہسپتالوں سمیت دیگر سویلین عمارتوں پر روسی فوج کے میزائل حملوں کے پس منظر میں ہے۔”ایک غیر ملکی ڈکٹیٹر کے ذریعہ دوسرے ملک میں بربریت اور ہولناک واقعات آپ دیکھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ ہسپتال تباہ ہورہے ہیں، حاملہ خواتین اور صحافی اور دوسرے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ صدر بائیڈن نے دراصل ایک براہ راست سوال کا جواب دیا

جین ساکی نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ یوکرین میں روس کے حملوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ آیا یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں

روس کی جانب سے مذمت
روس نے امریکی صدر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

ولادیمیر پوٹن کے پریس سکریٹری دیمتری پیسکوف نے کہا، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بیان ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہے۔ اور یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

دریں اثنا جوبائیڈن نے کہا کہ امریکہ روسی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو سکیورٹی امداد کے طور پر 800 ملین ڈالر کی اضافی رقم دے رہا ہے۔ اس امداد کے تحت یوکرین کو ڈرون اور طیارہ شکن ہارڈویئر فراہم کیے جائیں گے

بائیڈن نے کہا کہ ہم یوکرین کو جنگ لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے ہتھیار دے رہے ہیں کیونکہ ابھی اور بھی مشکل دن آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اس امداد میں 800 طیارہ شکن سسٹم شامل ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ یوکرینی فوج اپنے عوام پر حملہ کرنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹر وں کو روک سکے

امن پیسے سے کہیں زیادہ اہم ہے، زیلنسکی
ایسے میں جب کہ جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں، یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس پر مزید پابندیاں عائد کی جانی چاہئے۔

ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے خطاب میں زیلنسکی نے کہاکہ روس یوکرین پرمسلسل بم حملے کررہا ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔”جارح روس ہماری جرأت اور انسانی اقدار کا امتحان لے رہا ہے۔ لیکن ہم وہ لوگ ہیں جن کا جمہوریت اور آزادی پر غیر متزلزل یقین ہے۔ ہم جان دے سکتے ہیں لیکن جارحیت ہرگز قبول نہیں کرسکتے۔ یہ جنگ مقدر کا فیصلہ کرے گی۔”

انہوں نے سن 1941میں امریکہ کے پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملے اور نائن الیون کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ہم گزشتہ تین ہفتوں سے ہر روز ایسی ہی صورت حال سے گذر رہے ہیں

زیلنسکی نے مطالبہ کیا کہ روس کے تمام سیاست دانوں پر پابندی لگائی جائے اور تمام امریکی کاروباری ادارے روس سے نکل جائیں۔ انھوں نے یوکرین کی فضائی حدود پر ‘نو فلائی زون’ قائم کرنے کا بھی اپنا مطالبہ دہرایا

یوکرینی میئر کے بدلے روسی فوجیوں کی رہائی
یوکرین نے جنوب مشرقی شہر میلٹی پول کے میئر کو رہا کرنے کے بدلے میں پکڑے گئے نو روسی فوجیوں کو روس کے حوالے کردیا۔

روسی فوج نے گزشتہ ہفتے میلٹی پول کے میئر ایوان فیدوروف کو پکڑ لیا تھا۔ یوکرینی صدر کے پریس سکریٹری نے ایک بیان میں کہا کہ ایوان فیدوروف کو روسی قبضے سے رہائی مل گئی ہے۔ ان کے بدلے میں گرفتار کیے گئے نو روسی فوجیوں کو رہا کیا جارہا ہے۔ جن کی پیدائش سن 2002 اور 2003میں ہوئی ہے۔ یہ دراصل بچے ہیں

دریں اثنا پوٹن نے کہا کہ یوکرین میں ان کی فوجی مہم "کامیابی” کے ساتھ جاری ہے اور اپنے منصوبے کے مطابق چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ملکوں کی طرف سے روس کے خلاف عائد اقتصادی پابندیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے تاہم اعتراف کیا کہ روسیوں کے لیے صورت حال ” آسان نہیں” ہے

Tags:

AfghanistanIraqJoe BidenLibyaRussiaSyriaUkraineUSAVietnamVladimir Putin
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

افغانستان میں 95 فیصد شہری بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں: اقوام متحدہ

Next

جیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme