Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

باصلاحیت ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا!

By Akhtar Rasool
نومبر 10, 2021 3 Min Read
0

ایک نوجوان امریکی، جون کینیڈی ٹول نے A Confederacy of Dunces کے نام سے ناول لکھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایک بہت اچھا ناول لکھنے میں کام یاب ہو گیا ہے۔ اس نے چار پانچ بڑے ناشروں سے رجوع کیا۔ ہر جگہ اس کے ناول کو مسترد کر دیا گیا۔ بددل ہو کر اس نے خودکشی کر لی

اس کی ماں کو بہت صدمہ پہنچا۔ اتفاق سے برس ہا برس بعد کسی محفل میں اس کی ماں کی ملاقات معروف ادیب واکر پرسی سے ہوئی۔ ماں نے شکوہ کیا کہ ناشر بڑے ادب ناشناس اور بے لحاظ ہیں۔ میرے بیٹے نے بڑا اچھا ناول لکھا تھا۔ ہر جگہ اس کے ناول کو مسترد کر دیا گیا۔ ناکامی کی تاب نہ لا کر اس نے خودکشی کر لی

واکر پرسی نے یہ سن کر، دل رکھنے کے لیے، کہا کہ مسودہ مجھے بھجوا دیں۔ میں پڑھ کر دیکھتا ہوں۔ جب واکر پرسی نے مسودہ پڑھا تو اسے اندازہ ہوا کہ بڑی عمدہ تحریر ہے۔ اس نے اپنے ناشر سے کہا کہ یہ ناول قابلِ اشاعت ہے۔ ناشر اپنے مدیروں کے مقابلے میں اپنے کام یاب مصنّفوں کی سفارش کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں

ناول شائع کر دیا گیا اور صرف شائع نہیں ہوا بلکہ امریکا کے سب سے اہم ادبی انعام پلٹزر پرائز کا مستحق بھی گردانا گیا۔ لیکن اس سے بیچارے مصنّف کو کیا ملا؟

یہ کوئی واحد مثال نہیں۔ ادب اور فن کے میدان میں بڑے بڑے فن کاروں کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ فان گوخ، جس کی تصویریں اب کروڑوں میں بکتی ہیں، مفلسی میں فوت ہوا۔ موتزارٹ کے پائے کا موسیقار مغرب میں کوئی کوئی ہو گا۔ وہ بھی مفلوک الحال مرا

یہاں ایک لطیفہ یاد آیا…
ڈورس لیسنگ نے ادب کا نوبل انعام ملنے کے بعد اپنا نیا ناول کسی فرضی مصنّف کے نام سے اپنے ناشر کو بھجوا دیا۔ ناشر نے یا اس کے مدیروں نے بلا تامل اسے مسترد کر دیا!

ایملی ڈکنسن کا اب نامور امریکی شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی میں اس کی کوئی قدر نہ ہوئی۔ شاید چھ یا سات نظمیں شائع ہوئیں۔ مدیر اس کی نظموں کو سمجھ ہی نہ سکے۔ سوچا کہ یہ تو مفہوم ٹھیک سے ادا کرنے پر بھی قادر نہیں۔ اوقات نگاری بھی بے ڈھنگی ہے۔ انہوں نے نظموں کو اپنی دانست میں ٹھیک کر کے مگر پوری طرح بگاڑ کر چھاپا۔ نظموں کی درگت بنتے دیکھ کر وہ چھپنے چھپانے سے تائب ہو گئی۔ ایک قصبے میں گوشہ نشین ہو کر پوری زندگی گزار دی

وفات کے بعد اس کے جاننے والوں نے اس کی نظمیں، جن کی تعداد تقریباً اٹھارہ سو تھی، چھپوا دیں۔ ان کی بھی سمجھ میں نہ آیا کہ نظموں میں جو اندازِ بیان اختیار کیا گیا ہے، اس کی معنویت کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھی، اپنی سمجھ کے مطابق، نظموں کو ٹھیک ٹھاک کر کے چھاپا۔ دوسرے لفظوں میں نظموں کی انفرادیت کو ملیا میٹ کر دیا۔ ایملی ڈکنسن کے صحیح ادبی مقام کا تعین کہیں بیسویں صدی میں جا کر ہوا۔
اپنے وقت سے پہلے پیدا ہونے کی سزا مل کر رہتی ہے!

قصہ مختصر یہ… کہ باصلاحیت ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عین ممکن ہے کہ آپ کو قدر دان ہی نصیب نہ ہوں۔ بعض ادیب اور شاعر اپنی زندگی میں مشہور ہو جاتے ہیں۔ بعد میں ان کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ بعضوں کو جیتے جی کوئی داد نہیں ملتی۔ بعد میں ان کا بڑا چرچا ہوتا ہے۔

یوں کہیے کہ فن ایک دریا ہے۔ بعض لوگ کسی نہ کسی طرح تیر کر دوسرے کنارے پر جا پہنچتے ہیں۔ وہاں ان کو خوش آمدید کہا جاتا ہے یا نظر انداز کر دیا جاتا ہے، کون جانے…؟
اور جو ڈوب جاتے ہیں، وہ بھی کہیں نہ کہیں پہنچ ہی جاتے ہوں گے….

Tags:

AuthorLiteraturePublishersRighters
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’ڈُگ ڈُگ‘: اس مندر کا قصہ جہاں موٹرسائیکل سے منتیں مرادیں مانگی جاتی ہیں

Next

رکن سندھ اسمبلی سلیم بلوچ اور راجا رزاق کی ایم ڈی واٹر بورڈ سے ملاقات

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme