Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

سائنسدان پہلی بار حشرات کے مکمل دماغ کا نقشہ بنانے میں کامیاب

By Akhtar Rasool
مارچ 12, 2023 3 Min Read
0

ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے حشرات کے دماغ کا پہلا اور مکمل نقشہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے

یہ تحقیق ’سائنس‘ جریدے میں شائع ہوئی ہے

نقشے میں پھلوں کی مکھی کے بچے کے دماغ میں موجود ہر ایک نیوران (پیغام رسانی کا کام کرنے والے خلیوں) کو دکھایا گیا ہے اور یہ کہ وہ کیسے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے ”نیورو سائنس کی یہ تاریخی کامیابی ماہرین کو حشرات کی سوچ کے طریقہ کار کو صحیح طور پر سمجھنے کے قابل بنا دے گی“

لاروے کے دماغ کا یہ نقشہ تین ہزار سولہ نیورانز پر مشتمل ہے اور اس کے اندر موجود نیورل پاتھ وے کے تفصیلی سرکٹس کو ’کنیکٹوم‘ کا نام دیا گیا ہے

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کا اب تک کا سب سے بڑا اور مکمل کنیکٹوم ہے، جس کے بارے میں ہم اب تک جانتے تھے

کیمبرج یونیورسٹی کے مالیکیولر بائیولوجی کی میڈیکل ریسرچ کونسل لیبارٹری کے پروفیسر البرٹ کارڈونا اور مارٹا زلاٹک نے یونیورسٹی آف کیمبرج اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ساتھیوں اور دیگر نے اس تحقیق کی قیادت کی ہے

ایک جاندار کا اعصابی نظام بشمول دماغ نیوران سے بنا ہوتا ہے، جو ایک دوسرے سے Synapses کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں

کیمیکلز کی شکل میں معلومات ایک نیوران سے دوسرے نیوران تک ان رابطہ پوائنٹس کے ذریعے ہی منتقل ہوتی ہیں

پروفیسر مارٹا زلاٹک کہتی ہیں ”جس طرح دماغی سرکٹ کی ساخت ہوتی ہے، وہ ان کمپیوٹیشن کو متاثر کرتی ہے جو دماغ کر سکتا ہے۔ لیکن اب تک ہم نے کسی بھی دماغ کی ساخت نہیں دیکھی سوائے راؤنڈ ورم سی ایلیگنز، کم کورڈیٹ کے ٹیڈپول اور سمندری اینیلڈ کے لاروا کے۔ تاہم ان سب میں نیورانز کی تعداد محض سینکڑوں میں ہوتی ہے“

انہوں نے کہا ”اس کا مطلب ہے کہ نیورو سائنس اب تک زیادہ تر سرکٹ میپس کے بغیر کام کرتی رہی ہے۔ دماغ کی ساخت کو جانے بغیر ہم اس بات کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ ان میں کمپیوٹیشن کیسے کام کرتے ہیں۔ لیکن اب ہم دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنا شروع کر سکتے ہیں“

میڈیکل ریسرچ کونسل میں نیورو سائنسز اور دماغی صحت کے شعبے کی سربراہ جو لاٹیمر کہتی ہیں ”ایم آر سی لیبارٹری آف مالیکیولر بائیولوجی اور دیگر اداروں کے ساتھیوں کا ایک دلچسپ اور اہم کام ہے۔ انہوں نے نہ صرف حشرات کے دماغ میں ہر ایک نیوران کا نقشہ بنایا ہے بلکہ انہوں نے یہ بھی کام کیا کہ ہر نیوران کیسے جڑا ہوا ہے“

انہوں نے کہا ”دماغ کے کام کرنے کے بارے میں اہم سوالات کو حل کرنے میں یہ ایک بڑا قدم ہے خاص طور پر کس طرح سگنلز نیوران اور Synapses کے ذریعے حرکت کرتے ہیں جو عمومی رویوں کا باعث بنتے ہیں اور یہ تفصیلی سمجھ بوجھ مستقبل میں علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے“

موجودہ ٹکنالوجی اتنی ترقی یافتہ نہیں ہے کہ بڑے جانوروں جیسے میملز کے لیے کنیکٹوم کا نقشہ بنا سکے

لیکن پروفیسر مارٹا زلاٹک کا ماننا ہے کہ ’تمام دماغ ایک جیسے ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ان تمام نیورانز کے نیٹ ورک ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا ”تمام انواع کے دماغوں کو بہت سے پیچیدہ کام انجام دینے پڑتے ہیں یعنی ان سب کو ہی سنسرز پر مبنی معلومات پر کارروائی کرنے، سیکھنے، اعمال کو منتخب کرنے، اپنے ماحول میں راستہ ڈھونڈنے اور خوراک کا انتخاب کرنے، اپنی نوع کو پہچاننا اور شکاریوں سے بچنا وغیرہ جیسے کام کرنا پڑتے ہیں“

پروفیسر مارٹا زلاٹک کہتی ہیں ”جس طرح سے جینز تمام جانوروں میں محفوظ ہوتے ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ بنیادی طرز عمل کو نافذ کرنے والے بنیادی سرکٹ کی شکلیں بھی محفوظ رہتی ہیں“

فروٹ فلائی لاروا کنیکٹوم کی تصویر بنانے کے لیے محققین کو لاروا کے دماغ کے ہزاروں ٹکڑوں کو سکین کرنا پڑا

انہوں نے اس عمل کے نتیجے میں وجود میں آنے والی تصاویر کو مکھی کے دماغ کا نقشہ تیار کرنے کے لیے دوبارہ تشکیل دیا اور بڑی محنت سے نیوران کے درمیان رابطوں کی تشریح کی

تین ہزار سولہ نیورانز کی نقشہ سازی کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناقابل یقین تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ synapses کے نقشے بھی بنائے

اس کام کو مکمل ہونے میں محققین کو بارہ سال کا عرصہ لگا یعنی صرف امیجنگ میں فی نیوران تقریباً ایک دن کا وقت صرف ہوا۔

Tags:

a new map of the human brain!benefit of brain stormingbeyond the neuronal model of intelligencebrainbrain mapbrain sciencehistory vital to the functionintroduction to brain stormingscience and the essence of being humanscientistscientists discover what happens when we diethe amazing world of gumball baby anaisthe art of conversationthe art of conversation mike tysonthe art of conversation with dan le batardthe brain forumthe human brain
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سماجی ماہرین ٹک ٹاک کے متنازع فلٹر ’بولڈ گلیمر‘ کے بارے میں کیوں فکرمند ہیں؟

Next

موبائل سُست کیوں پڑتا ہے، اور رفتار بحال کیسے کی جا سکتی ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme