Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

سمندر میں پلاسٹک سے وجود میں آنے والی چٹانوں کی دریافت کا انکشاف

By Akhtar Rasool
مارچ 19, 2023 3 Min Read
0

ماہرین ارضیات نے برازیل کے ٹرینیڈاڈ جزیرے پر پلاسٹک کی آلودگی سے وجود میں آنے والی چٹانوں کی ’خوفناک‘ دریافت کا انکشاف کیا ہے

کچھوؤں کی پناہ گاہ کے لیے مشہور اس دور دراز جزیرے پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے یہاں چٹانوں کے ساتھ جڑے ہوئے پلاسٹک کا مشاہدہ کیا، جو کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین کے ارضیاتی سائیکلز پر پلاسٹک کی آلودگی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے

یہ جزیرہ برازیل کی جنوب مشرقی ریاست ایسپریتو سانتو سے ایک ہزار چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور یہ سبز سمندری کچھوؤں کا محفوظ علاقہ ہے، جو یہاں انڈے دینے آتے ہیں

فیڈرل یونیورسٹی آف پیرانا سے وابستہ ماہر ارضیات فرنندا اویلر سانتوس نے اس حوالے سے بتایا ”یہ ایک ہی وقت میں نیا اور خوفناک انکشاف ہے کیونکہ آلودگی نے ارضیات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے“

سانتوس نے مزید کہا ”آلودگی، سمندر میں کوڑا کرکٹ اور سمندروں میں غلط طریقے سے پھینکا جانے والا پلاسٹک ارضیاتی مواد بنتا جا رہا ہے۔ اب یہ زمین کے ارضیاتی ریکارڈ میں محفوظ ہو چکا ہے“

آتش فشاں پہاڑوں پر مشتمل برازیل کے ٹرینڈاڈ جزیرے کی ارضیاتی ساخت نے سائنسدانوں کو برسوں سے مسحور کر رکھا ہے۔ یہ جزیرہ زیادہ تر غیر آباد اور انسانی اثرات سے محفوظ تھا لیکن پلاسٹک کی آلودگی کی بڑھتی ہوئی مقدار نے یہاں بھی ڈیرہ جما لیا ہے

سینتوس نے اس بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا ”ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ یہ (پلاسٹک کی آلودگی) بنیادی طور پر ماہی گیری کے جالوں سے یہاں آتی ہے، جو ٹرینیڈاڈ جزیرے کے ساحلوں پر بہت عام ملبہ بن چکا ہے“

انہوں نے بتایا ”جال سمندری لہروں کے ساتھ گھسیٹ کر ساحل پر جمع ہو جاتے ہیں۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو یہ پلاسٹک پگھل جاتا ہے اور ساحل سمندر کے قدرتی مواد (جیسے چٹانوں) کے ساتھ سرایت کر جاتا ہے“

واضح رہے کہ ٹرینڈاڈ جزیرہ سبز کچھوؤں کے لیے دنیا کے سب سے اہم محفوظ مقامات میں سے ایک ہے جہاں ہر سال ہزاروں کچھوے انڈے دینے آتے ہیں

ٹرینڈاڈ پر صرف برازیل کی بحریہ کے کچھ ارکان ہی آباد ہیں، جو جزیرے پر ایک اڈے کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ یہ اہلکار انڈے دینے والے کچھوؤں کی حفاظت بھی کرتے ہیں

سینٹوس نے کہا کہ یہ ’خوفناک‘ دریافت کرہِ ارض پر انسانوں کی میراث کے بارے میں سوالات کو جنم دیتی ہے

انہوں نے بتایا ”ہم انتھروپوسین (انسانی دور) کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتے ہیں اور بس یہی ہے۔ وہ ایک ارضیاتی دور کا حوالہ دے رہے تھے، جو ہمارے سیارے کی ارضیات اور ماحولیاتی نظام پر انسانوں کے اثرات کے بارے میں ہے“

ان کا مزید کہنا تھا ”آلودگی، سمندر میں کوڑا کرکٹ اور سمندروں میں غلط طریقے سے پھینکا جانے والا پلاسٹک ارضیاتی مواد بنتا جا رہا ہے۔ اور اب یہ زمین کے ارضیاتی ریکارڈ میں محفوظ ہے“

ماحولیات کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم ’5 گیئرس انسٹیٹیوٹ‘ کے نئے تجزیے کے مطابق دنیا کے سمندروں میں سترہ سو کھرب سے زیادہ پلاسٹک کے ٹکڑے تیر رہے ہیں

ہر روز تقریباً اَسی لاکھ پلاسٹک کے ٹکڑے سمندروں میں داخل ہوتے ہیں

ہر سال سمندروں میں جانے والے پلاسٹک کے ملبے کی مقدار 2040ع تک تقریباً تین گنا ہونے کا خدشہ ہے اور اس وقت سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک کے ٹکڑے موجود ہو سکتے ہیں

دریں اثنا 2022 OECD کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ بیس سالوں میں دنیا بھر میں پلاسٹک کی پیداوار دوگنی ہو گئی ہے جس میں صرف نو فیصد کو ہی کامیابی کے ساتھ ری سائیکل کیا گیا۔

Tags:

coral reefscreatures in the deep seadiscoverdiscoveryfish in the deep seainvention of plasticoceanocean plasticocean plastic pollutionOcean Pollutionof the pacificpacific oceanPlasticPlastic Pollutionreefs and the tiny animalssea creatures of the deepthe oceanthe ocean cleanupthe ocean cleanup interceptrsthe ocean cleanup systemthe ocean cleanup system 002the ocean cleanup system 003west coast of the united states (region)
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

صدر پوٹن کے لیے عالمی عدالت کے وارنٹ گرفتاری کیا معنی رکھتے ہیں؟

Next

مصنوعی ذہانت: ’اتنی بڑی تبدیلی آئے گی جو دنیا نے پہلے نہیں دیکھی‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme