Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ماحولیاتی گھڑی میں بارہ بجا چاہتے ہیں (قسط دوم)

By Akhtar Rasool
اکتوبر 12, 2021 5 Min Read
0

ماحولیاتی ابتری تحقیقی مقالوں سے فرار ہو کر اب ہماری چھتوں پر آن بیٹھی ہے۔ چند برس پہلے تک ہم یہ تو سنتے تھے کہ آج درجہِ حرارت چالیس یا پینتیس ہے۔مگر اب اتنا بتانا کافی نہیں۔محکمہ موسمیات نے ایک نئی درفنتنی ایجاد کر لی ہے۔یعنی درجہِ حرارت تو چالیس ہی ہے مگر آپ کو محسوس پینتالیس ہو گا ( فیل لائک فورٹی فائیو )۔گویا تپش بھی دوغلی ہو گئی ہے۔

پر ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔کس نے سوچا تھا کہ کینیڈا میں وینکوور کا درجہ حرارت اور جیکب آباد کا درجہ حرارت ایک ہی دن میں پینتالیس تک پہنچ جائے گا اور سرحد پار وینکوور کے بالمقابل امریکی شہر سیٹل میں بھی آگ برس رہی ہوگی یا ایسا سیلاب آئے گا کہ نیویارک کا سب وے سسٹم ڈوب جائے گا یا جرمنی کے شمالی شہروں میں غیر معمولی بارش کا ریلہ گاڑیاں بہا لے جائے گا۔ ریاض، طائف اور دبئی میں پانی کھڑا ہو جائے گا۔ پہلے یہ کام ہالی وڈ میں ہوتا تھا۔ اب کچھ بھی فلمی نہیں رہا۔

کینیڈا کی قطبِ شمالی سے قربت ہے۔پھر بھی وہاں طویل عرصے سے قیام پذیر کئی دوست کہتے ہیں کہ دو ڈھائی عشروں پہلے کینیڈا میں سرد موسم کا دورانیہ کم و بیش آٹھ ماہ پر پھیلا رہتا تھا۔ اب کینیڈا میں سرد موسم چار سے چھ ماہ کے دورانیے میں آ گیا ہے اور سال بہ سال سکڑتا ہی جا رہا ہے۔

آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ دو ہزار انیس اور بیس کے دو برس میں درجہِ حرارت کے بیاسی فیصد پچھلے  تاریخی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔چند برس قبل درجہِ حرارت پچاس سے اوپر جاتا تو یہ خبر بن جاتی تھی۔اب باون چون تک جائے تو خبر بنتی ہے ۔دو ہزار پندرہ میں کراچی میں آنے والی گرمی کی لہر نے چالیس سالہ ریکارڈ توڑا اور لگ بھگ ڈیڑھ ہزار لوگوں کو بہا لے گئی۔اس کے بعد بھی اس طرح کی گرم لہر آئی مگر لوگ بھی جانی نقصان کے تعلق سے قدرے محتاط ہو گئے۔

البتہ انسانی جسم کی بھی کوئی نہ کوئی حدِ برداشت ہوتی ہی ہو گی۔سال دو ہزار تیس میں جب کرہِ ارض کا اوسط درجہِ حرارت ایک پوائنٹ اور بڑھ جائے گا تو  انسانی جسم اسے بھی برداشت کر پائے گا ؟ انسانی جسم  کا ساختیاتی نمونہ کچھ ایسا ہے کہ چالیس ڈگری سنٹی گریڈ خشک گرمی بھی اس کا فطری تھرموسسٹم جھیل جاتا ہے۔ لیکن اگر چالیس ڈگری پر خشک کے بجائے نم دار گرمی ہو تو پسینے کی غیر معمولی مقدار تھرمو سسٹم کے قابو سے بھی باہر ہو کر انسان کو بے تحاشا نڈھال کر دیتی ہے اور وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ حتی کہ مر بھی سکتا ہے۔

تاریخی طور پر جنوبی ایشیا کی روایتی معاشی پہچان زراعت و مویشی بانی ہے۔’’ہندوستان سونے کی چڑیا ہے‘‘۔اس تعارف کے پیچھے کسا نیت و زرعی حرفت کھڑی ہے۔جب سے موسم کا دماغ الٹنے لگا ہے زراعت کی کشتی بھی ڈولنے لگی ہے۔بے اعتدالیوں کی یہی رفتار رہی تو ہچکولے جوگا پانی بھی کم ہوتے ہوتے کیچڑ بن جائے گا۔

پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار اچھے حالات میں بھی عالمی اوسط سے کم ہے۔اس پر موسم کے وار۔دو ہزار اٹھارہ، انیس میں گندم کی فصل پیداواری ہدف سے پندرہ لاکھ ٹن کم رہی اور گزشتہ برس کپاس کی فصل پر برائی آگئی۔ امسال حالات قدرے غنیمت ہیں۔

بھارت کو بھی باؤلے مون سون کا چیلنج درپیش ہے۔ قبل از وقت برس جائے تو گندم برباد کردیتا ہے۔ دیر سے آئے تو گندم کے بعد والی فصل کو لٹال دیتا ہے۔ پاکستان میں چالیس فیصد اور بھارت میں پچاس فیصد روزگاربالواسطہ وبلا واسطہ زراعت سے جڑا ہوا ہے۔ سوچئے زراعت الٹ گئی تو کس کس کی کھٹیا کھڑی نہ ہو گی۔

پاکستان میں جب بھی خشک سالی کی بات ہوتی ہے تو بلوچستان اور تھر ہی ذہن میں آتا ہے۔مگر اب یہ تاثر بھی فرسودہ ہو گیا۔اس وقت ہر دوسرے یا تیسرے برس نصف سندھ ، نصف خیبر پختون خوا ، جنوبی پنجاب کی سلیمانی پٹی اور پورا بلوچستان خشک سالی کے تھپڑ کھاتا ہے اور یہی آنے والے برسوں کا نیا معمول بتایا جا رہا ہے۔پھر بھی جو تھوڑا بہت دریائی یا سیلابی پانی میسر ہے اس کی قلیل مقدار جمع کرنے کا انتظام قومی ترجیحات میں بہت نیچے ہے۔

مغربی اور وسطی بھارتی ریاستیں تو خیر ڈھائی عشرے سے خشک سالی میں ہیں۔پچھلے پچیس برس میں زمین جوت کے قرض اگانے والے تین لاکھ کسان خود کشی کرچکے ہیں۔مگر یہ خبر چینلوں کے نیوز روم تک پہنچے سے بہت پہلے ہی راستے کی کسی پگڈنڈی پر جان دے دیتی ہے۔

ویسے سارا الزام قدرت پے ڈال دینا بھی ٹھیک نہیں۔مثلاً اسموگ اوپر والے نے نہیں ہم نے ایجاد کیا ہے۔کئی برس سے ہر موسمِ سرما میں بھارتی پنجاب کے کھیت اور کسی حد تک پاکستانی پنجاب کا وسطی علاقہ ایک بڑی سی زرعی چتا میں بدل جاتا ہے اور پھر دھند اور دھواں اسموگ بن کر کروڑوں انسانوں کے گلے سے گذرتا ہوا پھیپڑوں میں جان لیوا ذرات چھوڑتا ہے۔ چنانچہ جسم مختلف بیماریوں کی شکل میں جس طرح بغاوت کرتا ہے، اس کے مضر اثرات  سے ہم اب بھی پوری طرح واقف نہیں۔

ہمیں اس لیے زیادہ فکر ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان ماحولیاتی ابتری کی مار کھانے والے دس چوٹی کے ممالک میں آٹھویں پائیدان پر کھڑا ہے۔ جب کہ بھارت کا شمار بیس چوٹی کے ممالک کی فہرست میں ہے۔دنیا میں ہر انسان کو ایک ہزار مربع میٹر سالانہ پانی تو ملنا ہی چاہیے۔ پاکستان میں صرف تین برس بعد ہم آبی غربت کے اس کشیدہ خط سے بھی نیچے جانے والے ہیں۔جب کہ بھارت میں انیس سو اکیاون میں ایک شخص کے حصے میں اوسطاً جتنا پانی آتا تھا۔آج اس کا محض چوتھائی دستیاب ہے۔

بے شک ہم سے اوپر سے نیچے تک باتیں بگھروا لو۔ کرنا کرانا کچھ نہیں۔جو کرے گا اب ماحولیات کا زخمی شیر ہی کرے گا۔(قصہ تمام)

بشکریہ ایکسپریس اور بی بی سی اردو
سنگت میگ کے مزید بلاگز اور کالمز:
  • ماحولیاتی گھڑی میں بارہ بجا چاہتے ہیں ( قسط اول ) وسعت اللہ خان

  • پاکستان میں نایاب پرندے: کراچی کے رہائشی سلمان بلوچ کو تیز رفتار ترقی سے پرندوں کے مسکن ختم ہونے کا خدشہ ریاض سھیل

  • اکیسویں صدی کے جنگی ہتھیار عائشہ اقبال

  • نظر نہ آنے والا ٹِڈّی دَل رضا علی عابدی

  • جب ہم نے خطرناک وصلی گینگ کے ڈاکوؤں کو ڈرامائی تعاقب کے بعد پکڑا صغیر وٹو

Tags:

EnvironmentEnvironmental CrisisEnvironmental EmergencyGlobal warmingWater Crisis
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آئی ایس آئی سربراہ نوٹیفکیشن میں تاخیر سے شہر اقتدار میں چہ میگوئیاں

Next

بلوچستان کی ”میڈ ان چائنا“ حکومت اور جام کمال کے کمال کا زوال

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme