جب ہم نے خطرناک وصلی گینگ کے ڈاکوؤں کو ڈرامائی تعاقب کے بعد پکڑا

صغیر وٹو

ایک روز علی الصبح مجھے تھانہ سے وائرلیس کے ذریعے آپریٹر نے مسیج دیا: ’کچھ دیر قبل تھانہ لڈن کے علاقے سے چار ڈاکوؤں نے معروف زمیندار نصیر خان خاکوانی کے ڈرائیور سے اس کی گاڑی ٹیوٹا کرولا برنگ سرخ، 1998 ماڈل، لندن ایڈیشن مالیتی 50 لاکھ روپے، گن پوائنٹ پر چھین لی ہے اور ڈرائیور کو رسیوں سے باندھ کر کماد کے کھیت میں پھینک کر فرار ہو گئے ہیں۔‘

یہ 2001 کی بات ہے اور اس واردات کی خبر آنے سے کچھ ہی عرصہ قبل میری تعیناتی بطور ایس ایچ او تھانہ فتح شاہ ہوئی تھی۔ ویسے تو اس علاقے میں مجموعی طور پر جرائم کی شرح کم تھی، لیکن انہی دنوں وہاں وصلی گینگ نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔

اس صبح وائرلیس پر مزید بتایا گیا کہ ’لڈن پولیس کی جانب سے ضلع بھر میں ناکہ بندی کروائی گئی ہے اور ڈی پی او صاحب نے تمام ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پی صاحبان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں ناکہ بندی کریں اور گاڑی کو ٹریس کر کے ملزمان کو پکڑنے کی کوشش کریں۔‘

اس گینگ کا سربراہ منظور وصلی تھا جس کا علاقے بھر میں خوف اور دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ اس گینگ نے زیادہ تر ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں بہاولنگر، وہاڑی اور خانیوال میں کی تھیں۔ اس گینگ کی سرگرمیوں کے حوالے سے آئے روز افسران بالا کی جانب سے خصوصی ہدایات موصول ہو رہی تھیں، اور ہم پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا کہ ان کی سرکوبی کی جائے۔

میں نے تعیناتی کے بعد علاقہ تھانہ میں بیٹ انچارج مقرر کر دیے تھے جو اپنے اپنے مقرر کردہ علاقوں میں باقاعدگی سے گشت کرتے۔ تفتیشی افسران معززین علاقہ اور مخبروں کے ذریعے اپنے علاقے میں ہر جرائم پیشہ شخص کی نگرانی کرتے۔

میں خود بھی معززین علاقہ کے ساتھ رابطے میں رہتا اور ان کے ذریعے دیہات میں ٹھیکری پہرے کا بندوبست کرواتا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جا سکے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

اس متحرک پولیسنگ کے نتیجے میں ایک تو چوری ڈکیتی جیسی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی آ چکی تھی دوسری طرف اگر کوئی واردات ہو جاتی تو اہل علاقہ کے تعاون سے اس کا جلد سراغ بھی لگا لیا جاتا۔

وصلی گینگ کی کارروائیوں کے پیشِ نظر ہم نے پیش بندی کے طور پر علاقے کے نوجوانوں پر مشتمل ایک کمیونٹی پولیسنگ نیٹ ورک ترتیب دیا۔

میں جمعے کے روز اپنے تھانے کی حدود میں کسی ایک جامع مسجد میں جاتا۔ مولوی صاحب سے اجازت لے کر مختصر خطاب کرتا۔ اہل علاقہ کو باور کراتا کہ جرائم کے خلاف جہاد صرف پولیس کی نہیں ہم سب کی یکساں ذمہ داری ہے۔ پھر یہ اعلان کرتا کہ نماز جمعہ کے بعد ’امدادی پولیس‘ نوجوانوں کی فہرست مرتب کی جائے گی جو جرائم کے خاتمے اور مجرمان کی سرکوبی کے لیے پولیس کے ساتھ شانہ بشانہ کام کریں گے۔

میں اس مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد جب باہر نکلتا تو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا نام بطور ’امدادی پولیس رضا کار‘ لکھوانے کے لیے منتظر ہوتی۔ میں نمبردار/یونین کونسل ناظم کو ساتھ بٹھا کر ہر نوجوان کا مختصر سا انٹرویو کرتا اور اس کے چال چلن کے بارے میں علاقہ ناظم سے تصدیق کر کے اسے فہرست میں شامل کر لیتا۔

ہمارا کمیونٹی پولیسنگ کا تجربہ اس قدر کامیاب تھا کہ جب بھی کسی واردات کی وائرلیس پر اطلاع موصول ہوتی تو ہم فوری طور پر علاقے کی مساجد میں اعلان کرواتے اور ترتیب دیے گئے لائحۂ عمل کے تحت ڈنڈا بردار نوجوانوں کی ایک پوری ٹیم ان ناکوں پر پولیس کے ساتھ ذمہ داریاں سنبھال لیتی اور اس وقت تک موجود رہتی جب تک انہیں ’سٹینڈ ڈاؤن‘ کا نہ کہا جاتا۔

اب اپنے علاقے میں وصلی گینگ کی واردات کی خبر سن کر میں باقی تمام کام موقوف کر کے سارے وسائل اس پر مرکوز کر دیے۔

بوریوالہ سے تھانہ فتح شاہ کی سمت آنے والی ایک ہی مرکزی سڑک تھی جو اڈہ کچی پکی سے ہوتی ہوئی براستہ لڈن، ضلع وہاڑی کی طرف جاتی تھی۔

تھانہ کی حدود میں تین لنک روڈز تھے جن میں لنک روڈ دربار حضرت بابا حاجی شیر رح سب سے اہم تھا کیونکہ یہی راستہ تھا جو تھانہ ساہوکا سے ہوتا ہوا، تخت محل ہہاولنگر کی جانب نکلتا تھا۔

ہم نے فوری طور پر تینوں لنک روڈز پر دو شفٹوں میں مکمل ناکہ بندی کر دی۔ دربار حاجی شیر پر لگائے گئے ناکے کی سربراہی کم از کم ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے ذمے تھی اور میں دوران گشت اس ناکے کو ضرور چیک کر رہا تھا۔

میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ ملزمان انتہائی چالاک اور تجربہ کار ہیں کیونکہ ان کا طریقۂ واردات عمومی نوعیت کا نہیں تھا، لہٰذا وہ واردات کے بعد کبھی شہر کا رخ نہیں کریں گے اور لنک روڈز استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے۔

میں نے فوری طور پر تھانہ فتح شاہ کی داخلی اور خارجی سڑکوں پر سخت ناکہ بندی کروا دی اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے رضاکاران کو ساری تفصیلات دے کر اہلیان علاقہ کو مطلع کرنے کا کام سونپ دیا۔ فوری طور پر مساجد کے ذریعے اعلانات ہو گئے۔ نوجوانوں کی خصوصی ٹیموں نے ناکہ بندی پوائنٹس پر پہنچ کر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

کوئی آدھے گھنٹے کے بعد دوبارہ وائرلیس میسج موصول ہوا کہ سرخ رنگ کی ٹیوٹا کرولا گاڑی تھانہ صدر بوریوالہ کا ناکہ توڑ کر نکلی ہے اور گاڑی کا رخ بوریوالہ سے فتح شاہ روڈ کی جانب ہے اور ایس ایچ او صدر بوریوالہ ملزمان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

میں چونکہ گشت پر تھا اور خود ساری کمیونیکیشن کو سن رہا تھا، چنانچہ میں نے فوری طور پر ایس ایچ او لڈن سے گزارش کی کہ وہ لڈن کچی پکی روڈ پر سخت ناکہ بندی کریں، ان شاء اللہ آج ملزمان کو بھاگنے نہیں دیں گے۔

میں نے بوریوالہ فتح شاہ روڈ پر موجود تمام ناکہ پوائنٹس کو الرٹ کر دیا کہ چھینی ہوئی گاڑی اور ڈاکوؤں کا رخ ہمارے علاقے کی جانب ہے لہٰذا کسی صورت ملزمان کو یہاں سے نہ نکلنے دیا جائے۔

کچھ ہی دیر میں ایک تیز رفتار گاڑی نے فتح شاہ دربار حاجی شیر لنک روڈ سے گزرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس اور ڈنڈا بردار عوام الناس کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے ملزمان نے خوف زدہ ہو کر دو تین ہوائی فائر کیے اور گاڑی ریورس کر کے دوبارہ فتح شاہ کچی پکی روڈ کی طرف بھگانا شروع کر دی۔

ملزمان جہاں سے بھی گزرتے، انہیں سڑک کے دونوں اطراف ڈنڈا بردار لوگ دکھائی دیتے چنانچہ وہ گاڑی کی رفتار مزید بڑھا دیتے۔ رفتہ رفتہ گاڑی کی رفتار خطرناک حد تک زیادہ ہو گئی اور ہمیں اس کا پیچھا کرنے میں مشکل پیش آنے لگی۔

میں نے فوری طور پر وائرس کے ذریعے اگلے ناکے کی ٹیم کو مطلع کر دیا اور خود سرکاری گاڑی سے ملزمان کا تعاقب کرنے لگا۔ مجھے اس ذات پر پورا بھروسہ تھا کہ ہماری یہ کوششیں ضرور رنگ لائیں گی اور ملزمان گرفتار ہوں گے۔

ملزمان جہاں سے بھی گزرتے، انہیں سڑک کے دونوں اطراف ڈنڈا بردار لوگ دکھائی دیتے چنانچہ وہ گاڑی کی رفتار مزید بڑھا دیتے۔ رفتہ رفتہ گاڑی کی رفتار خطرناک حد تک زیادہ ہو گئی اور ہمیں اس کا پیچھا کرنے میں مشکل پیش آنے لگی۔

مل پور کے قریب سڑک کا انتہائی خطرناک موڑ تھا۔ جب ملزموں نے تیز رفتار گاڑی کو اس موڑ سے گزارنے کی کوشش کی تو ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ موڑ مڑتے ہوئے قلابازیاں کھاتی ہوئی درخت سے جا ٹکرائی اور الٹ گئی۔

ہم گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے پیچھے پیچھے آ رہے تھے، لہٰذا اگلے ہی لمحے ہم موقعے پر موجود تھے۔ یہ وہی سرخ رنگ کی ٹیوٹا گاڑی تھی جسے تھانہ لڈن کی حدود سے چھینا گیا تھا۔ گاڑی کے پیچھے ’لندن ایڈیشن‘ بھی لکھا ہوا تھا۔

ہم نے سب سے پہلے اہل علاقہ کی مدد سے گاڑی کو سیدھا کیا اور چاروں ملزمان کو زخمی حالت میں گاڑی سے نکالا۔

ایک ملزم سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے تاحال بے ہوشی کے عالم میں تھا جسے ہم نے پولیس گارڈ کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہسپتال روانہ کر دیا، جبکہ باقی تینوں ملزمان کو بازوؤں، کمر اور ٹانگوں پر معمولی چوٹیں آئی تھیں چنانچہ مقامی ڈسپنسر کے ذریعے ان کی مرہم پٹی کروا کر انہیں تھانے لے آئے۔

ایک مقامی زمیندار کی مدد سے ہم گاڑی کو بھی خستہ حالت میں ٹو چین کر کے تھانے لے آئے۔

گاڑی کے اندر سے دو پستول 30 بور، دس میگزین، ایک عدد روسی ساخت کی کلاشنکوف اور گولیوں کا ایک تھیلا برآمد ہوا جنہیں ہم نے بطور وجہ ثبوت قبضہ میں لے لیا۔

جہاں ہم نے ملزمان کے خلاف ڈکیتی شدہ گاڑی کی برآمدگی کا مقدمہ زیر دفعہ 411 تعزیرات پاکستان درج کیا، وہاں ناجائز اسلحہ آتشیں برآمد ہونے پر 13/20 /65 اور 7ATA کے الگ الگ مقدمات بھی ملزمان کے خلاف درج کر دیے۔

تھانے پہنچ کر جب ہم نے ملزمان کی تفتیش شروع کی تو سامنے آنے والی ابتدائی معلومات میں پہلا انکشاف تو یہ ہوا کہ یہ تینوں ملزمان، منظور وصلی گینگ کا حصہ ہیں اور سر میں چوٹ لگنے کے باعث بے ہوش ہونے والا چوتھا ملزم کوئی اور نہیں بلکہ دراصل بدنام زمانہ ڈاکو، منظور وصلی ہی ہے۔

میں نے ڈی پی او وہاڑی کو ساری صورتحال، ملزمان کی گرفتاری، گاڑی اور اسلحہ آتشیں کی برآمدگی سے متعلق آگاہ کیا۔ ڈی پی او صاحب کی ہدایت پر منظور وصلی کی ہسپتال میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

پولیس لائن وہاڑی سے بھی ڈی پی او صاحب کے حکم پر ایک خصوصی گارد، ڈسٹرکٹ ہسپتال روانہ کر دی گئی تاکہ منظور وصلی جیسا خطرناک اور بدنام زمانہ ملزم کہیں فرار نہ ہو جائے۔

تھانہ لڈن میں اس واردات کا مقدمہ پہلے ہی درج ہو چکا تھا اس لیے انہوں نے بھی ملزمان کو شامل تفتیش کر لیا۔ ملزمان نے دوران تفتیش متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا۔

منظور وصلی گینگ کی گرفتاری نہ صرف میرے لیے بلکہ پوری وہاڑی پولیس کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اگرچہ اس کیس کا سراغ لگانے، ملزمان کا تعاقب کرنے، ان کی گرفتاری عمل میں لانے پر مجھے اور میری ٹیم کو انعام و اکرام اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا، لیکن اس انعام کے اصل حقدار تھانہ فتح شاہ کے وہ غیور باسی ہیں جنہوں نے نہ صرف پولیس پر اعتماد کیا بلکہ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر جرائم پیشہ عناصر کو للکارا۔

مجھے پورا یقین ہے کہ اگر کمیونٹی پولیسنگ کو بروئے کار نہ لایا جاتا تو وصلی گینگ سے برآمد ہونے والا خودکار آتشیں اسلحہ اور ایمونیشن (گولیاں ) اس قدر ضرور تھا کہ ملزمان پولیس کے گھیرے میں بھی کم از کم ایک گھنٹے تک پولیس مقابلہ جاری رکھ سکتے تھے۔

اس دوران دونوں طرف کا کتنا جانی نقصان ہوتا، اس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

(بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close