پاکستان میں نایاب پرندے: کراچی کے رہائشی سلمان بلوچ کو تیز رفتار ترقی سے پرندوں کے مسکن ختم ہونے کا خدشہ

رياض سہیل

‘آپ کے پاس اگر سرسبز ماحول ہو تو نایاب پرندے آپ کے گھر بھی آ سکتے ہیں، ملیر اور گڈاپ میں حالیہ میگا پراجیکٹس سے نایاب پردیسی پرندے تو کیا مقامی پرندوں کے مسکن بھی متاثر ہوئے ہیں۔‘

یہ کہنا ہے کراچی کے علاقے ملیر کے سلمان بلوچ کا، جنھوں نے پرندوں کے مشاہدے کی عالمی تنظیم ای برڈ کی پاکستان میں پرندوں کی نشاندہی اور مشاہدہ کرنے والوں کی فہرست میں اول نمبر حاصل کیا ہے۔

ای برڈ پرندوں کے مشاہدات کا ایک آن لائن ڈیٹا بیس ہے جو سائنس دانوں، محققین اور فطرت پسندوں کو پرندوں کی اقسام، تعداد اور عادت کے بارے میں ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔

یہ تنظیم 2002 سے کام کر رہی ہے اور اس کی معلومات دنیا کی 48 زبانوں میں دستیاب ہیں جن میں آڈیو، ویڈیو اور تصاویر دستیاب ہیں۔

ای برڈنگ کیسے کام کرتی ہے؟
سلمان بلوچ کے مطابق جو لوگ دنیا بھر میں برڈنگ (پرندوں کی نشاندہی میں دلچسپی رکھنے والے) کرتے ہیں وہ اس میں انرول ہوتے ہیں۔ یہ لوگ فیلڈ میں کسی بھی پرندے کا مشاہدہ کرتے ہیں، ان کے رویے کو دیکھتے ہیں ان کی نسل اور تعداد کو نوٹ کرتے ہیں۔

‘اگر آپ پرندوں میں دلچسی رکھتے ہیں تو آپ کو پرندوں کے کئی اقسام کا علم ہوتا ہے اور جن کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا تو سوشل میڈیا پر ایسے کئی فورم مل جاتے ہیں جہاں ماہرین موجود ہوتے ہیں جو پرندے کی شناخت کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں یا ایسی کئی کتابیں ہیں جن سے آپ اس پرندے کی نسل کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔‘

‘ای برڈ میں ہر خطے کے پرندوں کی ایک فہرست موجود ہے، آپ اپنے خطے کی فہرست ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جس میں عام پرندوں کے ساتھ ساتھ وہ نایاب پرندے جو اس خطے یا اس خطے کے آس پاس موجود ہو سکتے ہیں ان کی معلومات موجود ہیں جس سے رہنمائی بھی ملتی ہے۔‘

▪️نایاب پرندوں کی اہمیت

سلمان بلوچ بتاتے ہیں جو عام پرندے ہیں وہ تو ان کو پتا ہوتا ہے کہ اس علاقے میں موجود ہیں، اس پر زیادہ توجہ نہیں ہوتی۔ اگر میں نے ایک عام کوّے کی تصویر اپ لوڈ کر دی تو اب مجھے بار بار اس کی تصویر اپ لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘اس کے برعکس جو پرندے نایاب ہوتے ہیں اس میں زیادہ دلچسی ہوتی ہے اس لیے ہم اکثر نایاب پرندوں کی تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں۔‘

‘آپ تاریخی رکارڈ بھی شامل کرسکتے ہیں یعنی آپ نے کسی جگہ کا دورہ کیا اور وہاں پرندوں کی تصاویر لیں اور واپس آکر بعد میں کسی وقت اس کو اپ لوڈ کردیا۔

’دوسرا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم لائیو ایپ کے ذریعے اپ ڈیٹ بھیجتے ہیں، پرندوں کی گنتی کرتے ہیں۔ ان کی اقسام بتاتے ہیں بعض اوقات کوئی بڑا غول ہے اور ہم گنتی نہیں کر پاتے تو ہم لکھتے ہیں کہ ہم نے دیکھا ہے یا کوئی بڑا غول نہیں ہے تو ایک پرندہ دیکھا، دو دیکھے۔ اس ایپ میں جی پی ایس لوکیشن ٹریکنگ بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کون سے ٹریک پر چل رہے ہیں۔‘

نایاب پرندے کی تصدیق کا عمل
ای برڈ میں نایاب پرندے کی انٹری کے لیے تصدیق کا ایک طریقہ کار مروج ہے۔ سلمان بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کی مشق یہ ہے جس پرندے کے بارے میں وثوق سے نہیں کہہ سکتے تو اس کا داخلہ شبہے والی فہرست میں کر دیتے ہیں۔

‘جب تصویر ہم ماہرین کے گروپ میں اپ لوڈ کرتے ہیں تو ماہرین اس کا جائزہ لیتے ہیں، اس کی منظوری دیتے ہیں یا پھر اس پر مزید سوالات پوچھتے ہیں اور جب اس کی شناخت اور تصدیق ہو جاتی ہے تو پھر اس کو لسٹ میں اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ کئی ایسے پرندے ہیں جن پر سوالات آئے اور ماہرین نے اس کی مزید تصاویر منگوائیں۔‘

سلمان بلوچ بتاتے ہیں کہ انھوں نے بلوچستان کے علاقے وندر میں سوشل ایبل لیپ ونگ (sociable lapwing) پرندے کو ریکارڈ کیا۔ بقول ان کے یہ ایک انتہائی نایاب اور معدم ہونے والی نسل کا پرندہ اور اس کی چند ہزار تعداد بچی ہے، یہ ترکی سے لے کر افغانستان تک پایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے جب اس کی انٹری چاہی تو ان سے اس کے متعلق کئی سوالات کیے گئے، مگر ابھی تک اس کی انٹری قبول نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ 2018 میں اس نایاب پردیسی پرندے کو انڈین گجرات کے علاقے احمد آباد کے قریب دیکھا گیا تھا۔

▪️وائلڈ لائف فوٹوگرافی کا سفر

سلمان بلوچ جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز ہیں اور ان دنوں صبح نو سے شام پانچ بجے تک ایک نجی ادارے میں ملازمت کرتے ہیں۔

اپنے اس شوق کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ وہ کراچی کے علاقے ملیر میں رہتے ہیں۔ ‘دیہی علاقے میں رہنے کی وجہ سے فطرت سے قربت فطری عمل ہے۔ بچپن پرندوں میں گزارا، طوطوں کے جھنڈ، کونج (سارس) کی ہجرت دیکھی، بلوچ ہونے کی وجہ سے بلوچستان تک بھی رسائی ہے جہاں کوئی برڈر نہیں جاتا۔‘

سلمان کے بقول پہلے پہل وہ عام فوٹوگرافی اور لینڈ سکیپ بناتے تھے اور خاص طور پر جب ملیر بارش کے بعد سبز ہوجاتا تھا۔ ان کے پاس 250 ایم ایم کا لینز تھا، ان تصاویر کو اُنھوں نے ایک ویب سائٹ اور فس بک پر اپ لوڈ کیا جس کے بعد ذوہیب نامی نوجوان نے رابطہ کیا جو کراچی کے شہری علاقے میں رہتے تھے۔

اُن کو بھی یہ شوق تھا، اُنھوں نے کچھ رہنمائی کی جس کے بعد 2017 میں اُنھوں نے 600 ایم ایم کا لینس لیا اور وائلڈ لائف فوٹو گرافی کی۔

سلمان بلوچ ہفتے اور اتوار کا دن فیلڈ میں گزارتے ہیں جبکہ شام کے وقت اپنے گھریلو امور سر انجام دیتے ہیں۔

‘اس شوق میں آمدن نہیں، بس خرچہ ہی خرچہ ہے۔ اپنی بائیک پر چلا جاتا ہوں یا کسی دوست سے درخواست کرتا ہوں کہ گاڑی لے کر چلے۔ اس طرح ان کی پکنک ہو جاتی ہے اور میرا شوق پورا ہو جاتا ہے جس سے مجھے سکون اور خوشی ملتی ہے۔‘

▪️پاکستان میں 362 اقسام کے پرندوں کا مشاہدہ

سلمان بلوچ پاکستان میں مجموعی طور پر 362 اقسام کے پرندوں کا مشاہدے کر چکے ہیں جن میں کئی نایاب پرندے تھے۔ ان کے بقول اس میں کشمیر شامل نہیں کیونکہ اس ادارے نے کشمیر کو الگ خطہ رکھا ہوا ہے۔

ای برڈ کے مطابق پاکستان سے پرندوں کا مشاہدہ اور نشاندہی کرنے والوں میں سلمان بلوچ صف اول میں ہیں، جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر یورپین فوٹو گرافر ہیں۔ سلمان بلوچ کے مطابق وہ سندھ اور بلوچستان میں ٹاپ پر تھے لیکن اب وہ وہاں دوسرے اور تیسرے نمبر پر آگئے ہیں کیونکہ کچھ دیگر شوقین بھی اس میدان میں آ رہے ہیں۔

سلمان بلوچ نے بتایا کہ اُنھوں نے اوریئنٹل ڈارٹر (oriental darter) کی نشاندہی کی۔ یہ پرندہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے جس کا فوٹو گرافک ریکارڈ صرف ان دو بندوں کے پاس ہے۔

‘اس کو ہم نے پورٹ قاسم کے پاس ریکارڈ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ملیر کے علاقے تھدو ڈیم کےمقام پر ناردرن لیپ ونگ (northern lapwing) کو ریکارڈ کیا۔

سلمان بلوچ نائیٹ جار (Nightjar) کو بھی ریکارڈ کر چکے ہیں۔ یہ پرندہ صرف سورج ڈھلنے یا غروب ہونے کے وقت ہی نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے انڈین سپاٹیڈ ڈک (Indian spotted duck) کو بھی تھدو ڈیم ملیر پر ریکارڈ کیا۔

‘پیلیکن (pelican) کا ایک ہزار کے قریب کا غول تھا جس کو میں نے کیمرہ میں محفوظ کیا، اسی طرح لیسر فلمینگو (lesser flamingo) جو انڈیا میں رہتا ہے اور ہمارے ہاں بہت کم نظر آتا ہے، اسے بھی پورٹ قاسم والی جگہ پر ریکارڈ کیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ملیر میں میرے گھر میں کچھ درخت ہیں۔ ابھی اکتوبر کا مہینہ ہے جس میں بیری کے درخت میں پھول اگنا شروع ہوتے ہیں۔ فلائی کیچر (flycatcher) میرے گھر میں رکا ہوا تھا جس کو گھر میں ہی ریکارڈ کیا، یہ پرندہ انڈیا سے لے کر فلپائن تک پایا جاتا ہے۔ آپ کے پاس اگر سبز ماحول ہو تو نایاب پرندے آپ کے گھر بھی آسکتے ہیں۔‘

▪️ترقیاتی منصوبے اور پرندے

پاکستان سرد ملکوں کے پرندوں کی نقل مکانی کے لیے ایک دوراہے پر واقع ہے۔ اس کی جھیلیں اور تالاب ان پرندوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ یہ پرندے سائبیریا سے اور قراقرم، ہندوکش، اور سلیمان رینج کے ذریعے دریائے سندھ کے نیچے ڈیلٹا تک پہنچتے ہیں جس کو انڈس فلائی وے کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سلمان بلوچ کا کہنا ہے کہ اگست کے اختتام سے سرد ممالک سے پرندوں کی ہجرت ہوتی ہے اور ان پرندوں کا رُخ سندھ اور بلوچستان کے علاوہ انڈیا کی ریاست گجرات کی طرف ہوتا ہے۔

‘بحریہ ٹاؤن (کی ریگولرائزیشن) کے لیے جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اس وقت سے لے کر اتنی گڑبڑ ہوئی کہ جو کاٹھوڑ، گڈاپ یا کھیرتھر نیشنل پارک کے جام شورو اور کراچی کے مشترکہ علاقے میں جو مختلف اقسام کے پردیسی پرندے نظر آتے تھے یا ملتے تھے اب بہت سارے نہیں نظر آتے کیونکہ ان کا مسکن متاثر ہوا ہے۔

’ایسی کئی جگہیں تھیں جہاں میں بائیک پر بھی نہیں جا سکتا تھا، ندی و نالے تھے، گیم واچر روک دیتا تھا کہ پرندے پریشان ہوں گے، مگر اب ایسا کچھ نہیں۔‘

سلمان بلوچ پورٹ قاسم اور ساحل سمندر کے قریب بھی پردیسی پرندوں کو ریکارڈ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ پردیسی پرندوں کا راستہ سمندر کے قریب ہوتا ہے، اس لیے دو دریا اور ڈی ایچ اے فیز 8 پر کئی نایاب پرندے ماضی میں ریکارڈ کیے گئے۔

‘ایک پاکستانی ہیں، سرفراز، وہ انگلینڈ میں رہتے ہیں وہ فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے ڈی ایچ اے فیز 8 کو دیکھ کر سر پر ہاتھ لیا تھا کہ یہ گولڈن ایریا تھا پردیسی پرندوں کے لیے۔‘

‘اس کے علاوہ پورٹ قاسم پر تمر کے جنگلات کاٹ کر کنٹینر سٹور بنایا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ بھی پردیسی پرندوں کا مسکن تھا، اس شہر کی ترقی کی یہ ہی صورتحال رہی تو یہاں صرف چیل، کوے اور کبوتر بچیں گے۔‘

تصاویر: سلمان بلوچ

بشکریہ بی بی سی اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close