Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ٹنڈو جان محمد: نو کتابوں کا مصنف، جو کبھی اسکول نہیں گیا!

By Akhtar Rasool
نومبر 6, 2022 2 Min Read
0

نو کتابوں کے مصنف محسن زاہد کنبھر زندگی میں ایک دن بھی اسکول نہیں گئے

تاہم موٹر سائیکل پر گرم مصالحہ فروخت کرنے والے زاہد اب اپنی آمدنی کا ایک حصہ علم حاصل کرنے پر صرف کرتے ہیں

میرپورخاص کے شہر ٹنڈو جان محمد کے زاہد کنبھر بتاتے ہیں ”میں غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکا۔ مجھے بچپن میں احساس ہو گیا تھا کہ جو انسان پڑھ لکھ نہیں سکتا وہ زندگی کے بہت سے شعبوں میں پیچھے رہ جاتا ہے“

زاہد کہتے ہیں ”میں اس لحاظ سے خوش قسمت ہوں کہ زندگی میں مجھے ایسے دوست ملے جنہوں نے میری لکھنے پڑھنے سے لے کر ادب و شاعری تک مدد کی“

زاہد اپنے ایسے دوستوں کو اپنا حقیقی استاد سمجھتے ہیں

ان کا کہنا ہے ”آج لوگ جب سنتے ہیں کہ میں پڑھا لکھا نہیں، تو اکثر کو یقین نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نو کتابوں کا خالق پڑھا لکھا نہ ہو؟“

مگر حقیقت یہی ہے۔ انہوں نے جب 1977ع میں شاعری شروع کی تو اپنے دوستوں کو شعر سناتے تھے، جو بعد ازاں انہیں ضبط تحریر میں لا کر انہیں دے دیتے تھے

ریڈیو پاکستان پر 1990ع کی دہائی سے ان کا کلام نشر کیا جاتا ہے جبکہ ٹی وی پر بھی ان کا کام نشر ہو چکا ہے

ان کی شائع ہونے والی نو کتابوں میں سے تین شاعری کے مجموعے ہیں

زاہد کنبھر بتاتے ہیں ”سندھی ادب میں میرا نام تسلیم کیا جاتا ہے کیوں کہ میں نے شاعری کے ساتھ ساتھ تاریخ اور تحقیق پر بھی کام کیا ہے“

حیدرآباد کی تنظیم رہبر ادبی سوسائٹی نے ان کی ادب و عمل کے لیے غیر معمولی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایوارڈ بھی دیا

زاہد نے مزید بتایا ”مہنگائی کی وجہ سے میں دن بھر موٹر سائیکل پر مصالحہ فروخت کرتا ہوں اور رات کو ایک نجی اسکول میں چوکیداری کر کے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہوں“

’ہم سب جانتے ہیں کہ کتاب شائع کروانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

زاہد مصالحہ بیچ کر جو رقم کماتے ہیں وہ اپنے علمی کام پر خرچ کرتے ہیں مگر تحقیق کا کام بہتر وسائل نہ ہونے کے سبب کرنا انتہائی دشوار عمل ہے۔

Tags:

AuthorLiteratureSindhiWriter
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عمران خان پر قاتلانہ حملہ: ایف آئی آر سے اہم نام کے اخراج کا دباؤ، ڈیڈ لاک برقرار

Next

ایران: ایک گیت کی کہانی، جو احتجاجی تحریک کا نعرہ بن گیا۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme