Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

پنجاب کی نگراں حکومت نے پی ٹی آئی دور میں خواجہ سراؤں کے لیے شروع کیا گیا اسکول بند کر دیا

By Akhtar Rasool
اپریل 8, 2023 3 Min Read
0

پنجاب کی نگران حکومت نے لاہور میں خواجہ سراؤں کے لیے تعلیم اور فنی تربیت دینے کے لیے بنایا گیا واحد اسکول بند کر دیا ہے۔ نگران حکومت نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول برکت مارکیٹ میں قائم یہ اسکول فنڈز کی عدم دستیابی کا جواز بتا کر بند کیا ہے، جس کی وجہ سے خواجہ سرا برادری شدید مایوسی کا شکار ہے

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ سال دسمبر میں لاہور میں خواجہ سراؤں کے لیے پہلے اسکول کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد خواجہ سرا کمیونٹی کو روایتی تعلیم کے ساتھ مختلف ہنر سکھانا تھا۔ اسکول میں صبح 10 سے 12 بجے تک کلاسیں ہوتی تھیں

خواجہ سراؤں کو تعلیم اور ہنر سیکھنے کی طرف راغب کرنے کے لیے لاہور کے دو معروف خواجہ سراؤں گرو عاشی بٹ اور نیلی رانا کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ اسکول ایجوکیشن حکام نے دونوں خواجہ سرا کوآرڈینیٹرز سے انہیں ماہانہ وظیفہ دینے کا معاہدہ کیا تھا، تاہم تین ماہ کے بعد اس معاہدے میں توسیع نہیں کی گئی ہے، جس کے باعث خواجہ سرا کوآرڈینیٹروں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے

کوآرڈنیٹر نیلی رانا نے مقامی انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ ہمارا کام خواجہ سرابرادی سے رابطہ کرنا اور انہیں تعلیم اور ہنر سیکھنے کی طرف راغب کرنا تھا۔ ہم صبح سات بجے گھر سے نکلتے، خواجہ سراؤں سے ملتے اور انہیں بتاتے کہ وہ بھیک مانگنے اور ناچ گانے کی بجائے تعلیم اور ہنر حاصل کریں تاکہ ایک باوقار شہری کی طرح زندگی گزار سکیں

نیلی رانا نے مزید کہا کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے ابتدائی طور پر ان کے ساتھ تین ماہ کا معاہدہ کیا تھا۔ وہ خواجہ سراؤں کو گھروں سے لے کر اسکول آتی تھیں۔ اسی طرح ایک دوسری فوکل پرسن عاشی جان کی خدمات لی گئی تھیں۔ عاشی جان کو صرف دو ماہ اور مجھے تین ماہ کا وظیفہ ملا، اس کے بعد وظیفہ بند کر دیا گیا اور ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو بھی مزید بڑھایا نہیں گیا

نیلی رانا کہتی ہیں کہ انہوں نے خواجہ سراؤں کی آنکھوں میں جو خواب سجائے تھے اور ان کے دلوں میں جو امید جاگی تھی، وہ سب چکنا چور ہو گئی ہے اور خود ان کی اپنی برادری کے اندر ساکھ متاثر ہوئی ہے

اپنی نوعیت کے اس منفرد اسکول میں خواجہ سراؤں کو روایتی تعلیم کے علاوہ کھانا پکانا، کپڑوں کی سلائی کا ہنر سکھایا جا رہا تھا تاکہ یہ کمیونٹی اچھے طریقے سے روزگار کما سکے۔ خواجہ سراؤں کو پڑھانے والے اساتذہ نا صرف تربیت یافتہ ہیں بلکہ ان کی نفسیاتی تربیت بھی کی گئی ہے تاکہ وہ اس کمیونٹی کے لوگوں کو بہتر سمجھ سکیں

پروگرام کی سابق معاون اور اسکول ایجوکیشن کی ترجمان سارہ رحمان کے مطابق یہ اسکول اس لیے شروع کیا گیا تھا، کیونکہ خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ حصہ ہیں، جنہیں دیوار کے ساتھ لگایا ہوا ہے، انہیں نہ پڑھائی کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں نہ روزگار کے۔ ان کے بارے میں ہم ہر قسم کا تبصرہ کرنے کو تو تیار ہوتے ہیں مگر ان کی بہتری کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتے

پنجاب میں سب سے پہلے ملتان اس کے بعد ڈی جی خان اور پھر بہاولپور میں خواجہ سراؤں کے لیے اسکول کھولے گئے تھے

سارہ رحمان نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے اس منصوبے کے لیے ڈیڑھ سو ملین روپے مختص کیے گئے تھے لیکن افسوس کہ نگران حکومت نے ناصرف اس پراجیکٹ کے فنڈز میں کمی کر دی ہے، بلکہ لاہور کا خواجہ سراؤں کے لیے قائم کیا گیا اسکول ہی بند کر دیا ہے

لاہور میں قائم اسکول میں چالیس کے قریب خواجہ سرا طالب علم تھے، خواجہ سراؤں کو پک اینڈ ڈراپ کے علاوہ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جارہا تھا لیکن اب نئی حکومت آنے کے بعد گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے اسکول میں کلاسیں بند ہو گئی ہیں

پروگرام کی کوآرڈینیٹر نیلی رانا نے مزید بتایا کہ خواجہ سرا اب بھی تعلیم حاصل کرنے اور ہنر سیکھنے کے لیے آنے کو تیار ہیں، لیکن حکومت نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے جا رہے۔

Tags:

erin transgenderfirst transgender schoolgeo news pakistanlahore first transgender schoolPakistanpakistan live newspakistan newspakistan transgender schoolpakistani transgenderprivate schools in pakistanSchoolSchoolsschools in pakistanTransgendertransgender bill in pakistantransgender bill pakistantransgender in pakistantransgender newstransgender schooltransgender school newstransgender school pakistanweather in pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

معصومیت کا استحصال

Next

بلوچستان: گوگل کے تعاون سے ڈجیٹل تعلیم کی فراہمی کا منصوبہ اور طالب علموں کے لیے اسکالرشپ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme