Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینخبریںماحولیات

کھیرتھر نیشنل پارک کا تاریخی قبرستان ’مور مرادی‘ بھی بحریہ ٹاؤن کی زد میں۔۔

By Akhtar Rasool
اکتوبر 21, 2023 4 Min Read
0

بحریہ ٹاؤن کراچی کی توسیع اب کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود تک پھیل گئی ہے، جس کی وجہ سے ضلع ملیر کے علاقے گڈاپ میں تھدو ندی کے کنارے واقع تاریخی قبرستان مور مرادی خطرے کی زد میں ہے

واضح رہے کہ یہ چوکنڈی طرزِ تعمیر کا ایک قدیم تاریخی مقام اور ثقافتی ورثہ ہے، جسے بحریہ ٹاؤن کی ترقی کے نام پر بتدریج تباہ کیا جا رہا ہے

منفرد طرز تعمیر کا حامل یہ صدیوں پرانا قبرستان، جو کھیرتھر نیشنل پارک میں واقع ہے ، زرعی زمینوں سے گھرا ہوا تھا۔ بحریہ ٹاؤن کراچی ریاستی اداروں کی مدد سے مسلسل توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کو مبینہ طور پر علاقے کے طاقتور اور بارسوخ افراد کی حمایت حاصل ہے، جن کے دباؤ کی وجہ سے علاقہ مکین آس پاس کی زمین سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف مور مرادی قبرستان خطرے کی زد میں آ گیا ہے بلکہ قریب واقع پاچران کی پہاڑیوں کو بھی کاٹا جا چکا ہے، جو انڈس آئی بیکس اور دیگر جنگلی حیات کی محفوظ پناہگاہ ہوا کرتی تھیں

بحریہ ٹاؤن اتھارٹی اس تاریخی مقام کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مزید زمین پر قبضہ کیا جا سکے۔ یہاں باغات، جنگلات اور قدرتی ہریالی کو اکھاڑ پھینکا گیا ہے

مزید برآں تھدو ندی، جو گڈاپ ملیر میں زیر زمین پانی کے ذخیرے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، کو بھی خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ کیونکہ بحریہ ٹاؤن کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں یہاں ’بحریہ لیک ویو‘ کا منصوبہ شروع کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ نہ صرف جنگلی حیات کا مسکن ہے، بلکہ اس پورے علاقے کی قدیم اور طویل تاریخ ہے۔ مورمرادی کے تاریخی قبرستان کے حوالے سے نامور محقق گل حسن کلمتی لکھتے ہیں کہ یہاں کی قبروں کے پتھروں پر کی گئی کندہ کاری منفرد ہے۔ ملیر میں واقع دیگر قدیم قبرستان جیسا کہ چوکنڈی کے مقابلے میں، مور مرادی قبرستان اس کی پتھر کی گھماؤ کی تکنیک کی وجہ سے پرانا لگتا ہے اور اسے سما خاندان (1351-1524) میں اپنایا گیا تھا۔ اس کے برعکس چوکنڈی بعد کے دور میں یا مغل خاندان کے دور میں تعمیر کی گئی تھی

واضح رہے کہ معروف مورخ گل حسن کلمتی نے زیادہ تر ملیر کے تمام قبرستان دریافت کیے جن کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب ’کراچی، دی گلوری آف ایسٹ‘ (کراچی: سندھ جی مارئی) میں کیا ہے۔ تاہم روم سے پیدا ہونے والی یہ تکنیک بعد میں ایران تک پھیلی پھر سندھ اور بلوچستان میں داخل ہوئی

موسمیاتی انصاف، اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی، سیاست اور جاگیردارانہ نظام پر تحقیق کرنے والے لکھاری ہیں فاروق احمد سرگانی کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی توسیع کی وجہ سے یہ قدیم ثقافتی ورثہ مسخ ہو جائے گا اور اتھارٹی کیرتھر نیشنل پارک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔ یہ پورا خطہ تاریخی اور ماحولیاتی اہمیت کا حامل ہے، لیکن ترقی کے نام پر بحریہ ٹاؤن تاریخی مقامات کو مسمار کر رہا ہے، پہاڑوں اوردرختوں کو کاٹ رہا ہے، جس سے فطرت، جنگلی حیات اور ماحولیات شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔“

کھیرتھر نیشنل پارک کراچی سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے کے جنوب مغربی سندھ میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔ 1972 میں جنگلی حیات کی پناہ گاہ قرار دیے جانے کے بعد اسے 1974 میں نیشنل پارک قرار دیا گیا۔ کھیرتھر اقوام متحدہ کی پارک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ ’سنگت میگ‘ کی ٹیم کی طرف سے ایک چونکا دینے والا انکشاف اس وقت ہوا، جب اس نے کھیرتھر نیشنل پارک کا دورہ کیا، جس میں ایک خوفناک تباہی سامنے آئی۔

کھیرتھر پارک غیر قانونی تعمیرات، جاگیردارانہ مفادات، پارک کی قدرتی خوبصورتی کو متاثر کرنے کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ بحریہ ٹاؤن اپنی غیر قانونی حدود کے ساتھ مقامی لوگوں کو بے گھر کر رہا ہے اور قدرتی ماحول کو بگاڑ رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق کھیرتھر کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے، جو اسے جنگلی حیات کے لیے ناقابل رہائش بنا رہی ہے۔ کھیرتھر نیشنل پارک کے آس پاس مقامی لوگوں سے زبردستی ان کی زمینیں ہتھیانے کے لیے ریاستی اور جاگیرادارنہ دباؤ کو استعمال کیا گیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے

سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے رہنما حفیظ بلوچ کا کہنا ہے ”میں نے دیکھا کہ مقامی لوگ دھمکیوں اور دباؤ کی وجہ سے اپنی زمینیں کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اب یہاں صدیوں پرانا قبرستان مور مرادی بھی خطرے میں ہے۔“

کھیرتھر پارک کی بین الاقوامی حیثیت ہے اور اسے ملکی قانون میں تحفظ حاصل ہے۔ کھیرتھر نیشنل پارک کے علاقے میں کسی بھی مقصد کے لیے کھدائی پر پابندی ہے، سندھ وائلڈ لائف آرڈیننس میں اس کا ذکر ہے۔ حکومت کے تحت 1970 کے ایک اور ایکٹ نے تیل یا گیس کی تلاش پر پابندی لگا دی تھی

حفیظ بلوچ کہتے ہیں ”کھیرتھر نیشنل پارک کو عالمی ورثہ سمجھا جاتا ہے لیکن اسے نام نہاد ترقی کے نام پر تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ کسی قانون میں جائز ہے؟ سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کیرتھر نیشنل پارک کی تباہی کا نوٹس لے۔“

یہ خبر بھی پڑھیں:

Latest

Tags:

#national khirtar parkattempt grabbing land in karachibahria karachiBahria TownBahria Town Karachibahria town karachi latest newsbahria town karachi latest updatesbahria town karachi pricesbahria town karachi updatesbirds of kirthar national parkKarachikarachi attempt of land grabbingkarachi land grabbingkarchat kirthar national parkKhirthar National Parkkirtharkirthar national parkkirthar national park animalskirthar national park karachikirthar national park karchatkirthar national park locationkirthar national park sindhkirthar national park tourLand Grabbingland grabbing attempt in karachi 2020land grabbing bahria townland grabbing by bahria town karachiland grabbing karachimalik riaz bahria townmalik riaz bahria town karachiNational Parkpakistan kirthar national parktea at kirthar national parkwildlife of kirthar national park
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کبڈی کے نوجوان کھلاڑی موت کے منہ میں کیوں جا رہے ہیں؟

Next

جنگ میں عام شہریوں کو تحفظ حاصل نہیں ہوتا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme