Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

کیا ’ای ڈی این اے‘ انسانوں کی رازداری کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوگا؟

By Akhtar Rasool
مئی 22, 2023 4 Min Read
0

سائنسدانوں نے ’ای ڈی این اے‘ (eDNA) کی دریافت کے بعد اس کی رازداری اور نگرانی کے حوالے سے کئی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے ، جیسا کہ انسانوں کی طرف سے مسلسل پھیلایا جانے والا ان کا جینیاتی مواد سائنسی ترقی کی بدولت اب ان کی رازداری کو بھی متاثر کر سکتا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی طرف سے ان کی کہیں بھی موجودگی کے عرصے کے دوران مختلف شکلوں میں لیکن مسلسل پھیلائے جانے والے جینیاتی مواد کے نشانات کو اب جلد ہی کسی بھی فرد یہاں تک کہ پورے کے پورے نسلی گروہوں کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا

سائنسدانوں نے حال ہی میں اس حوالے سے ’اخلاقی دلدل‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے باقاعدہ انتباہ بھی جاری کیا ہے

حال ہی میں تیار کی گئی ایک نئی تکنیک ماحولیاتی ڈی این اے یا eDNA نامی جینیاتی مواد کے چھوٹے چھوٹے نمونوں سے بھی بہت سی معلومات اکٹھا کی جا سکتی ہیں۔ یہ وہ جینیاتی مواد ہے، جس کے نشانات سبھی انسان اور جانور اپنے پیچھے ہوا میں اور زمین پر ہر جگہ چھوڑ جاتے ہیں

نیچر ایکالوجی اینڈ ایوولیوشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مصنفین کے مطابق یہ طریقہِ کار طبی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مجرموں کا سراغ لگانے میں بھی بہت زیادہ مدد کر سکتا ہے۔ تاہم ان سائنسدانوں کے مطابق یہی پہلو رازداری اور نگرانی کے حوالے سے بہت سے خدشات کو بھی جنم دیتا ہے

واضح رہے کہ انسانی ڈی این اے جلد یا بالوں کے خلیات، کھانسی کے دوران منہ سے ہوا کے ساتھ خارج ہونے والے ذرات یا پھر بیت الخلاء میں بہائے گئے استعمال شدہ اور گندے پانی سمیت ہر جگہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سائنسدان معدومیت کے خطرے سے دو چار جانوروں کی بقا میں مدد کے لیے جنگلی جانوروں کے ’ای ڈی این اے‘ نمونے بڑی تیزی سے جمع کرتے رہے ہیں

امریکہ کی یونیورسٹی آف فلوریڈا کی وِہٹنی لیبارٹری فار میرین بائیو سائنس کے تحقیقی ماہرین کی توجہ بقا کے خطرے کے شکار سمندری کچھووں کے ای ڈی این اے نمونے جمع کرنے پر مرکوز تھی۔ لیکن محققین کی اس بین الاقوامی ٹیم نے اتفاقی طور پر انسانی ای ڈی این اے کی ایک بڑی مقدار بھی جمع کر لی، جسے انہوں نے ’ہیومن جینیٹک بائی کیچ‘ کا نام دیا

وِہٹنی لیبارٹری میں جنگلی حیات میں پائی جانے والی بیماریوں کے جینومک پروفیسر ڈیوڈ ڈفی اس تحقیقی منصوبے کی سربراہی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو ملنے والے انسانی ای ڈی این اے کی مقدار اور اس کے معیار پر ’مسلسل حیران‘ ہیں

اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ”زیادہ تر کیسز میں ای ڈی این اے کا معیار تقریباً کسی بھی شخص سے براہ راست حاصل کردہ نمونوں کے معیار کے برابر ہی ہوتا ہے‘‘

اس ریسرچ ٹیم نے ایک ویٹرنری ہسپتال میں ہوا سے ای ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے اس کے عملے، عملے کے زیرِ علاج بیمار جانوروں اور جانوروں میں عام وائرس تک کا پتہ چلا لیا۔ اس تحقیقی مطالعے کے مصنفین میں سے ایک وِہٹنی لیبارٹری کے مارک میکالی نے کہا کہ ڈی این اے کے نمونوں کو ترتیب دے کر ٹیم یہ شناخت کرنے میں بھی کامیاب رہی کہ آیا کسی شخص کو آٹزم اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا خطرہ زیادہ خطرہ ہے

مارک میکالی کا کہنا تھا ”یہ سارے کا سارا ذاتی، موروثی اور صحت سے متعلق ڈیٹا ماحول میں آزادانہ طور پر دستیاب ہے اور یہ اس وقت بھی ہمارے ارد گرد کی ہوا میں تیر رہا ہے‘‘

امریکہ ہی کی یونیورسٹی آف میری لینڈ میں قانون کی پروفیسر نیتالی رام، جو اس سائنسی تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کہتی ہیں ”ان نتائج سے جینیاتی راز داری یا جینیٹک پرائیویسی اور پولیسنگ کے حوالے سے ان کے استعمال اور ان کی حدود کے بارے میں سنگین تشویش پیدا ہونا چاہیے‘‘

پروفیسر نیتالی رام نے متنبہ کیا کہ کسی بھی فرد کی رضامندی کے بغیر اس کے ای ڈی این اے کا استعمال عام لوگوں کو انفرادی سطح پر ٹریک کرنے حتیٰ کہ ’کمزور سماجی گروہوں اور نسلی اقلیتوں‘ کو نشانہ بنانے تک کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے

ان ہی خدشات کی بنا پر ای ڈی این اے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی ٹیم نے خود بھی اس حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دینے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے ایک بیان میں پالیسی سازوں اور دیگر سائنسدانوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ ایسے ضابطوں کی تیاری کے لیے کام شروع کر دیں، جو eDNA کے حوالے سے ممکنہ ’اخلاقی دلدل‘ کا قبل از وقت تدارک کر سکیں۔

Tags:

analysisaquaticbioinformaticscollectcollectioncompositioncostDNAEcologicalEcologyednaedna: how scientists see hidden animalsEducationEnvironmentenvironmentalenvironmental dnaeu cost actiongreenHabitathankhenriksilluminalablaboratorylearnmetabarcodingmethodmichael arandamitochondrial dnamonitoringpcrsamplesamplessamplingSciencescishowSpeciestechniqueuniversity of duisburg-essen
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فولک ایسڈ حمل ٹھہرانے میں مددگار۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟

Next

بلوچستان کی مہر گڑھ تہذیب اور ہزاروں سال قبل ’ڈرل مشین‘ کے ذریعے دانت کا علاج!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme