Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

یورپ اور امریکا  شدید ہلاکت خیز سردی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، تحقیق

By Akhtar Rasool
اگست 9, 2021 2 Min Read
0

برلن : ماحولیات کے ایک جرمن ماہر نے خبردار کیا ہے بہت بڑے پیمانے پر جاری رہنے والے سمندری بہاؤ ’’گلف اسٹریم‘‘ کا خاتمہ شمالی امریکا اور مغربی یورپی ممالک کو ناقابلِ برداشت اور ہلاکت خیز سردی کا شکار بنا سکتا ہے

واضح رہے کہ ’’خلیجی بہاؤ‘‘ (گلف اسٹریم) بحرِ اوقیانوس میں وسیع پیمانے پر پانی کا طاقتور بہاؤ ہے، جو خلیج میکسیکو سے گرم سمندری پانی کو بحرِ اوقیانوس (اٹلانٹک اوشن) میں پہنچاتا ہے جو امریکا اور کینیڈا کے مشرقی ساحلوں سے لے کر برطانیہ سمیت مغربی یورپ کے ممالک کے ساحلوں تک پہنچاتا ہے

گلف اسٹریم ہی کی وجہ سے شمالی امریکا اور مغربی یورپ کے ممالک میں گرمی اور سردی، دونوں کی شدت بہت زیادہ نہیں بڑھتی

سرد موسم میں گلف اسٹریم کی بدولت سمندر کا نسبتاً گرم پانی شمالی امریکا اور مغربی یورپ کے ساحلی علاقوں سردی کی شدت بڑھنے نہیں دیتا

امریکی ادارے ’’نوآ‘‘ (NOAA) کے مطابق، اگر گلف اسٹریم نہ ہوتی تو خطِ استوا (ایکویٹر) سے بہت دور ہونے کی وجہ سے برطانیہ پورے سال کے بیشتر حصے میں برف سے ڈھکا رہتا۔ یہی حال برِاعظم شمالی امریکا میں ان ساحلی علاقوں کا بھی ہوتا جن کا خطِ استوا سے فاصلہ بہت زیادہ ہے

اگرچہ ماہرین نے اس سے قبل  یہ دریافت کر لیا تھا کہ گلف اسٹریم کی طاقت بہت کم ہو چکی ہے، لیکن اسے صرف معمولی قدرتی چکر سمجھا جارہا تھا اور خیال کیا جا رہا تھا کہ آنے والے برسوں میں گلف اسٹریم کی طاقت بتدریج بڑھتے ہوئے معمول پر واپس آجائے گی

لیکن اب نئی تحقیق کے بعد امید بھرا یہ خیال غلط ثابت ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے. پوسٹڈیم، جرمنی میں ماحولیاتی تحقیق کے ادارے ’’پوسٹڈیم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ‘‘ کے ماہر نکلاس بوئرز نے سیکڑوں سال میں سطح سمندر اور درجہ حرارت سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کا محتاط تجزیہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ گزشتہ سو سال کے دوران گلف اسٹریم میں بے قاعدگیاں اور بتدریج کمزوری قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان کی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں

بوئرز نے اپنی تحقیق میں گلف اسٹریم سے وابستہ ظاہری علامات کے آٹھ مختلف اشاریئے (indices) استعمال کرتے ہوئے اس سمندری بہاؤ میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا

ریسرچ جرنل ’’نیچر کلائمیٹ چینج‘‘ میں شائع ہونے والے تازہ مقالے اور پوسٹڈیم انسٹی ٹیوٹ کی متعلقہ پریس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گلف اسٹریم میں کمزوری اور بے قاعدگیاں ایک ایسی تبدیلی کا ممکنہ پیش خیمہ ہیں، جس کا نتیجہ گلف اسٹریم کے تیز رفتار خاتمے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے

کلائمیٹ امپیکٹ کے ماہر نکلاس بوئرز کہتے ہیں  ’’یہ کتنی جلد یا کس قدر دیر سے ہوگا، اس بارے میں جاننے کے لیے ہمیں اپنے ماحولیاتی ماڈلوں اور مشاہدات کو آپس میں مربوط کرنا ہوگا‘‘

موجودہ ماحولیاتی ماڈلوں کے مطابق، اگر صورتِ حال یونہی برقرار رہی تو گلف اسٹریم کا خاتمہ 2300ع تک ہوسکتا ہے۔ لیکن بوئرز کی نئی تحقیق سے ظاہر ہے کہ شاید یہ موقع ہمارے سابقہ اندازوں سے بہت پہلے آ جائے۔ تاہم اس کےلیے مزید تفصیلی اور محتاط تحقیق کی ضرورت ہے۔

Tags:

Climate changeEnvironmentEuropeGlobal warmingGulf StreamUSA
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بجلی سبسڈی خاتمہ، عوام کی چیخیں نکلیں گی اور زوردار جھٹکا لگے گا، چیئرمین نیپرا

Next

بیہہ کے بنے ہوئے لاڑکانہ کے مشہور پکوڑے، جن کا چرچا دوسرے شہروں میں بھی ہوتا ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme