صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ سنگین، سندھ کی صورتحال سب سے زیادہ ابتر

نیوز ڈیسک

اسلام آباد :  ملک میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جب کہ سندھ میں سب صورتحال سب سے زیادہ ابتر ہے، جہ385 فیصد پانی مضر صحت اور پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے.

اس ضمن میں ملنے والی ایک دستاویز کے مطابق پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ نے ملک کے تمام صوبوں کے مختلف شہروں سے پانی کے نمونے حاصل کر کے ان کو ٹیسٹ کرایا ہے

ملک بھر سے پانی کے تقریبا 433 نمونے حاصل کیے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس صوبے میں کس حد تک پانی انسانی صحت کے لیے مضر ہے، جس میں معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر سے حاصل کردہ 433 پانی کے نمونوں میں سے 267 نمونے  مضر ہیں اور اس طرح ملک بھر سے حاصل کیے گئے نمونوں کی بنیاد پر اپنی ایک رپورٹ میں پی سی ایس آئی آر نے 62 فیصد پانی کو  مضر قرار دیا ہے، دستاویز کے مطابق ملک کے دارالحکومت اسلام آباد سے 24 پانی کے نمونے حاصل کیے گئے جس میں سے 9 مضر صحت قرار دیے گئے

اس طرح اسلام آباد میں 38 فیصد پانی کو مضر قرار دیا گیا۔ اسلام آباد سمیت پنجاب کے گیارہ شہروں راولپنڈی، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، قصور، لاہور ملتان، سرگودھا، شیخوپورہ، سیالکوٹ سے مجموعی طور پر 193 پانی کے نمونے حاصل کیے گئے جس میں سے 100 نمونے مضر قرار دیے گئے اور 52 فیصد پانی پنجاب بھر میں مضر صحت  قرار دیا گیا

خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر چار شہروں ایبٹ آباد، مینگورہ، مردان، پشاور سے 44 نمونے لیے گئے جس میں سے 20 نمونے انسانی صحت کے لیے مضر تھے اس طرح خیبر پختونخوا کے 45 فیصد پانی کو  مضر صحت قرار دیا گیا

بلوچستان کے چار مقامات خضدار، لورالائی، کوئٹہ، زیارت سے لیے گئے 73 نمونوں میں سے 42 نمونے مضر تھے اور 58 فیصد بلوچستان کا پانی مضر  صحت  قرار دیا گیا

پانی کے مضر صحت  ہونے کے حوالے سے سندھ کی صورتحال انتہائی ابتر دکھائی دی اور سندھ کے سات شہروں حیدر آباد، کراچی، سکھر، بدین، میر پور خاص، ٹنڈو ﷲ یار، شہید بے نظیر آباد سے 103 نمونے لیے گئے جس میں سے 88 نمونے مضر اور آلودہ تھے اور 85 فیصد پانی کو مضرصحت قرار دیا گیا

اسی طرح مظفرآباد اور گلگت سے بھی دس دس پانی کے نمونے حاصل کیے گئے، مظفرآباد کے  سات جبکہ گلگت کے دس پانی کے نمونے مضر قرار دیے گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close