پیسے لے کر نہیں بھاگا، اشرف غنی. 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اپنے ساتھ لے گئے، افغان سفیر

ویب ڈیسک

ابو ظبی : افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ وہ کابل سے بھاری نقد رقوم اپنے ساتھ لے کر فرار ہوئے

اشرف غنی کابل چھوڑنے کے بعد پہلی بار سامنے آئے ہیں، انہوں نے افغانستان سے نقد رقوم لے جانے کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے

سابق افغان صدر نے کہا کہ کابل سے نکلنے کے بعد مجھ پر ملک سے پیسے لے جانے سمیت دیگر بے بنیاد الزامات لگائے گئے

انہوں نے کہا کہ میرے سیکیورٹی اہلکاروں نے مجھے اتنی جلدی میں نکالا کہ مجھے پہنی ہوئی چپل اتارنے اور دوسرے جوتے پہننے کی بھی اجازت نہیں دی گئی

سابق افغان صدر نے مزید کہا کہ آپ میزبان ملک سے پوچھ سکتے ہیں، میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں

اُن کا کہنا تھا کہ جو لوگ مجھ پر افغانستان بیچ کر بھاگنےکا الزام لگاتے ہیں ان کی معلومات درست نہیں

انہوں نے کہا کہ افغان فورسز نے شکست نہیں کھائی، ہمیں سیاست میں شکست ہوئی، جو کچھ ہوا یہ طالبان اور افغان حکومت کی سیاسی ناکامی تھی

یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی ملک میں طالبان کے قبضے کے فوری بعد صدارتی محل چھوڑ کر کابل سے چلے گئے تھے

افغانستان سے ان کے فرار کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ڈالروں سے بھرے بریف کیس بھی لے گئے ہیں

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفیر نے الزام عائد کیا ہے کہ اشرف غنی جب اتوار کو ملک سے جارہے تھے تو تقریباً 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی رقم ساتھ لے گئے

متحدہ عرب امارات میں موجود اشرف غنی کو سیاسی رہنما اور ان کے سفیر نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ طالبان کے جنگجوؤں کے کابل میں داخل ہوتے ہی وہ اچانک چلے گئے ہیں

افغان سفیر محمد ظاہر اغبار نے دوشنبے میں سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدر اشرف غنی کی پرواز قوم اور ملک کے ساتھ دھوکا تھا

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر کی غیر موجودگی میں سینئر نائب صدر ملک کا نگران ہوتا ہے اس لیے امراللہ صالح اس وقت افغانستان کے قائم مقام صدر ہیں

واضح رہے کہ گزشتہ روز امراللہ صالح نے بی بی سی کو آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ افغانستان کے قانونی عبوری صدر ہیں اور اعلان کیا تھا کہ جنگ ختم نہیں ہوئی

طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو گرفتار کر لیا جائے

ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو سرکاری خزانہ لوٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے تاکہ فنڈ افغانستان کو واپس مل سکیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close