سچل تھانے کے سابق ایس ایچ او پر نوجوان کے اغوا اور تشدد کا بھی الزام

نیوز ڈیسک

کراچی : ضلع ایسٹ میں مبینہ طور پر ٹارچر سیلز کا انکشاف ہوا ہے اور سابق ایس ایچ او ہارون کورائی ہارون کا معطل ہونے سے قبل ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے

ذرائع کے مطابق ڈاکو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنے والے نوجوان مدثر کو اغوا کرنے اور ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے. شہری نے ٹارچر سیل میں تشدد کے دوران خفیہ کیمرہ آن کر دیا تھا

مدثر نے 13 اگست کو سہراب گوٹھ پر موبائل فون چھیننے والے ایک ڈاکو کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا جبکہ 24 اگست کو سہراب گوٹھ تھانے کے قریب مسلح افراد نے مدثر کو اغوا کیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر فلیٹ میں لے گئے پھر دوسری جگہ لے گئے، مدثر پر بس ٹرمینل بسم اللہ مارکیٹ میں سچل تھانے کے سابق ایس ایچ او ہارون کورائی نے تشدد کیا، فون بھی لے لیا، علی اصغر اور دیگر اہلکار بھی شریک تھے

شہری کو سچل تھانے میں بند کر دیا، کہا گیا کہ انکائونٹر کر دینگے. بد ترین تشدد اور دہشتگردی کا نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دیتے رہے، مدثر کو 3 ٹارچر سیلز میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور علاقے میں دوبارہ نظر نہ آنے کی شرط پر چھوڑا گیا

اس حوالے سے متاثرہ نوجوان مدثر نے ایڈیشنل آئی جی اور ڈی جی رینجرز کو درخواست دے دی ہے

سچل تھانے کے سابقہ ایس ایچ او پر مبینہ جعلی مقابلوں کے الزامات بھی ہیں

یاد رہے کہ ہارون کورائی کو 27 اگست کو عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے. ہارون کورائی پر بیگناہ خواتین کو بند کر کے 47 لاکھ لوٹنے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close