گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ، ایف بی آر سرور بیٹھ گیا، تاریخ میں توسیع پر غور

نیوز ڈیسک

اسلام آباد : تیس ستمبت ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آج آخری تھی، اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سرور پھر بیٹھ گیا

فائلرز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سسٹم تقریباً ساڑھے 10 بجے سے کام نہیں کر رہا

ایف بی آر کا سرور بیٹھ جانے کے باعث ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والے فائلرز اور سروس پرووائڈرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے

دوسری جانب ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع میں انکار کے بعد اب اس  پر غور شروع کر دیا ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع پر غور شروع کردیا ہے، تاریخ میں توسیع کا حتمی فیصلہ وزیرخزانہ شوکت ترین کریں گے

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو ریٹرنز جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، ایف بی آر ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کی تاریخ میں پندرہ دن کی توسیع پر غور کر رہا ہے

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی توسیع صرف انہیں ملے گی، جو آج درخواست جمع کروائیں گے

حکام ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے تمام چیف کمشنرز کو ٹیکس دہندگان سے تعاون کی ہدایت کردی، 15 دن کے ریلیف کیلئے آن لائن یا تحریری درخواست دینا ہوگی، ہارڈ شپس کے علاوہ تکنیکی مشکلات پر بھی توسیع کیلئے درخواست دی جا سکے گی

واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آج آخری تاریخ ہے، جس میں تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرن بروقت جمع نہ کرانے والے تاریخ میں توسیع کی انفرادی درخواست دے سکتے ہیں

دوسری جانب ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے والوں کی یوٹیلٹی سروسز منقطع کرنے کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس حکام کو وسیع اختیارات دینے سے متعلق ایف بی آر اور تاجروں کے نمائندگان کے درمیان بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوئی

جس کے بعد آل پاکستان انجمن تاجران (اے پی اے ٹی) نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کے سامنے جاری احتجاج ختم کرتے ہوئے 19 اکتوبر کو فیض آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے

مذاکرات سے قبل سیکڑوں تاجر وفاقی دارالحکومت پہنچے اور صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کے خلاف ایف بی آر کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے حکومت سے نئے ٹیکس قوانین ختم کرنے کا مطالبہ کیا

واضح رہے کہ ایف بی آر نے اتوار کو تاجروں کے دوسرے دھڑے مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری سے معاہدہ کیا تھا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے متعارف کرائے جانے والے ٹیکس کے نئے قوانین نافذ کرنے کے بعد چھوٹے تاجروں کو بجلی، گیس کی فراہمی منقطع اور ان کی موبائل فون سروس بند نہیں کی جائے گی

تاہم اے پی اے ٹی کے صدر اجمل بلوچ نے معاہدے کو قبول نہیں کیا۔ احتجاج کے دوران اے پی اے ٹی رہنماؤں کے جانب سے تقاریر کے بعد ایف بی آر حکام نے اجمل بلوچ کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ مذاکرات کے لیے مدعو کیا، رات 8 بجے شروع ہونے والے مذاکرات رات گئے تک جاری رہے لیکن کوئی معاہدہ نہ ہو سکا

اجمل بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات اس وجہ سے بلانتیجہ رہے کہ ایف بی آر حکام کو ہمارے سوالات سننے کا اختیار نہیں ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close