تعویذ (ہندی ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)

بلونت سنگھ

”چار نمبر والے صاحب دو روپے مانگتے ہیں۔“

بیرے کا مطلب یہ تھا، کہ جو صاحب کمرہ نمبر چار میں ٹھہرے ہوئے ہیں، وہ دو روپے طلب کرتے ہیں. مجھے تعجب ہوا اور غصہ بھی آیا کہ یہ شگوفہ کیسا…؟ جو مسافر ہوٹل میں قیام پذیر ہو، اس سے ہم روپیہ وصول کرنے کے عوض میں الٹا اسی کو اپنی گرہ سے روپے ادا کریں…؟
میں نے بوٹوں کے تسمے کستے ہوئے پوچھا ”کیوں…؟“

”ہم کا جانے… حَجُور…؟“
بیرے کے اس جواب سے جھنجھلاہٹ تو ہوئی، لیکن اس سے زیادہ بات چیت کرنی فضول تھی

”اچھا تو تم جا کر کہو کہ خود مالک آ رہے ہیں۔“

کچھ تو کام مندا ہو رہا تھا اور کچھ اس قسم کے مسافر پریشانی کا باعث ہوتے تھے، لیکن ہوٹل کا بزنس ایسا ہے کہ ہر قسم کے انسان سے نباہ پڑتا ہے

نیچے پہنچ کر میں نے ملازم سے کہا کہ چار نمبر صاحب کو دفتر میں ہی بلا لاؤ۔ پھر میں نے مینیجر کی جانب متوجہ ہو کر پوچھا.”یہ کس قسم کا مسافر ہے؟“

مینیجر نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا ”مسلمان ہے.“
مینیجر کا لب و لہجہ عجیب تھا۔ اس کا جواب بھی خلافِ امید تھا۔ قدرے نارمل ہونے کے بعد اس نے کہنا شروع کیا
”اجی بڑا رعب گانٹھتا ہے.. کہتا ہے کہ میں بہت پرانا آنے والا ہوں.. بڑی نکتہ چینی کرتا ہے اور اپنے آپ کو کسی راجہ صاحب کا… نجانے کیا بتاتا ہے۔“

میں نے اس کی ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ کیونکہ ہوٹل میں اکثر رعب گانٹھنے والے حضرات آیا کرتے تھے، مجھے ان سے نبٹنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی

اتنی دیر میں حضرت موصوف آگئے. ان کی صورت خلافِ امید بالکل فدوی قسم کی دکھائی دی. پچاس کے قریب سن، ناٹا قد، داڑھی مونچھ غائب، یہاں تک کہ ابرو کا بھی صفایا کر ڈالا تھا. آنکھوں میں کاجل، پتلیاں رقصاں، بند گلے کا کوٹ، پتلون نما پاجامہ، صورت مضحکہ خیز، لیکن تیور سنجیدہ تھے۔ آتے ہی بھرپور آواز میں بولے ”آداب عرض کرتا ہوں۔“

میں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کرسی کی جانب اشارہ کیا ”تشریف رکھیے۔“

آپ نے سرِ تسلیم خم کیا اور پھر تشریف فرما ہو گئے. میں کچھ کہہ نہ پایا تھا کہ وہ بول اٹھے ”مائیں (یعنی میں).. آپ کو پہچانتا ہوں.. آپ… آپ شاید مجھے نہیں پہچانتے.. مائیں اکثر آپ کے یہاں قیام پذیر رہتا ہوں. آپ کے مینیجر بھی نئے آئے ہیں… اتفاق کی بات ہے مائیں جب کبھی آیا تو معلوم ہوا کہ حضور باہر تشریف لے گئے ہیں.“

”جی ہاں، بعض اوقات میں باہر بھی چلا جایا کرتا ہوں.“

”زہے نصیب… آج آپ کی زیارت حاصل ہو گئی.. میرا نام شاہا ہے.“

شاہا…. عجیب نام تھا! شاید اس کے بتانے میں غلطی ہوئی ہے کچھ.. ”آپ کا نام… شاہ…؟“

”جی نہیں.. شاہ نہیں، شاہا…. شا اور ہا…. شاہا“

”اچھا تو شا….ہا صاحب، آپ نے مجھے یاد فرمایا تھا..“

”جی جی جی… میں پانگرے سرکار کے حکم سے لکھنو گیا تھا، وہاں سے یہاں آیا ہوں. حضور پانگرے سرکار کو ایک باورچی…“

”یہ پانگرے صاحب کون ہیں….؟“

”آپ پانگرے سرکار کو نہیں جانتے….؟ نہیں آپ نہیں جانتے ہونگے.. پانگرے سرکار لکشمن پور ریاست کے راجہ، اب تو دیسی راج ان کی ریاست تھی، ختم ہوگئی.. ورنہ انگریز کے راج میں دھر ولایت تک ان کی دھوم تھی“

یوپی میں ہر چھوٹا بڑا زمیندار راجہ کہلاتا تھا. اس لیے مجھے ان سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی. چنانچہ میں نے مطلب کی بات دریافت کی ”اچھا تو آپ…“

”جی میں سرکار کا مصاحب ہوں“

”آپ کا کام کیا ہوتا ہے..؟“

”یہی سرکار کا دل بہلانا.. چٹکلے سنانا.. انہیں خوش رکھنا… جی تو سرکار کا مطلوبہ باورچی مجھے یہاں مل گیا تھا.. مائیں نے روپے کے لیے اسی ہوٹل کا پتہ لکھا تھا.. لیکن روپیہ ابھی تک نہیں آیا… اگر دو روپے عنایت کیجیے تو ایک تار روانہ کردوں“

اس قسم کے مسافر ہمیشہ مشکوک ہوا کرتے ہیں، میں سوچ میں پڑ گیا تو انہوں نے فوراًً کہا ”مائیں تار کا مضمون لکھے دیتا ہوں. آپ ملازم کو بھیج کر تار دلوا دیں. بس مجھے روپے کی ضرورت نہیں ہے۔ پانگرے سرکار تار دیکھتے ہی روپیہ بھجوادیں گے“

اس کے بیان سے سچائی کی بو آئی. میں نے سوچا دو روپےکی حیثیت ہی کیا ہے، اتنا سا اعتبار کرلینے میں کیا حرج ہے.

ملازم کے جانے کے بعد شاہا صاحب نے گفتگو جاری رکھی اور تھوڑی دیر بعد چلے گئے.

دو دن گزر گئے… پانگرے سرکار نے تار کا جواب نہ دیا، روپے بھیجنے تو رہے درکنار..
میں شاہا کے کمرے کے آگے سے گزرا تو خیال آیا کہ اس سلسلے میں پوچھ گچھ کرلوں. میں عموماً مسافروں کے کمروں میں جانے سے احتراز کرتا ہوں، لیکن یہ معاملہ ذرا مشکوک تھا. دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے میں نے آواز دی ”شاہا صاحب“
ادھر شاہا صاحب تہمند لہراتے دکھائی دیے. مجھے دیکھتے ہی فرش پر بچھ گئے. باچھیں چر گئیں ”آئیے آئیے… تشریف رکھیے…“

ادھر ادھر کی سرسری باتوں کے بعد میں نے کہا ”آپ کا بل بڑھ رہا ہے.. تار کا جواب بھی نہیں آیا..“

”کچھ مضائقہ نہیں معلوم ہوتا ہے.. سرکار شکار پر چلےگئے ہیں“

لیکن اس وقت میرا دھیان ان باتوں کی جانب نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی کرسی کے پیچھے بچھے ہوئے پلنگ پر بیٹھی ہوئی ایک لڑکی کو دیکھ رہا تھا. اُس کی عمر بمشکل بارہ برس کے لگ بھگ ہوگی. لیکن اس قدر سنجیدہ، مانو ساٹھ برس کی بڑھیا ہو! اس کا رنگ ذرا کھلتا ہوا سانولا.. آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور اداسی کی جھلک.. ہونٹ ترشے ہوئے.. وہ بہت خوبصورت تو نہیں، البتہ پر کشش بچی تھی..
میرے دریافت کرنے پر شاہا نے سر گھما کر بچی کی جانب دیکھا ”میری بچی، بیٹا اٹھو سلام عرض کرو“

اس پر بچی اٹھ کر مودبانہ کھڑی ہوگئی اور اپنا دبلا پتلا ہاتھ پیشانی تک لے جا کر شستہ لہجہ میں بولی ”سلام عرض کرتی ہوں“

مجھے اس پر بڑا پیار آیا. سوچا باپ نے بچی کو اچھی تربیت دی ہے. میں نے اس کے کمزور شانوں پر ہاتھ رکھا اور اس کی پیشانی چوم کر بولا ”تم تو بڑی پیاری بچی ہو… شاہا صاحب مجھے آپ پر رشک آتا ہے“

اس پر شاہا نے دعا مانگنے کے انداز میں دونوں ہاتھ اوپر اٹھالیے. اس کی آنکھوں کی پتلیاں بھی کھٹ سے اوپر چڑھ گئیں اور نصف حد تک غائب ہوگئیں پھر اس نے بڑے دردناک لہجے میں کہا ”یا اللہ! تیرا ہزار شکر ادا کرتا ہوں“
شاہا اسی انداز میں بیٹھے کچھ دیر تک آسمان کی جانب تکتے رہے. پھر انہوں نے پلکوں کو جلد جلد جھپکایا، جیسے آنسو پی جانے کی کوشش کر رہے ہوں اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولے ”سردار صاحب یہ بچی فرشتہ ہے فرشتہ“

میں نے ایک مرتبہ پھر بچی کے معصوم چہرے کا جائزہ لیا اور تہہ دل سے اعتراف کرتے ہوئے کہا ”بے شک… بے شک“

غرض اس طرح گیارہ دن بیت گئے.. ایک روز دوپہر کے وقت میں ان کے کمرے کے آگے سے گزرا، تو ان کا دروازہ نیم وا پایا. کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی. میں نے دستک دی.
”شاہا صاحب ہیں کیا…؟“

قدرے سکوت کے بعد عائشہ کی شیریں آواز سنائی دی ”ابا باہر گئے ہیں“

میں نے اندر جھانک کر دیکھا عائشہ زمین پر بچھی ہوئی چٹائی پر دو زانو بیٹھی ہے. میں نے تعجب سے دریافت کیا ”کیا تم نماز بھی پڑھ لیتی ہو..؟“

”جی نہیں..“ اس نے شرما کر جواب دیا ”ابا نے سکھائی ہی نہیں.. لیکن میں دو زانو ہو کر خدا سے دعا مانگ لیا کرتی ہوں“

میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے عائشہ کو اپنے قریب بلا لیا اور پیار سے پوچھا ”اچھا تو تمہیں نماز پڑھنے کا بہت شوق ہے؟“

”جی….“ اس کی آواز بے حد شیریں اور لب و لہجہ بہت پیارا تھا

میں نے اس سے کہا ”عائشہ ہماری بیٹی بن جاؤ“

مجھے اس کا لفظ ”بہتر“ کہنے کا انداز بہت بھلا معلوم ہوا

”پھر ہم تمہیں نماز پڑھنے کا طریقہ سکھانے کے لیے کسی اچھے مولوی صاحب کو بلادیں گے“

”بہتر“

”بھئی یوں نہیں.. ہمارا دل خوش کرنے کی باتیں نہ کرو.. سچ کہو، ہماری بیٹی ہونا تم…؟“

”جی بالکل“ اس نے قطعاً اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا

اسی شام شاہا صاحب مجھے الگ ایک گوشے میں لے گئے اور بولے ”میں بے حد شرمندہ ہوں.. نجانے اب تک روپے کیوں نہیں آئے. زیادہ عرصے تک یہاں رہنا میرے لیے دوبھر ہو رہا ہے.. ایک تجویز عرض کروں…؟“

یہ کہہ کر شاہا نے کمال پر خلوص انداز سے میری جانب دیکھا میں سمجھ گیا کہ اب یہ چڑیا پھر سے اڑنا چاہتی ہے.

شاہا صاحب بولے ”آپ اجازت دیں تو میں لوٹ جاؤں.. وہاں پہنچتے ہی آپ کو روپے بھجوادوں گا“

میں سوچ میں ڈوب گیا. ایسے نازک موقع پر مجھے کیا کرنا چاہیے؟ قانون کا سہارا لینا بے کار تھا.. نہ شاہا کے پاس قیمتی سامان ہی تھا.. وہ پھر بولے ”سردار صاحب، ایک زحمت اور دوں گا۔ ریلوے کا کرایہ ادا کرنا ہوگا..“
یہ کہہ کر انہوں نے ایک مرتبہ پھر کمال خلوص سے مجھ سے نظریں ملائیں ’’مائیں درحقیقت بہت شرمندہ ہوں.. لیکن میرا خیال ہے کہ آپ میرا اعتبار کرسکتے ہیں“

تجربہ یہی کہتا ہے کہ ایسے موقعے پر دمڑی تک وصول نہیں ہوسکتی. مجھے ننانویں فیصد یقین تھا کہ اب یہ روپے مجھے نہیں مل سکیں گے. لیکن بزنس جوا ہی تو ہے..

”سردار صاحب! میری ننھی بچی کا ہی خیال کیجیے…“

میں رضا مند ہوگیا.
اس پر شاہا نے جیب میں سے سلو لائیڈ کی بنی ہوئی پیلے رنگ کی ایک ڈبیا نکالی اور پھر میری جانب پُرآب آنکھوں سے دیکھ کر، اسے آگے بڑھایا۔ ”یہ لیجیے درویش کی نشانی، اس میں ایک تعویذ ہے.. اسے سنبھال کر رکھیے… اللہ بہت دے گا“

یہ سن کر میں بدکا. سوچا کہیں ایسا نہ ہو کہ محض ”درویش کی نشانی“ میرے پاس رہ جائے اور درویش کا کچھ پتا ہی نہ چلے.. چنانچہ میں نے ڈبیا کی طرف سرد نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ”دیکھیے شاہا صاحب! بزنس بزنس ہے، تعویذ رہنے دیجیے.. میں بس یہ چاہتا ہوں کہ آپ جاتے ہی میرا روپیہ مجھ کو روانہ کر دیجیے گا“

”انشاء اللہ، انشاء اللہ! آپ کا روپیہ فوراً روانہ کردینا تو میرا فرض ہے اور آپ دیکھیے گا کہ میں اپنا فرض کس طرح پورا کرتا ہوں.. رہا یہ تعویذ، تو اسے محض درویش کی نشانی سمجھ کر قبول فرما لیجیے.. آپ اس کی تاثیر دیکھ کر حیران رہ جائیں گے!“

میں اس فضول حرکت پر ہچکچا رہا تھا، لیکن شاہا نے بصد اصرار ڈبیا میرے ہاتھ میں تھمادی..

اس رات شاہا صاحب نے مبلغ بیس روپے نقد مجھ سے لیے اور بل چکانے کا وعدہ کرکے چلے گئے..

بیس دن گزر گئے.. میرا اندیشہ درست ثابت ہوا. شاہا صاحب تو گویا ہوا میں تحلیل ہوگئے. البتہ ایک بات بہت عجیب معلوم ہوئی وہ یہ کہ جب سے وہ تعویذ ہمارے قبضے میں آیا تھا، آمدنی سچ مچ بڑھ گئی تھی. دکان داری چمک اٹھی تھی!

میری بیوی کہتی تھی کہ یہ اسی تعویذ کی برکت ہے، لیکن میں اسے محض اتفاقی امر سمجھتا تھا.. بھلا شاہا ایسے آدمی میں یہ کرامات کہاں سے آسکتی تھیں…؟

شاہا کے دیے ہوئے پتے پر چند خطوط لکھے گئے جواب ندارد! پچاس پچپن روپے کا معاملہ تھا.. سوچا قانونی چارہ جوئی کی جائے.

وکیل سے مشورہ لینے سے پہلے میں اپنی بیوی کے پاس پہنچا اور کہا ”وہ تعویذ لائیے ذرا“

بیوی نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے تعویذ والی ڈبیا پکڑا دی اور کہا ”دیکھتے کیا ہیں۔ اس میں کوئی آیت لکھی ہوئی ہوگی“

میں نے کچھ کہے بغیر کاغذ کھولا.. یہاں تک کہ فل اسکیپ کا پورا کاغذ میری نظروں کے سامنے تھا، جس کے بیچوں بیچ لکھا تھا:
”کہیے کیسا بنایا….؟
آپ کا شاہا“

یہ بات کوئی غیر متوقع نہیں تھی. بیوی کے خلوص اور تعویذ کی حقیقت پر میں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگانے ہی کو تھا، کہ کاغذ کے ایک کونے میں ٹیڑھی میڑھی عبارت دکھائی دی..
”میں اپنے خدا سے ہر روز آپ کے حق میں دعا مانگا کروں گی…. عائشہ“

میرا قہقہہ حلق میں پھنس کر رہ گیا۔ میں نے قانونی چارہ جوئی کا ارادہ ترک کرتے ہوئے تعویذ بیوی کی طرف بڑھایا تو وہ بولی ”کیوں آیت ہی لکھی ہے نا….؟“

”بےشک!“ میں نے گلوگیر آواز میں جواب دیا.

نوٹ: بلونت سنگھ کا یہ افسانہ ان کے افسانوں کے مجموعے ’’ایلی ایلی‘‘ سے ماخوذ ہے.


اردو اور ہندی کے معروف ڈراما، ناول و افسانہ نگار اور صحافی
بلونت سنگھ (1921 – 1986)

بلونت سنگھ جون 1921ع کو برطانوی ہندوستان میں گجرانوالہ، پنجاب کے گاؤں چک بہلول کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد سردار لابھ سنگھ فوجی اسکول میں استاد تھے۔ والد کا تبادلہ دہرہ دون ہوجانے کی وجہ سے بلونت سنگھ کو چھوٹی عمر میں پنجاب چھوڑنا پڑا۔ ان کی ابتدائی تعلیم کیمبرج اسکول دہرہ دون میں ہوئی۔ انہوں نے مشن اسکول دہرہ دون سے ہائی اسکول، پوئنگ کرسچن کالج الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کے امتحانات پاس کیے۔ الہ آباد میں انہوں نے ایک اقامتی ہوٹل کھولا جس کا نام امپیریل ہوٹل تھا، لیکن 1964ع میں انہوں نے ہوٹل بند کر دیا اور دہلی آکر رسالہ آج کل کے ادارے میں شامل ہو گئے۔

بلونت سنگھ بیسویں صدی کے اردو اور ہندی کے مشہور ڈراما نویس، ناول و افسانہ نگار اور صحافی ہیں، جنہوں نے جگا، پہلا پتھر، تاروپود، ہندوستان ہمارا جیسے افسانوی مجموعے اور کالے کوس، رات، چور اور چاند، چک پیراں کا جسا جیسے لازوال ناول تخلیق کیے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اردو افسانے کو عالمی شناخت دینے میں اہم کردار ادا کیا

بلونت سنگھ کی تصانیف میں افسانوی مجموعہ طلسم خیال، جگا، پہلا پتھر، ہندوستان ہمارا، سنہرا دیس، تاروپود، آبگینہ، پنجاب کی کہانیاں، چلمن، میری پریہ کہانیاں، دیوتا کا جہنم، پرتی ندھی کہانیاں، بن باس تتھا انیہ کہانیاں، ایلی ایلی، میری تینتیس کہانیاں، میں ضرور روؤں گی، ناولز میں چک پیراں کا جسا، رات، چور اور چاند، کالے کوس، راوی بیاس، صاحبِ عالم، سونا آسمان، دواکل گڑھ، آگ کی کلیاں، باسی پھول، پھر صبح ہوگی، راکا کی منزل، اردو ناولٹ میں ایک معمولی لڑکی، ایک عورت آبشار، عہدِ نو میں، ملازمت کے تیس مہینے، شامل ہیں

بلونت سنگھ کا انتقال 27 مئی 1986ع کو الہ آباد، بھارت میں ہوا.


Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close