کوئی جنرل اگر مجھ سے استعفیٰ مانگتا یا پوچھے بغیر کارگل پر حملہ کرتا تو میں اسے فارغ کر دیتا، عمران خان

نیوز ڈیسک

وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم اور اپنے سیاسی حریف نواز شریف کی حالیہ تقریروں میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر سخت تنقید کا جواب ایک نجی ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ منتخب وزیراعظم ہیں اور کسی کی جراّت نہیں کہ ان سے استعفیٰ مانگ سکے

وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم باہر بیٹھ کر پاکستان کے اداروں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور ان کے بقول انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دو ٹوک انداز میں کہا وہ حکومت تو چھوڑ سکتے ہیں، لیکن کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔

ایک نجی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر وہ وزیراعظم ہوتے اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ان سے استعفی مانگتے تو وہ اسے عہدے سے فارغ کر دیتے۔ اسی طرح اگر آرمی چیف ان سے پوچھے بغیر کارگل پر حملہ کر دیتا تو اسے بھی معزول کر دیتے۔

واضح رہے عمران خان کا اشارہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے گذشتہ روز کے اس وڈیو لنک پر خطاب کی جانب تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیرالاسلام نے آدھی رات کو انہیں پیغام پہنچایا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں ورنہ ملک میں مارشل لا لگ سکتا ہے۔م، لیکن اُنہوں نے استعفی دینے سے صاف انکار کر دیا۔

عمران خان نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ نواز شریف کبھی بھی جمہوری نہیں رہے، انہیں جنرل جیلانی، ضیاء الحق کی سرپرستی حاصل رہی ہے. ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ 5 ﺣﻠﻘﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﯿﺖ ﮐﺮ ﺍٓﯾﺎ ﮨﻮﮞ، ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻧﺮﺳﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻼ، ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻨﺮﻝ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﯾﻠﯿﻦ ﻭﺯﯾﺮ ﺗﮭﺎ۔

ﺍٓﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﺟﻨﺮﻝ ﻗﻤﺮ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﺑﺎﺟﻮﮦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﺎﻧﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎؤﮞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ انہوں نے ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔

عمران خان نے مزید کہا کہ نواز شریف وہی کھیل، کھیل رہا ہے، جو الطاف حسین نے کھیلا تھا، جو بہت خطرناک ہے، اس کھیل میں بھارت نواز شریف کی مدد کر رہا ہے۔

انہوں نے اپنے موقف کے حوالے سے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی تھنک ٹینک کھلے عام پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، جس کے لیے وہ پاکستانی فوج کو بدنام کر رہے ہیں،  اور بدقسمتی سے بائیں بازو کے کچھ نادان بھی اپنی ہی فوج کے خلاف بول رہے ہیں۔

ﻧﺠﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﻮ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ عمران خان کا کہنا تھا ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﮯ، 58ع ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﺷﻞ ﻻﺀ ﻟﮕﺎ، ﻟﯿﮑﻦ اگر ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺝ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ؟ ﺟﺴﭩﺲ ﻣﻨﯿﺮ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻋﺪﻟﯿﮧ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﮐﮩﻨﺎﮨﮯ؟ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﭘﯿﺴﺎ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻟﮯ ﮐﺮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ کیا ﺳﺎﺭﮮ ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻥ ﮐﺮﭘﭧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﻣﻠﮏ ﭼﻼﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ہمیں ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ

اے پی سی کے بعد اپوزیشن کے مجوزہ احتجاج کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ میں کسی پرچی پر وزیراعظم نہیں بنا۔ یہ جو چاہیں کر لیں۔ یہ باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا مقصد دباؤ ڈال کر این آر او لینا ہے۔ پرویز مشرف نے اپنی طاقت بچانے کے لئے این آر او دیا۔ اگر مجھے کہا گیا کہ طاقت بچائیں یا این آر او دیں تو میں اقتدار چھوڑنے کو ترجیح دوں گا۔

جب ان سے اقتدار میں آنے کے بعد اثاثوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرے تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں۔ اگر ان میں اضافہ ہوا تو سب کو پتہ چل جائے گا۔ وزیراعظم بننے کے بعد میرے اثاثے کم ہوئے ہیں۔ والد سے لیا گیا پلاٹ بیچنا پڑا۔ میری کوئی بے نامی پراپرٹی ہے نہ ہی بیرون ملک جائیداد۔ تمام ٹیکس ریکارڈ پر موجود ہے.

میڈیا کے حالات اور آزادی رائے پر قدغن سے متعلق ندیم ملک کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب صرف میڈیا نہیں، آزاد عدلیہ بھی ہے۔ ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔ میڈیا بھی اس کا حصہ ہے۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کو واپس لانے کا پلان بنا لیا گیا ہے. ان کا کہنا تھا کہ ایک مجرم کو واپس لانے کے لیے کسی دو طرفہ معاہدے کی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺍﻥ ﭼﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﻠﮏ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺗﻮﮌﺍ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ، ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ نے اگر ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺩیے ﺗﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔

ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ کا انٹرویو کرنے والے معروف اینکر ندیم ملک نے ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺗﮭﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﺳﭩﺎﻑ ﻣﻤﺒﺮ ﻧﮯ  ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮐﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ، ﺟﯿﺴﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮔﯿﺎ. ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺣﯿﻞ ﻭ ﺣﺠﺖ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔

ﺍﯾﻨﮑﺮ ﭘﺮﺳﻦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﺎﺱ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻟﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﯿﮯ، جن کے جوابات عمران خان نے براہ راست دیے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close