ایک تصویر ایک کہانی: 9

گل حسن کلمتی

آج جس تصویر کی کہانی ہے اُسے عرف عام میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کہتے ہیں. بندر روڈ پر رچمنڈ وٹرنری ھاسپٹل کے ساتھ بندر کی طرف جاتے ہوئے، بائیں ہاتھ پر اس عمارت کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ دراصل ضلع لوکل بورڈ  کراچی کے آفس کی عمارت ہے، اس کے بننے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔

۱۸۴۳ع میں انگریز کے قبضے کے بعد سندھ کو تین اضلاع (کلیکٹوریٹ) میں تبدیل کیا گیا، ہر ضلع کا سربراہ کلیکٹر ہوا کرتا تھا. یہ تین اضلاع کراچی، شکارپور اور حیدر آباد تھے. کراچی ضلع میں موجودہ کراچی ڈویژن کے علاوہ حالیہ ضلع ٹھٹھہ، سجاول، جامشورو اور دادو کے اضلاع شامل تھے. ۱۹۰۱ع میں دادو، سیوھن اور جوھی تعلقے کراچی سے الگ کر کے نیا ضلع لاڑکانہ بنایا گیا۔ کراچی ضلع کا پہلا کلیکٹر  میجر ھینری پریڈی کو مقرر کیا گیا۔
دو طرح کے بلدیاتی سسٹم نافذ کیے گئے، شہری علاقوں پر ۱۸۴۶ع میں نیپیئر نے کنزروینسی بورڈ قائم کیا، ۱۸۵۲ع میں باقائدہ میونسپل نظام کراچی میں متعارف کرایا گیا تو کنزروینسی بورڈ کو کراچی میونسپل کمیشن کا نام دیا گیا ، جس کی حدود صدر سولجر بازار سے لیاری ندی تک تھیں۔ باقی سارے دیہی علاقے قرار دیے گئے. ان علاقوں پر مشتمل ضلع لوکل بورڈ کراچی تشکیل دیا گیا، جس کا سربراہ کلیکٹر ہوا کرتا تھا۔

۱۹۲۰ع میں لوکل بورڈ کو اپنے صدور منتخب کرنے کا اختیار ملا تو کراچی لوکل بورڈ کا پہلا منتخب صدر شیوا رام ڈیون مل وزیرانی منتخب ہوا.

۱۹۲۸ع میں جی۔ایم سید ضلع لوکل بورڈ کراچی کے صدر منتخب ہوئے، کیونکہ اس وقت سائیں جی۰ایم سید کا گاؤں سن کراچی میں شامل تھا۔
اس وقت ضلع لوکل بورڈ کراچی کی آفیس نہیں تھی، تمام میٹنگس کمشنر آفیس میں ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت کراچی کا کلیکٹر مسٹر آے۰آر گبسن تھا، سیاسی اور سماجی کاموں میں حصہ لینے کے وجہ سے گبسن کے جی۰ایم سید کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔

۱۹۲۹ع میں جی ایم سید نے ضلع لوکل بورڈ کراچی کے آفیس کو کرائے کی عمارت میں منتقل کیا اور آفس کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے کاغذی کاروائی کا آغاز کیا۔ بلاآخر وٹرنری ھاسپیٹل کے ساتھ پلاٹ کی منظوری ضلع لوکل بورڈ کراچی کی آفس کے لیے مل گئی۔اخبارات میں ٹینڈر دیے گئے, جی ایم سید نے اپنی نگرانی میں کام شروع کرایا ۔ انجینئر ھاشم گذر تھے، جو آگے چل کر کراچی میونسپلٹی کے میئر بھی منتخب ہوئے۔

مسٹر گبسن نے سرکاری ممبران سے مل کر اس کام کو روکنے کی کوشش کی، اس وقت ضلع لوکل بورڈ کراچی کے نائب صدر خان بھادر ﷲ  بخش گبول اور چیف آفسر عبدالرحمٰن تھے، یہ سب کلیکٹر گبسن کے ساتھ تھے۔

جی ایم سید بھی اپنی دُھن کے پکے تھے، وہ ہر حالت میں اس عمارت کو اپنے دور میں مکمل کرنا چاھتے تھے. ۱۱ اپریل ۱۹۳۳ع میں جی ایم سید کی صدارت کا دور مکمل ہونے کو تھا اور مئی ۱۹۳۳ میں نئے انتخابات ہونے والے تھے. سرکاری ممبران، کلیکٹر گبسن اور چیف آفیسر کی مخالفت کے باوجود یہ عمارت انجینئر ھاشم گذدر اور جی ایم سید کی کوششوں سے مکمل ہوئی

۲۷ مارچ ۱۹۳۳ع کو اس عمارت  کا افتتاح  جی ایم سید کے ہاتھوں  شام ۵ بجے ہوا، کراچی میونسپلٹی کے منتخب آخری صدر جمشید مھتا سمیت بہت سے لوگوں نے شرکت کی ۔ کلیکٹر گبسن سمیت سرکاری نامزد ممبران نے تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ اس تقریب کی خصوصی بات یہ تھی کہ دعائیہ تقریب تمام مذاہب کے علماء نے ادا کی

مسلمانوں کے سنی فرقے کی جانب سے مولانا محمد صادق کھڈہ والے نے ، شیعہ فرقے کی جانب سے غلام علی چھاگلہ نے، ھندوؤں کی جانب سے پنڈت وشوا ناتھ شرما نے، سکھ مذھب کی جانب سے دھرم سنگھ نے، پارسیوں کی جانب سے ڈاکٹر دستور ڈھلا نے، عیسائیوں کے جانب سے ریور نٹ اے۰ایل گرے  نے اور یہودیوں کے جانب سے سولومن ڈیوڈ نے اپنے مذاہب کے مطابق دعا کرائی۔ یہ تھا سندھ کا دارلخلافہ میرا کراچی!

۹ اپریل ۱۹۳۳ع کو اسی عمارت میں جی ایم سید سمیت تمام ممبران کی الوداعی دعوت کی گئی، کیونکہ دو دن بعد ۱۱ اپریل ۱۹۳۳ع کو ان کا ٹرم مکمل ہونے والا تھا-

۱۹۵۰ع میں یہ عمارت کچھ وقت کے لیے ریڈیو پاکستان کو دی گئی ، پھر ھمیشہ کے لیے ریڈیو پاکستان کے کنٹرول میں رھی. تقسیم کے بعد ضلع لوکل بورڈ کراچی کا نام تبدیل کرکے ضلع کونسل کراچی رکھا  گیا، اس نے عمارت  حاصل کرنے  کے لیے عدالت کا رخ کیا، ۲۰۰۱ع تک کیس عدالت میں چلتا رہا لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا

۲۸ اکتوبر ۲۰۰۷ع کو اس تاریخی عمارت کو آگ لگ گئی ، ریڈیو پاکستان اب سوک سینٹر کے ساتھ اپنی  عمارت میں ہے اور پرانی عمارت  سنا ہے اب رینجرس کے حوالے ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close