ایک غریب بھارتی نابینا طالبعلم کی پانچ کروڑ پاؤنڈ کی کمپنی، نظام اور حالات سے لڑائی کی ایک کہانی

نیوز ڈیسک

آندھرا پردیش – سریکانت بولا اپنی زندگی پر مبنی ایک بالی وڈ فلم بنوانے والے ہیں. اس کی زندگی غیرمعمولی حالات سے عبارت ہے

اس نوجوان سی ای او نے اڑتالیس ملین پاؤنڈ کی ایک کمپنی بنائی ہے، لیکن یہ سب یوں ہی نہیں ہو گیا

سری کانت جب ہائی اسکول میں پڑھ رہا تھا تو اسے بتایا گیا کہ وہ سینیئر اسکول میں ریاضی اور سائنس کی تعلیم حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ نابینا ہے

وہ مایوس ہوکر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا، بلکہ اس نے یہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھارت کی ایک ریاستی حکومت پر مقدمہ دائر کر دیا

چھ سال کے سریکانت بولا دوسال تک ہر روز اپنے بھائی کی رہنمائی میں اور اپنے ہم جماعت بچوں کے ساتھ بھارت کے ایک گاؤں میں کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول جاتا رہا

جس راستے سے وہ اسکول جاتا تھا، وہ کیچڑ والا راستہ تھا اور جا بجا جھاڑیاں اگی ہوتی تھیں، جبکہ مون سون میں یہ سیلاب کی زد میں آ جاتا تھا۔ وہ کوئی بہت اچھا وقت نہیں تھا

وہ بتاتا ہے کہ ”کوئی بھی مجھ سے بات نہیں کرتا تھا کیونکہ میں ایک نابینا بچہ تھا۔“

غریب، ناخواندہ والدین کے ہاں پیدا ہونے والے سریکانت کو برادری نے مسترد کر دیا تھا

وہ بتاتا ہے ”لوگ میرے والدین کو کہتے تھے کہ میں اپنے گھر کا چوکیدار بھی نہیں بن سکتا کیونکہ میں یہ تک نہیں دیکھ سکتا تھا کہ کوئی گلی کا کتا اندر تو نہیں آ رہا ہے۔“

اب سریکانت کی عمر اکتیس سال ہے۔ وہ اس دور کو یاد کر کے کہتا ہے ”بہت سے لوگ میرے والدین کے پاس آتے اور ان سے کہتے کہ وہ تکیے سے میرا منھ دبا کر مجھے مار ڈالیں۔“

اس کے والدین ان باتوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ اس کے والدین نے بہت مدد کی اور جب وہ آٹھ سال کا ہوا تو سریکانت کے والد نے کہا کہ ان کے پاس ایک دلچسپ خبر ہے۔ سریکانت کو نابینا بچوں کے ایک بورڈنگ اسکول میں داخلہ مل رہا ہے اور اس کے لیے وہ اپنے گاؤں سے چار سو کلومیٹر دور قریبی شہر حیدرآباد میں منتقل ہو جائے گا۔ اس وقت یہ شہر ریاست آندھرا پردیش کا دارالحکومت تھا

اگرچہ وہاں اپنے والدین سے بہت دوری تھی، لیکن سری کانت نئی جگہ کے لیے پرجوش تھا اور وہ جلد ہی وہاں پہنچ کر سب میں گھل مل گیا

اس نے تیراکی، شطرنج کھیلنا اور ایسی گیند سے کرکٹ کھیلنا سیکھا جس سے کھڑکھڑاہٹ کی آوازیں آتی تھی۔ وہ کہتا ہے ”اس کا تعلق ہاتھ اور کان سے تھا۔“

سریکانت اپنے شوق سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی فکر مند رہتا۔ وہ ہمیشہ سے انجینیئر بننے کا خواب دیکھتا تھا اور اسے معلوم تھا کہ اس کے لیے اسے سائنس اور ریاضی کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے

جب وقت آیا تو اس نے ان اہم مضامین کا انتخاب کیا، لیکن اس کے اسکول نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ یہ غیر قانونی ہے!

واضح رہے کہ بھارت میں اسکول کئی اداروں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، ہر ایک کے اپنے اصول ہیں۔ کچھ ریاستی حکومتوں اور مرکزی بورڈ کے تحت آتے ہیں، جبکہ کئی دوسرے تعلیمی اداروں کا انتظام نجی طور پر کیا جاتا ہے

سریکانت کا اسکول آندھرا پردیش کے ریاستی بورڈ آف ایجوکیشن کے ذریعہ چلایا جاتا تھا اور اس کے تحت نابینا طلباء کو سینیئر کلاسز میں سائنس اور ریاضی پڑھنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ ان مضامین کے بصری عناصر جیسے خاکوں اور گرافس کے ساتھ اسے بہت زیادہ چیلنجنگ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بجائے وہ فنون لطیفہ، زبانیں، ادب اور سماجی علوم کا مطالعہ کر سکتے تھے

یہ سنہ 2007ع کی بات ہے، جب سری کانت اس من مانے قانون سے مایوس ہو گیا تھا، جو تمام اسکولوں کے لیے یکساں نہیں تھا۔ اس کی ایک ٹیچر، سورن لتا تکیلاپتی بھی مایوس تھیں اور انھوں نےاپنے نوجوان طالب علم کو قانونی چارہ جوئی کی ترغیب دی

یہ دونوں آندھرا پردیش کے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن میں اپنا موقف پیش کرنے گئے، لیکن انہیں بتایا گیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا

سریکانت حوصلہ شکنی کے باوجود اپنے ارادے سے ٹلا نہیں اور اس نے ایک وکیل تلاش کیا اور پھر اسکول کی انتظامیہ کی ٹیم کے تعاون سے آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا، جس میں نابینا طلباء کو ریاضی اور سائنس پڑھنے کی اجازت دینے کے لیے تعلیمی قانون میں تبدیلی کی اپیل کی گئی تھی

سری کانت نے بتایا ”وکیل نے ہماری طرف سے مقدمے کی پیروی کی، کیونکہ اس کے لیے طالب علم کو خود کمرۂ عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔“

جب مقدمے پر عدالت میں کارروائی چل رہی تھی تو سری کانت نے ایک اڑتی ہوئی خبر سنی کہ حیدرآباد میں ایک مرکزی دھارے کے اسکول چنمایا ودیالیہ میں نابینا طلباء کو سائنس اور ریاضی پڑھنے کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ یہ اسکول مختلف تعلیمی نظام کے تحت کام کرتا تھا۔ اسے یہ بھی پتا چلا کہ اگر اس کی دلچسپی ہے، تو اسے اس میں داخلہ مل سکتا ہے

سریکانت نے بہ خوشی وہاں داخلہ لے لیا. وہ اپنی کلاس میں واحد نابینا طالب علم تھا، لیکن وہ کہتا ہے کہ ”انھوں نے کھلے دل کے ساتھ میرا استقبال کیا۔“

سریکانت کے مطابق”میری کلاس ٹیچر بہت ملنسار تھیں۔ انھوں نے میری مدد کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انھیں چھو کر ڈایاگرام بنانا سیکھا۔“

واضح رہے کہ چھو کر محسوس کیے جانے والے ڈایاگرامز (یعنی نقشہ یا خاکہ) ربڑ کی چٹائی پر پتلی فلم کا استعمال کرتے ہوئے بنائے جا سکتے ہیں۔ اور جب اس پر بیرو یا پنسل سے کوئی ڈرائنگ بنائی جاتی ہے، تو اس پر ایک ابھری ہوئی لکیر بنتی جاتی ہے جسے چھو کر محسوس کیا جا سکتا ہے

چھ ماہ بعد عدالت سے خبر آئی اور سری کانت نے اپنا کیس جیت لیا تھا

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نابینا طلباء آندھرا پردیش کے تمام ریاستی بورڈ اسکولوں میں اعلیٰ درجوں میں سائنس اور ریاضی پڑھ سکتے ہیں

سری کانت کہتا ہے : ”میں نے بہت خوشی محسوس کی۔ مجھے دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کا پہلا موقع ملا کہ میں یہ کر سکتا ہوں اور نوجوان نسل کو مقدمات دائر کرنے اور عدالتی لڑائی لڑنے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“

سری کانت جلد ہی ریاستی بورڈ کے ایک اسکول میں واپس آیا اور اپنے پسندیدہ مضامین ریاضی اور سائنس کی تعلیم حاصل کی، جس کے امتحانات میں انہوں نے اوسطاً 98 فیصد نمبر حاصل کیے

اس کا منصوبہ بھارت کے ممتاز انجینیئرنگ کالجوں میں درخواست دینا تھا، جنہیں آئی آئی ٹیز (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کہا جاتا ہے

اس میں داخلے کا مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے اور طلباء اکثر داخلے کے امتحانات سے پہلے بڑی سخت کوچنگ حاصل کرتے ہیں، لیکن کسی بھی کوچنگ سینٹر میں سریکانت کے لیے جگہ نہیں تھی

وہ کہتا ہے کہ ‘مجھے بڑے کوچنگ اداروں کی طرف سے بتایا گیا کہ کورس کا بوجھ بہت زیادہ ہوگا جو کہ ایک چھوٹے نازک پودے پر موسلادھار بارش کے مترادف ہو گا۔’ ان کا خیال تھا کہ وہ ان کے تعلیمی معیار پر پورا نہیں اتر سکیں گے

وہ کہتا ہے کہ ‘مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اگر آئی آئی ٹی مجھے نہیں چاہتا تھا تو میں بھی آئی آئی ٹی کو نہیں چاہتا تھا۔’

اس کے بجائے اس نے امریکا کی یونیورسٹیوں میں درخواستیں دیں ، جہاں سے اسے پانچ پیشکشیں موصول ہوئیں، جن میں سے اس نے کیمبرج، میساچوسٹس کے ایم آئی ٹی کو پسند کیا اور وہاں داخلہ لیا اور اس طرح وہ پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے

وہ سنہ 2009ع میں وہاں پہنچا اور وہاں اپنے ابتدائی دنوں کو اس نے ‘ملا جلا تجربہ’ قرار دیا

وی کہتا ہے ”انتہائی سردی پہلا جھٹکا تھا، کیونکہ میں اس طرح کے سرد موسم کا عادی نہیں تھا۔ کھانے کی خوشبو اور ذائقہ مختلف تھا۔ میں نے پہلے مہینے میں جو کچھ کھایا ان میں بیشتر فرنچ فرائز اور فرائیڈ چکن فنگر تھے۔“

لیکن سری کانت جلد ہی ایڈجسٹ ہونے لگا

وہ کہتا ہے ”ایم آئی ٹی میں گزارا وقت میری زندگی کا سب سے خوبصورت دور تھا۔ تعلیمی محنت کے لحاظ سے، یہ سخت اور خوفناک تھا۔ ان کی معذوری کے لیے سروس نے میری مدد کرنے، ایڈجسٹ کرنے اور مجھے تیز رفتاری کے ساتھ ان سے ہم آہنگ کرنے میں بہت اچھا کام کیا۔“

اس نے تعلیم حاصل کرنے کے دوران حیدرآباد میں نوجوان معذور افراد کو تربیت اور تعلیم دینے کے لیے ایک غیر منافع بخش تنظیم، ”سمنوے سینٹر فار چلڈرن ود ملٹیپل ڈس ایبیلیٹی“ کے نام سے شروع کی۔ اس نے چندے کے پیسے سے وہاں بریل لائبریری بھی کھولی

زندگی اچھی گزر رہی تھی۔ اس نے ایم آئی ٹی سے مینجمنٹ سائنس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور اسے کئی ملازمتوں کی پیشکش کی گئی، لیکن اس نے واپس اپنی ریاست آنے کا فیصلہ کیا

سری کانت کے اسکول کے تجربے نے اس پر ایک انمٹ اثرات مرتب کیے تھے. اسے ایسا لگا جیسے اس کا اپنے آبائی ملک میں کام ادھورا رہ گیا ہے

سریکانت کا کہنا ہے”مجھے زندگی میں ہر چیز کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑی جب کہ ہر کوئی میری طرح لڑ نہیں سکتا اور نہ ہی میرے جیسے رہنما انھیں مل سکتے ہیں۔“

اس نے مزید کہا کہ ایک بار جب اس نے بڑی تصویر پر نظر ڈالی تو اسے احساس ہوا کہ منصفانہ تعلیم کے لیے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر اس کے بعد معذور افراد کے لیے ملازمت کے مواقع نہیں ہوں

یہی وہ وقت تھا، جب اس نے سوچا ”کیوں نہ میں اپنی کمپنی شروع کروں اور معذور افراد کو ملازمت دوں؟“

سری کانت سنہ 2012ع میں حیدرآباد واپس آیا اور بولانٹ انڈسٹریز کی بنیاد رکھی۔ یہ پیکیجنگ کمپنی تار اور کھجور کے گرے ہوئے پتوں سے ماحول دوست مصنوعات جیسے بل دار پیکیجنگ تیار کرتی ہے اور اس کمپنی کی فی الحال اڑتالیس ملین پاؤنڈ قیمت ہے

اس کمپنی میں زیادہ سے زیادہ معذور افراد اور دماغی صحت کے عارضے میں مبتلا افراد کو ملازمت دی جاتی ہے۔ وبائی مرض سے پہلے اس کمپنی کے پانچ سو مضبوط عملے میں چھتیس فیصد معذور افراد کام کرتے تھے

گذشتہ سال تیس سال کی عمر میں سریکانت نے ورلڈ اکنامک فورم کی ینگ گلوبل لیڈرز 2021ع کی فہرست میں جگہ بنائی اور اسے امید ہے کہ تین سال کے اندر اس کی کمپنی بولانٹ انڈسٹریز ایک گلوبل آئی پی او بن جائے گی، جس کے بعد اس کے حصص بیک وقت متعدد بین الاقوامی سٹاک ایکسچینجز میں درج ہوں گے

اسے بالی وڈ سے بھی کال آئی ہے۔ معروف اداکار راجکمار راؤ کی اداکاری والی ایک بایوپک کا اعلان کیا گیا ہے، جس کی شوٹنگ جولائی میں شروع ہوگی۔ سریکانت کو امید ہے کہ جب وہ پہلی بار اس سے ملیں گے، تو لوگ اسے کم تر سمجھنے سے باز رہیں گے

سریکانت کہتا ہے ”ابتدائی طور پر لوگ سوچتے ہیں کہ ‘اوہ، بیچارہ اندھا ہے… کتنے افسوس کی بات ہے’ لیکن جب میں بتانا شروع کرتا ہوں کہ میں کون ہوں اور میں کیا کرتا ہوں تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close