”مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے“ بمقابلہ ”حجاب والی بھارتی وزیراعظم“

ویب ڈیسک

لکھنؤ – بھارت میں ایک طرف حجاب کا تنازعہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ اسی دوران بی جے پی کے ایک اور رکن اسمبلی نے نیا بکھیڑا کھڑا کر دیا ہے

بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا

دوسری جانب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حجاب پہننے والی لڑکی ایک دن بھارت کی وزیر اعظم بنے گی

ہندو قوم پرست رہنما اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے اس بیان پر سخت اعتراض کیا ہے

بھارتی مصنفہ ارون دھتی نے بھارت میں بڑھتی ہندو انتہا پسندی کے حوالے سے کہا کہ ہندو قوم پرستی بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرسکتی ہے

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش میں انتخابات کا دور دورہ ہے اور اس دوران بی جے پی کے رہنما کی ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں

سوشل میڈیا پر وائرل تقریر میں حکمراں جماعت کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر میں دوبارہ منتخب ہوگیا تو مسلمانوں سے ٹوپی اتروا کر ماتھے پر تلک کا نشان لگواؤں گا

ٹیلی وژن پر ایک حالیہ انٹرویو میں رکن اسمبلی نے وائرل وڈیو کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ اپنی دھمکی کا اعادہ بھی کیا

بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے

دوسری جانب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا کہ حجاب پہننے والی لڑکی ایک دن بھارت کی وزیر اعظم بنے گی۔ ہندو قوم پرست رہنما اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے اس بیان پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے

شدت پسند ہندوؤں کے جانب سے ‘بھارت کے نئے جناح‘ کے نام سے پکارے جانے والے اسد الدین اویسی نے لکھنؤ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”اگر کوئی لڑکی حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی ہے اور اپنے والدین سے اس کی اجازت طلب کرتی ہے اور اس کے والد اسے حجاب پہننے کی اجازت دے دیتے ہیں، تو اسے حجاب پہننے سے کون روک سکتا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”آپ اس بات کو یاد رکھیے گا، شاید میں اس وقت زندہ نہ رہوں، لیکن حجاب پہننے والی لڑکی ایک دن اس ملک کی وزیر اعظم بنے گی۔‘‘

ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس بیان میں اسدالدین اویسی کا کہنا تھا کہ لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں، وہ نقاب پہنتی ہیں اور کالج جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بن رہی ہیں، کلکٹر بن رہی ہیں، ایس ڈی ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ) بن رہی ہیں اور تاجر بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حجاب پہننا کسی لڑکی کا بنیادی حق ہے

واضح رہے کہ بھارت میں سیاسی لحاظ سے سب سے اہم ریاست اتر پردیش (یو پی) کے اسمبلی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی پارٹی بھی میدان میں ہے۔ انہوں نے چار سو تین رکنی اسمبلی میں لگ بھگ ایک سو سیٹوں پر انتخابی مقابلے کااعلان کر رکھا ہے

یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اویسی کے بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”بھارت لوگوں کے مذہبی عقیدے اور ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین کے مطابق چلے گا“

ہمیشہ بھگوا رنگ کا ہندو مذہبی لباس پہننے والے یوگی ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا، ”میں اس بات پر ٹھوس یقین رکھتا ہوں کہ سسٹم کو بھارتی آئین کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ ہم اپنے ذاتی عقیدے، اپنے بنیادی حقوق، اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو ملک اور اداروں پر نہیں تھوپ سکتے۔‘‘

ہندوتوا کے انتہا پسندانہ نظریے کے بڑے پرچارک کے طور پر جانے جانے والے یوگی ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا ”ہر شخص کا عقیدہ مختلف ہو سکتا ہے، لیکن جب ہم اداروں کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں ان کے ضابطوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، ”ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ سسٹم (اسلامی) شریعت کے مطابق کام نہیں کرے گا بلکہ یہ آئین کے مطابق چلے گا۔‘‘

بھارت میں بڑھتی ہندوتوا انتہا پسندی کے حوالے سے بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے نے کہا ہے کہ ہندو قوم پرستی بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے

بھارتی صحافی کرن تھاپڑ کو دیے گئے انٹرویو میں اردو دھتی رائے نے بھارت کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مایوس کن قرار دیا

انہوں نے کہاکہ کشمیری بھارت کا حصہ کیوں بننا چاہیں گے؟کشمیر بھارت کو کھا جائے گا، آزادی وہی ہے جو کشمیر کو حاصل ہونی چاہیے

بھارتی چینل کو انٹرویو میں مصنفہ ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ بھارت گزشتہ پانچ سال کے دوران ’جتھوں کی شکل میں تشدد‘ کرنے والی قوم بن چکی ہے۔ ہندو انتہاپسند جتھے دن دھاڑے مسلمانوں اور دلتوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر کے وڈیوز دیدہ دلیری سے یوٹیوب پرڈال دیتے ہیں

ارون دھتی رائے کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اس وقت افراتفری، انتشار اور کنفیوژن کا شکار ہے۔ایک وقت آئے گا کہ بھارت میں لوگ نریندر مودی اور بی جے پی کے فاشسزم کی مزاحمت کریں گے

دوسری جانب حجاب کے تنازعے پر کرناٹک ہائی کورٹ میں آج پیر 14 فروری کو سماعت شروع ہو رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی صدارت میں تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے، جس میں ریاستی حکومت کی طرف سے اسکولوں میں طالبات کے حجاب پہننے پر عائد کردہ پابندی کو چیلنج کیا گیا ہے

دریں اثناء ریاست کے مختلف اضلاع میں مقامی انتظامیہ اور سیاسی اور سماجی رہنماؤں کے درمیان اتوار کی شام کو ایک میٹنگ کے بعد آج پیر سے کرناٹک کے اسکول دوبارہ کھل گئے

بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک میں چند روز بند رہنے کے بعد اسکولز کھلنے پر جب باحجاب طالبات سرکاری اسکول پہنچیں تو انہیں گیٹ پر روک دیا گیا اور طالبات کے حجاب اتار دیے گئے

باحجاب طالبہ کے والد نے ٹیچرسے درخواست کی کہ اسے کلاس میں جانے کی اجازت دی جائے وہ کلاس میں جاکرحجاب اتاردے گی لیکن ٹیچرنے ایک نہ سنی اورگیٹ پرہی حجاب اتروا دیا

رپورٹس کے مطابق کرناٹک کے تمام اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو کلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ریاست میں باحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اور کلاسز اٹینڈ کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close