
فٹ بال کی دنیا ایک بار پھر اپنے سب سے بڑے میلے کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں 48 ممالک صرف ایک ٹرافی کے لیے نہیں بلکہ تاریخ لکھنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ 2026 کا فیفا ورلڈ کپ اپنے ساتھ صرف مقابلے نہیں بلکہ امکانات، اعداد و شمار اور غیر یقینی کہانیوں کا ایک طوفان لے کر آ رہا ہے۔ اوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار سیمولیشنز نے اس ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، جہاں اسپین سب سے آگے ہے، لیکن فرانس، انگلینڈ، ارجنٹائن اور دیگر عالمی طاقتیں اس کے بالکل پیچھے سانسیں روک دینے والی دوڑ میں شامل ہیں۔ میزبان ممالک سے لے کر ابھرتی ہوئی ٹیموں تک، اور روایتی دیو ہیکل فٹبال طاقتوں سے لے کر ڈارک ہارسز تک، یہ ورلڈ کپ صرف ایک مقابلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی عالمی کہانی ہے جس کا ہر باب کسی بھی لمحے پلٹ سکتا ہے۔
اوپٹا کی نظر میں 2026 ورلڈ کپ کا ممکنہ فاتح کون؟
فٹ بال کی دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ صرف چند ہفتے قبل یورپی کلب فٹ بال کے ایک یادگار سیزن کا اختتام ہوا تھا، لیکن اب کھیل کا سب سے بڑا اور سب سے باوقار انعام افق پر نمودار ہو چکا ہے۔ 11 جون 2026 کو جب فیفا ورلڈ کپ کا آغاز ہوگا تو دنیا کے 48 ممالک ایک ایسے سفر پر نکلیں گے جس کا اختتام صرف ایک ٹیم کے ہاتھوں میں سنہری ٹرافی کے اٹھنے پر ہوگا۔ لیکن سوال وہی ہے جو ہر چار سال بعد دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کے ذہنوں میں گونجتا ہے: 2026 کا فیفا ورلڈ کپ کون جیتے گا؟
اس بار جواب صرف ماہرین، سابق کھلاڑیوں یا جذباتی شائقین سے نہیں مانگا گیا۔ یہ سوال جدید دور کے سب سے طاقتور فٹ بال کے تجزیاتی نظاموں میں سے ایک، اوپٹا (Opta) سپر کمپیوٹر کے سامنے رکھا گیا، جس نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ورلڈ کپ کے 10 ہزار فرضی مقابلے (Simulations) چلا کر اپنے تخمینے مرتب کیے ہیں۔
یہ ورلڈ کپ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ہوگا۔ پہلی مرتبہ 32 کے بجائے 48 ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔ پہلی مرتبہ ٹورنامنٹ میں 104 میچ کھیلے جائیں گے۔ پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے میں ”راؤنڈ آف 32“ شامل ہوگا۔ اور پہلی مرتبہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر اس عالمی میلے کی میزبانی کریں گے، جہاں 16 مختلف اسٹیڈیم پانچ ہفتوں سے زائد عرصے تک فٹ بال کے بخار میں مبتلا رہیں گے۔
19 جولائی کو نیو جرسی کے شہر ایسٹ ردرفورڈ میں فائنل کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو فاتح ٹیم کو ٹرافی پیش کریں گے، لیکن اس لمحے تک پہنچنے کے لیے دنیا کی بہترین ٹیموں کو ایک طویل اور کٹھن راستہ طے کرنا ہوگا۔
دفاعی چیمپئن ارجنٹینا ایک بار پھر اعزاز کے دفاع کے لیے میدان میں اترے گا۔ چار برس قبل قطر میں لیونل میسی نے اپنی قومی ٹیم کو تاریخ کی ایک یادگار فتح دلائی تھی، اور اب ”لا البیسیلسٹے“ ایک نئی نسل کے ساتھ دوبارہ عالمی تاج کے حصول کا خواب دیکھ رہا ہے۔
جنوبی امریکہ کی ایک اور بڑی طاقت برازیل بھی مرکزِ نگاہ ہوگی۔ پانچ عالمی ٹائٹل جیتنے والی ٹیم نے 2002 کے بعد سے ورلڈ کپ نہیں جیتا، لیکن اب اس کی قیادت عظیم اطالوی کوچ کارلو آنچیلوٹی کے ہاتھ میں ہے، جن پر دو دہائیوں پر محیط انتظار ختم کرنے کی ذمہ داری عائد ہے۔
یورپ حسبِ روایت سب سے بڑا دستہ لے کر آرہا ہے۔ 16 یورپی ممالک میں جرمنی اور فرانس جیسی طاقتیں شامل ہیں، جبکہ ایک حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن اٹلی مسلسل ایک اور ورلڈ کپ سے باہر رہ گئی ہے۔
ایشیا کی نمائندگی نو ٹیمیں کریں گی، جبکہ نیوزی لینڈ اوشیانا خطے کا واحد نمائندہ ہوگا۔ افریقہ سے 10 ممالک شریک ہیں، جن میں پہلی مرتبہ کوالیفائی کرنے والا کیپ ورڈی بھی شامل ہے۔
یہ ٹورنامنٹ صرف روایتی طاقتوں کا نہیں بلکہ نئے خواب دیکھنے والوں کا بھی ہے۔ کیوراساؤ، اردن، ازبکستان اور کیپ ورڈی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر قدم رکھ رہے ہیں۔
اور پھر وہ سوال جس نے برسوں سے انگلینڈ کے شائقین کو بے چین کر رکھا ہے: کیا انگلینڈ بالآخر 1966 کے بعد اپنا طویل انتظار ختم کر سکے گا؟ کیا موجودہ یورپی چیمپئن اسپین اپنی شاندار نسل کو عالمی تاج سے بھی نواز پائے گا؟
48 ٹیموں، 104 میچوں اور بے شمار ممکنہ کہانیوں کے اس سمندر میں پیشگوئی کرنا شاید پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپٹا سپر کمپیوٹر کی جانب نظریں اٹھتی ہیں، جس کے بتائے گئے نتائج میں کچھ ایسے انکشافات بھی موجود ہیں جنہوں نے فٹ بال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
تو سوال اب یہ نہیں کہ کون ورلڈ کپ کھیلنے جا رہا ہے؛ سوال یہ ہے کہ مشین کے مطابق کون تاریخ لکھنے جا رہا ہے؟
ورلڈ کپ کی تاریخ جذبات، حیرتوں اور ناقابلِ یقین داستانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن جدید فٹ بال میں ایک اور طاقت بھی فیصلہ سازی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے: اعداد و شمار۔
سپر کمپیوٹر کی پیشگوئیوں میں ایک اور قابلِ غور پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ عموماً انہی چند روایتی طاقتوں کے گرد گھومتی رہی ہے جنہوں نے بار بار ٹرافی اپنے نام کی ہے۔ تاہم 10 ہزار فرضی ٹورنامنٹس میں 35.9 فیصد مواقع پر فاتح کوئی ایسا ملک بنا جس نے حقیقی تاریخ میں کبھی ورلڈ کپ نہیں جیتا۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2026 کا ورلڈ کپ صرف ماضی کے چیمپئنز کی جنگ نہیں ہوگا؛ یہ نئے خواب دیکھنے والوں کے لیے بھی ایک غیرمعمولی موقع بن سکتا ہے۔
سرخ طوفان کی آمد: کیوں اسپین سب سے آگے کھڑا ہے؟
اگر اوپٹا سپر کمپیوٹر کی پیشگوئیوں کو ایک انتخاب سمجھا جائے تو اس نے اپنا ووٹ واضح طور پر اسپین کے حق میں ڈال دیا ہے۔
ٹورنامنٹ سے قبل جاری کردہ تخمینوں میں اسپین کو 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا گیا ہے، اور 48 ٹیموں کے ہجوم میں وہ واحد ملک ہے جو اعداد و شمار کی دوڑ میں سب سے آگے دکھائی دیتا ہے۔ سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے عالمی چیمپئن بننے کے امکانات 16.1 فیصد ہیں، جو تمام ٹیموں میں سب سے زیادہ ہیں۔
بظاہر یہ شرح بہت بڑی محسوس نہیں ہوتی، لیکن ایک ایسے ورلڈ کپ میں جہاں 48 ممالک شریک ہوں اور درجنوں ممکنہ راستے موجود ہوں، کسی ایک ٹیم کا باقی سب پر سبقت لے جانا بذاتِ خود اس کی طاقت کا اظہار ہے۔
اسپین کی برتری صرف ٹائٹل جیتنے کے امکانات تک محدود نہیں۔ اوپٹا کے اعداد و شمار کے مطابق وہ واحد ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کے امکانات نصف سے بھی زیادہ، یعنی 52.1 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ ’لا روخا‘ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات 39 فیصد اور فائنل تک رسائی کے امکانات 25.6 فیصد ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں، سپر کمپیوٹر صرف یہ نہیں کہہ رہا کہ اسپین ٹورنامنٹ جیت سکتا ہے؛ وہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اسپین کے آخری مراحل تک پہنچنے کے امکانات کسی بھی دوسری ٹیم سے زیادہ ہیں۔
اس اعتماد کی ایک بڑی وجہ ابتدائی مرحلے کا نسبتاً سازگار راستہ بھی ہے۔ اسپین کو گروپ ایچ میں یوراگوئے، سعودی عرب اور کیپ ورڈی کا سامنا ہے، اور سپر کمپیوٹر کی 75.3 فیصد سیمولیشنز میں اسپین نے اس گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی چیمپئن بننے کی دوڑ میں اسپین کو ابتدا ہی سے ایک ایسا پلیٹ فارم مل سکتا ہے جہاں وہ دباؤ کے بغیر اپنی رفتار قائم کر سکے۔
یہ صورتحال کوچ لوئس ڈی لا فوینتے کے لیے بھی خوش آئند ہے۔ اسپین کے نوجوان سپر اسٹار لامین یامال ہیمسٹرنگ انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور امکان ہے کہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچز میں مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں، لیکن نسبتاً آسان گروپ مرحلہ کوچنگ اسٹاف کو احتیاط سے فیصلے کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
اسپین کے حق میں سب سے مضبوط دلیل شاید اس کی موجودہ نسل ہے۔ دو سال قبل یورپی چیمپئن شپ جیتنے والی ٹیم نے پورے براعظم کو اپنی فنی برتری، رفتار اور اعتماد سے متاثر کیا تھا۔ اس کامیابی کا مرکزی کردار لامین یامال تھے، جو کم عمری کے باوجود پہلے ہی دنیا کے نمایاں ترین فٹبالرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یامال ایک شاندار سیزن کے بعد ورلڈ کپ میں داخل ہو رہے ہیں۔ تمام مقابلوں میں انہوں نے 24 گول کیے اور 17 گولوں میں معاونت فراہم کی، یوں ان کی مجموعی گول شراکت 41 رہی۔ ہسپانوی لیگ کے کھلاڑیوں میں صرف کائلین ایمباپے ان سے آگے رہے، جن کی مجموعی شراکت 48 گولز تھی۔
لیکن اسپین کی طاقت صرف ایک کھلاڑی تک محدود نہیں۔ روڈری انجری کے بعد دوبارہ مکمل فٹنس حاصل کر چکے ہیں اور مڈفیلڈ میں وہی توازن، کنٹرول اور قائدانہ صلاحیت فراہم کریں گے جس نے گزشتہ برسوں میں اسپین کو ناقابلِ شکست بنایا۔ دوسری جانب فیران ٹوریس اپنے کیریئر کے بہترین ادوار میں سے ایک گزارنے کے بعد ٹیم میں شامل ہو رہے ہیں، جبکہ میکل اویارزابال اور میکل میرینو نے کوالیفائنگ مرحلے میں مسلسل مؤثر کارکردگی دکھا کر اپنی اہمیت ثابت کی ہے۔
یورو 2024 کی فتح کے بعد بھی اسپین کی پیش قدمی نہیں رکی۔ وہ یوئیفا نیشنز لیگ کے فائنل تک پہنچا، جہاں اسے صرف پنالٹی شوٹ آؤٹ میں پرتگال کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں بھی اسپین نے چھ میچوں میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اپنی برتری برقرار رکھی۔
پھر سوال یہ ہے: کیا اسپین واقعی ناقابلِ شکست ہے؟ تاریخ اس سوال کا مکمل طور پر اثبات میں جواب نہیں دیتی۔
اسپین نے 2010 میں جنوبی افریقہ میں اپنی واحد عالمی ٹرافی جیتی تھی، لیکن حیران کن طور پر گزشتہ 14 ورلڈ کپ شرکتوں میں یہی واحد موقع تھا جب وہ سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے برعکس یورپی چیمپئن شپ میں اسپین کی کارکردگی کہیں زیادہ مستحکم اور شاندار رہی ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جو اسپین کے ناقدین کو امید دیتی ہے۔ اعداد و شمار ان کے حق میں ہیں، موجودہ فارم ان کے حق میں ہے اور اسکواڈ کی گہرائی بھی ان کے حق میں ہے، لیکن ورلڈ کپ کا اسٹیج ہمیشہ اپنی الگ کہانیاں لکھتا ہے۔
اس کے باوجود، اگر اوپٹا سپر کمپیوٹر کے فیصلے کو معیار مان لیا جائے تو ایک بات واضح ہے: 2026 کے ورلڈ کپ میں ٹرافی تک جانے والا ہر راستہ کسی نہ کسی مرحلے پر اسپین سے ٹکرائے بغیر مکمل نہیں ہوگا۔
اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا کی باقی تمام طاقتوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ ورلڈ کپ کیسے جیتیں گی، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسپین کو کیسے روکیں گی۔
تاج کے تعاقب میں: اسپین کے سب سے بڑے حریف کون ہیں؟
اگر اوپٹا سپر کمپیوٹر نے اسپین کو فٹ بال کے تختِ شاہی کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باقی دنیا نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
درحقیقت اعداد و شمار ایک ایسے ورلڈ کپ کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں چند فیصد کے معمولی فرق پورے ٹورنامنٹ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اسپین کے پیچھے کئی ایسی طاقتیں موجود ہیں جو نہ صرف عالمی چیمپئن بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ کسی بھی لمحے ان مشینی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کر سکتی ہیں۔
اوپٹا کے مطابق چھ مزید ٹیمیں ایسی ہیں جو حقیقی معنوں میں ٹرافی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں سے تین، فرانس، انگلینڈ اور ارجنٹینا اسپین کے قریب ترین تعاقب کرنے والے ہیں، جبکہ دیگر دعوے داروں کو عالمی تاج تک پہنچنے کے لیے کچھ اضافی سازگار حالات درکار ہوں گے۔
سپر کمپیوٹر کی پیشگوئیوں میں فرانس کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات 13 فیصد، انگلینڈ کے 11.2 فیصد اور دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے 10.4 فیصد ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسپین اگرچہ سرفہرست ہے، لیکن اس کی برتری اتنی نہیں کہ باقی طاقتوں کو نظر انداز کیا جا سکے۔
فرانس: فرانس: ایک عہد کا آخری معرکہ
جدید دور میں شاید ہی کوئی قومی ٹیم فرانس جتنی مستقل مزاج رہی ہو۔ 2018 کی عالمی چیمپئن اور 2022 کی فائنلسٹ فرانسیسی ٹیم ایک مرتبہ پھر ٹرافی کی دوڑ میں شامل ہے، لیکن اس بار کہانی صرف ایک اور عالمی اعزاز کی نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام کی بھی ہے۔
فرانس کو گروپ مرحلے میں نسبتاً مشکل راستہ ملا ہے۔ گروپ آئی میں ناروے، سینیگال اور عراق کے خلاف مقابلے اسے دیگر بڑے دعوے داروں کے مقابلے میں زیادہ آزمائش میں ڈال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپر کمپیوٹر کے مطابق اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے امکانات 60.3 فیصد ہیں، جو ارجنٹینا اور انگلینڈ سے کم ہیں۔
تاہم فرانس کی اصل طاقت ہمیشہ ناک آؤٹ مرحلے میں سامنے آتی ہے۔ اوپٹا کی 47.9 فیصد سیمولیشنز میں فرانس کوارٹر فائنل تک پہنچا اور وہاں سے اس کے امکانات مزید بہتر ہوتے گئے۔ مجموعی طور پر فرانسیسی ٹیم 21.3 فیصد مرتبہ فائنل تک پہنچی، جو اسے اسپین کے بعد سب سے مضبوط دعوے دار بناتی ہے۔
یہ ورلڈ کپ کوچ ڈیڈیے دیشان کے دور کا آخری باب بھی ہوگا۔ 2012 سے قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے دیشان پہلے ہی بطور کپتان اور بطور کوچ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ اگر وہ 2026 میں ایک اور ٹرافی حاصل کر لیتے ہیں تو ان کا نام عالمی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کوچز میں مزید مضبوطی سے ثبت ہو جائے گا۔
اور پھر فرانس کے پاس وہ ہتھیار بھی موجود ہے جس سے ہر دفاع خوفزدہ رہتا ہے: کائلین ایمباپے۔ ریال میڈرڈ کے لیے ایک شاندار سیزن گزارنے والے ایمباپے اب فرانسیسی کپتان کے طور پر اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔ وہ صرف دو ورلڈ کپ میں 12 گول کر چکے ہیں اور جرمنی کے میروسلاو کلوزے کے 16 گولز کے تاریخی ریکارڈ کے تعاقب میں ہیں۔
انگلینڈ: کیا انتظار ختم ہونے والا ہے؟
ہر ورلڈ کپ سے پہلے ایک سوال ضرور اٹھتا ہے، اور 2026 میں بھی وہی سوال زندہ ہے: ”کیا یہ آخرکار انگلینڈ کا سال ہوگا؟“
1966 کے بعد سے انگلینڈ نے کوئی بڑا بین الاقوامی اعزاز نہیں جیتا، لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس نے مسلسل ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی فٹ بال کی اشرافیہ میں شامل ہو چکا ہے۔ دو مسلسل یورپی چیمپئن شپ فائنلز تک رسائی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انگلینڈ اب محض امکانات کی ٹیم نہیں بلکہ حقیقی دعوے دار ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کوچ تھامس ٹوخیل نے اسکواڈ کے انتخاب میں کئی جرأت مندانہ فیصلے کیے ہیں۔ کول پالمر اور فل فوڈن جیسے ناموں کو محدود کردار دینے یا باہر رکھنے کے فیصلے اس اعتماد کی نشاندہی کرتے ہیں جو انہیں اپنے موجودہ منصوبے پر حاصل ہے۔
اس منصوبے کے مرکز میں حسبِ معمول ہیری کین موجود ہیں۔ بائرن میونخ کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے والے کین نے تمام مقابلوں میں 61 گول کیے اور یورپی گولڈن شو جیت کر ورلڈ کپ کا رخ کیا۔ ان کے پیچھے جوڈ بیلنگھم، ڈیکلن رائس اور دیگر تخلیقی ستاروں کی موجودگی انگلینڈ کے حملے کو مزید خطرناک بناتی ہے۔
سپر کمپیوٹر کے مطابق انگلینڈ کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کے امکانات 47.7 فیصد ہیں، جو اسپین کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔
اعداد و شمار، فارم اور تجربہ سب انگلینڈ کے حق میں ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا ”تھری لائنز“ بالآخر اپنی چھ دہائیوں پر محیط پیاس بجھا سکیں گے؟
ارجنٹینا: چیمپئن کا دفاع
ہر ورلڈ کپ میں ایک ٹیم ایسی ہوتی ہے جس کے پاس پیشگوئیوں سے بڑھ کر ایک چیز ہوتی ہے: چیمپئن ہونے کا اعتماد۔ 2022 کی فاتح ارجنٹینا اسی اعتماد کے ساتھ شمالی امریکہ پہنچ رہا ہے۔
گروپ جے میں آسٹریا، الجزائر اور اردن کے خلاف مقابلے ارجنٹینا کے لیے نسبتاً سازگار سمجھے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسپین کے بعد وہ اپنے گروپ میں سرفہرست آنے کی سب سے مضبوط امیدوار ٹیم تصور کی جا رہی ہے۔
اگرچہ اوپٹا کی درجہ بندی میں ارجنٹینا اسپین، فرانس اور انگلینڈ سے معمولی فاصلے پر ہے، لیکن 18.1 فیصد مرتبہ فائنل تک پہنچنے کا تخمینہ اسے بلاشبہ عالمی فٹ بال کے ”بگ فور“ میں شامل کرتا ہے۔
تاریخ بھی ارجنٹینا کے ساتھ ایک دلچسپ تعلق رکھتی ہے۔ امریکہ کے براعظم میں منعقد ہونے والے آٹھ ورلڈ کپ میں سے سات جنوبی امریکی ٹیموں نے جیتے ہیں، جو ارجنٹینا کے حامیوں کے لیے حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ دوسری طرف ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے: جدید دور میں کوئی بھی ٹیم اپنے ورلڈ کپ ٹائٹل کا کامیاب دفاع نہیں کر سکی۔ آخری مرتبہ یہ کارنامہ 1962 میں برازیل نے انجام دیا تھا۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ارجنٹینا ایک بار پھر اپنے سب سے بڑے جادوگر کی طرف دیکھ رہا ہے۔ 38 سالہ لیونیل میسی اب کیریئر کے آخری مرحلے میں ہیں، لیکن انٹر میامی کے لیے ان کے اعداد و شمار اب بھی غیرمعمولی ہیں۔ ان کے ساتھ لاؤتارو مارٹینیز اور جولیان الواریز جیسے اسٹرائیکرز موجود ہیں، جو کسی بھی دفاع کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ سپر کمپیوٹر نے ارجنٹینا کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا۔ کیونکہ کچھ ٹیمیں اعداد و شمار سے مضبوط ہوتی ہیں، اور کچھ ٹیمیں تاریخ، اعتماد اور یادگار لمحوں کی طاقت سے۔ ارجنٹینا خوش قسمتی سے دونوں چیزیں اپنے ساتھ لے کر میدان میں اتر رہا ہے۔
خاموش خطرہ: پرتگال، برازیل اور جرمنی کب کھیل کا نقشہ بدل دیں گے؟
اگر اوپٹا سپر کمپیوٹر کی پیشگوئیوں میں اسپین سب سے اوپر کھڑا ہے، اور فرانس، انگلینڈ اور ارجنٹائن اس کے قریب ترین تعاقب میں ہیں، تو اس کے بالکل پیچھے ایک ایسا خطرناک گروپ موجود ہے جو کسی بھی لمحے پورے منظرنامے کو الٹ سکتا ہے۔
یہ وہ ٹیمیں ہیں جو شاید فیورٹ لسٹ کے ”ٹاپ فور“ میں نہیں، لیکن ان کے امکانات اتنے کم بھی نہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا سکے۔
اوپٹا کے مطابق پرتگال (7.0 فیصد)، برازیل (6.6 فیصد) اور جرمنی (5.1 فیصد) امکانات کے ساتھ وہ تین بڑی قوتیں ہیں جو اس ورلڈ کپ میں کسی بھی بڑے اپ سیٹ یا شاندار واپسی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اعداد و شمار ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں: یہ تینوں ٹیمیں نہ صرف ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ فائنل تک پہنچنے کے لیے ان کے امکانات بھی دو ہندسوں کے قریب ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ”درمیانی درجے کے فیورٹس“ نہیں بلکہ مکمل طور پر خطرناک عالمی طاقتیں ہیں۔
پرتگال: رونالڈو کا آخری خواب؟
پرتگال اس فہرست میں سب سے آگے ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ کرسٹیانو رونالڈو ہیں، جنہوں نے تقریباً ہر ممکن انفرادی اعزاز جیت لیا، لیکن ورلڈ کپ ٹرافی اب بھی ان کے کیریئر کی واحد نامکمل کہانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ان کے لیے محض ایک اور ایڈیشن نہیں بلکہ ایک آخری عظیم کوشش ہے۔
رونالڈو اور لیونل میسی اس ورلڈ کپ میں ایک غیر معمولی تاریخی سنگِ میل قائم کریں گے، کیونکہ یہ دونوں پہلی بار چھ مختلف ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گے۔
یورو 2024 میں مایوس کن کارکردگی کے بعد، جہاں رونالڈو کوئی گول نہ کر سکے، وہ اس بار ایک مختلف جذبے کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ برونو فرنانڈیس موجود ہیں، جنہوں نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیے ایک سیزن میں 21 اسسٹس کا نیا پریمیئر لیگ ریکارڈ قائم کیا۔
کوچ روبرٹو مارٹینیز کے تحت پرتگال نے نیشنز لیگ جیت کر اعتماد حاصل کیا ہے اور سپر کمپیوٹر کے مطابق ان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات 23.9 فیصد تک پہنچتے ہیں۔
برازیل: روایتی بادشاہ کی واپسی؟
پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل ہمیشہ ورلڈ کپ کا سب سے بڑا نام رہی ہے، اور یہ واحد ٹیم ہے جس نے تاریخ کے ہر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ”سیلیساو“ کے لیے یہ سفر آسان نہیں رہا۔ انہیں آخری بار ٹائٹل جیتے ہوئے 24 سال گزر چکے ہیں، اور یہ وقفہ برازیلین فٹ بال کے معیار کے لیے غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔
تاریخ ایک دلچسپ اشارہ بھی دیتی ہے: 1970 اور 1994 کے درمیان بھی برازیل نے طویل انتظار کیا تھا، اور حیران کن طور پر وہ خشک سالی بھی امریکہ میں منعقدہ ورلڈ کپ میں ختم ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 کی میزبانی ایک بار پھر برازیل کے حامیوں کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔
کوچ کارلو آنچیلوتی کے پاس اس بار ایک انتہائی متوازن اور خطرناک حملہ آور لائن ہے، جس میں نیمار، وینیسیئس جونیئر، رافینیا اور میتھیوس کنہا جیسے نام شامل ہیں۔
برازیل کے گروپ مرحلہ جیتنے کے امکانات 60.4 فیصد ہیں، جبکہ ان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی شرح 22.1 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ برازیل اب بھی ٹورنامنٹ کے سب سے خطرناک دعوے داروں میں شامل ہے۔
جرمنی: خاموش لیکن خطرناک واپسی؟
جرمنی وہ ٹیم ہے جسے کبھی بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ورلڈ کپ میں ان کی اکیسویں شرکت ہوگی، جو کسی بھی یورپی ملک سے زیادہ ہے، اور تاریخ میں ان کی مستقل مزاجی ہمیشہ ان کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ جرمنی اپنی روایتی بلندیوں سے کچھ دور دکھائی دیتا ہے۔ انہیں ورلڈ کپ میں کوئی ناک آؤٹ میچ جیتے 12 سال ہو چکے ہیں، اور گزشتہ چار بڑے ٹورنامنٹس میں وہ سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکے۔
اس کے باوجود، ان کی موجودہ ٹیم میں تجربہ اور نوجوانی کا ایک دلچسپ امتزاج موجود ہے۔ مینوئل نوئر اور جوشوا کِمِچ تجربے کا مرکز ہیں، جبکہ فلورین وِرٹز وہ کھلاڑی ہیں جن سے جرمن شائقین بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
سپر کمپیوٹر کے مطابق جرمنی کے فائنل تک پہنچنے کے امکانات 10.6 فیصد ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر وہ رفتار پکڑ لے تو وہ کسی بھی حریف کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ تینوں ٹیمیں، پرتگال، برازیل اور جرمنی شاید ابھی فیورٹس کی پہلی صف میں نہ ہوں، لیکن ورلڈ کپ کی تاریخ گواہ ہے کہ اصل خطرہ اکثر وہی ہوتا ہے جو خاموشی سے قریب آ رہا ہو۔
اور اگر یہ تینوں ٹیمیں صحیح وقت پر اپنی فارم پکڑ لیں، تو 2026 کا ورلڈ کپ صرف اسپین یا بڑے فیورٹس کی کہانی نہیں رہے گا، بلکہ ایک مکمل الٹ پھیر کا میدان بن سکتا ہے۔
چھپے ہوئے خطرناک دعویدار: جب “ڈارک ہارسز” میدان میں اترتے ہیں
ورلڈ کپ کی اصل خوبصورتی ہمیشہ صرف فیورٹس تک محدود نہیں رہتی۔ ہر ٹورنامنٹ میں چند ایسی ٹیمیں ضرور ابھرتی ہیں جو خاموشی سے سفر شروع کرتی ہیں، لیکن پھر بڑے بڑے دعویداروں کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔ اوپٹا سپر کمپیوٹر کے مطابق اگرچہ ٹائٹل کی دوڑ چند بڑی طاقتوں کے گرد گھومتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک ایسی پرت بھی موجود ہے جسے نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ وہ ٹیمیں ہیں جنہیں مجموعی طور پر ”بہترین کے ساتھ بہترین“ کہا جا سکتا ہے، یعنی وہ جو فی الحال فیورٹس کی پہلی صف میں نہیں، لیہن کسی بھی لمحے پورے ٹورنامنٹ کا رخ بدل سکتی ہیں۔
اس فہرست میں نیدرلینڈز، ناروے، بیلجیم، کولمبیا اور مراکش شامل ہیں۔ یہ تمام ٹیمیں کم از کم اس معیار پر پوری اترتی ہیں کہ انہیں لمبے سفر کا ہدف رکھنا چاہیے، اور اگر حالات سازگار ہوں تو یہ کسی بھی لمحے ٹرافی کی دوڑ میں داخل ہو سکتی ہیں۔
نیدرلینڈز: فائنل تک پہنچنے والی مگر ٹرافی سے محروم ٹیم
اعداد و شمار کے مطابق نیدرلینڈز کے ٹائٹل جیتنے کے امکانات 3.6 فیصد ہیں، جو انہیں ڈارک ہارسز میں سب سے اوپر رکھتا ہے۔
یہ ٹیم ورلڈ کپ تاریخ کی ان منفرد ٹیموں میں شامل ہے جو بغیر ٹرافی کے سب سے زیادہ بار فائنل تک پہنچی ہیں ، یعنی تین مرتبہ۔
اصل چیلنج ہمیشہ ابتدائی مرحلہ رہا ہے۔ اگر نیدرلینڈز گروپ ایف میں پہلی پوزیشن حاصل نہیں کرتے، تو ان کے لیے راستہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر وہ دوسرے نمبر پر رہیں، تو انہیں راؤنڈ آف 32 میں ممکنہ طور پر گروپ سی کے فاتح، یعنی غالباً برازیل جیسے طاقتور حریف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ ٹیم ابتدائی رکاوٹیں عبور کر لے، تو ان کا تجربہ اور نظم و ضبط انہیں کسی بھی بڑے حریف کے لیے خطرناک بنا سکتا ہے۔
ناروے: ہالینڈ کا طوفان
ناروے اس فہرست میں سب سے زیادہ ”خوفناک فارم“ کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کوالیفائنگ مرحلے میں 37 گول کیے، جو کسی بھی ٹیم کے سب سے زیادہ ہیں۔۔ اور ان کی طاقت کا مرکز ایک نام ہے: ارلنگ ہالینڈ۔
ہالینڈ نے صرف آٹھ میچوں میں 16 گول کیے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں ایک بھی پنالٹی شامل نہیں تھی۔ مالدووا کے خلاف 11-1 کی تاریخی جیت میں ان کے پانچ گولز اس حملہ آور طاقت کی واضح مثال ہیں۔
ان کے ساتھ مارٹن اودےگارڈ جیسے تخلیقی مڈفیلڈر موجود ہیں جنہوں نے سات اسسٹس فراہم کیے، جن میں سے چار ہالینڈ کے لیے تھے۔ یہ جوڑی اگر درست وقت پر فارم میں آ جائے، تو ناروے کسی بھی دفاعی لائن کے لیے ڈراؤنا خواب بن سکتی ہے۔
بیلجیم: آسان گروپ، مشکل حقیقت
بیلجیم کے لیے گروپ مرحلہ نسبتاً آسان دکھائی دیتا ہے۔ مصر، ایران اور نیوزی لینڈ جیسے حریفوں کے ساتھ گروپ جی میں ان کے ٹاپ کرنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ لیکن دلچسپ تضاد یہ ہے کہ آسان گروپ کے باوجود ان کے مجموعی طور پر ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات صرف 2.4 فیصد ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیلجیم کے پاس صلاحیت موجود ہے، لیکن تسلسل اور بڑے میچوں میں کارکردگی اب بھی سوالیہ نشان ہے۔
کولمبیا اور مراکش: اصل ”ڈارک ہارسز“
اگر روایتی طاقتوں سے آگے دیکھا جائے تو دو ٹیمیں خاص طور پر توجہ کھینچتی ہیں: کولمبیا (2.1 فیصد) اور مراکش (1.9 فیصد)۔
کولمبیا حالیہ کوپا امریکہ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے رنر اپ رہا، جہاں وہ فائنل میں ارجنٹینا سے اضافی وقت میں ہارا۔ یہ ٹیم طویل عرصے بعد ورلڈ کپ میں واپس آ رہی ہے اور اس کے پاس رفتار، تکنیک اور جذبے کا بہترین امتزاج موجود ہے۔
دوسری طرف مراکش نے 2022 میں سیمی فائنل تک پہنچ کر تاریخ رقم کی تھی، اور اب وہ افریقہ کی سب سے مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل تک رسائی حاصل کی اور عالمی درجہ بندی میں بھی ٹاپ 10 کے قریب پہنچے۔
سپر کمپیوٹر کے مطابق مراکش ایک ایسا خطرہ ہے جو بڑے مقابلوں میں کسی بھی فیورٹ کو حیران کر سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنے گروپ میں برازیل جیسے حریف سے ٹکرائیں گے۔
وہ لمحات جن پر نظر رہنی چاہیے
گروپ مرحلے میں چند مقابلے پہلے ہی ٹورنامنٹ کی سمت طے کر سکتے ہیں۔
فرانس اور ناروے کا ٹکراؤ، کولمبیا اور پرتگال کا مقابلہ، اور مراکش کا برازیل کے خلاف ابتدائی میچ وہ لمحات ہیں جہاں ”ڈارک ہارسز“ اپنی اصل طاقت دکھا سکتے ہیں۔
آخر میں تصویر واضح ہے: یہ ورلڈ کپ صرف اسپین، فرانس یا ارجنٹینا کی کہانی نہیں ہوگا۔ یہ وہ ٹورنامنٹ ہے جہاں ایک نیدرلینڈز کا تجربہ، ایک ناروے کا طوفان، ایک مراکش کا جذبہ یا ایک کولمبیا کی واپسی پورے عالمی نقشے کو بدل سکتی ہے۔
اور شاید یہی 2026 کے ورلڈ کپ کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ یہاں کوئی بھی ”چھپا ہوا دعویدار“ اچانک سب سے بڑا ہیرو بن سکتا ہے۔
ہوم گراؤنڈ، بڑا امتحان: میزبان ممالک کتنا آگے جا سکتے ہیں؟
ورلڈ کپ کی تاریخ میں میزبان ملک ہمیشہ ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے تماشائی، مانوس ماحول اور جذباتی دباؤ اکثر ٹیموں کو غیر معمولی کارکردگی کی طرف دھکیل دیتے ہیں، لیکن اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ میزبانی ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کی تازہ پیشگوئیوں کے مطابق 2026 کے میزبان ممالک، امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مجموعی طور پر ایک مضبوط لیکن غیر معمولی سے کم کارکردگی دکھانے والے گروپ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یعنی یہ ٹیمیں مقابلے میں ضرور ہیں، لیکن ٹرافی تک پہنچنے کے لیے انہیں توقع سے زیادہ محنت درکار ہوگی۔
تاریخ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 1998 میں فرانس کے بعد سے کوئی بھی میزبان ملک ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوا، حالانکہ کئی میزبان ٹیمیں اس کے قریب ضرور پہنچی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 کے میزبانوں کے لیے بھی توقعات متوازن رکھی گئی ہیں، نہ بہت زیادہ امید، نہ مکمل ناامیدی۔
امریکہ: سب سے بڑا میزبان امیدوار
تینوں میزبانوں میں سب سے زیادہ امیدیں امریکہ سے وابستہ ہیں۔ کوچ موریشیو پوچیٹینو کی ٹیم ایک ایسے گروپ ڈی میں شامل ہے جسے بظاہر ٹورنامنٹ کے مشکل ترین گروپس میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہاں ان کا مقابلہ پیراگوئے، ترکیہ اور آسٹریلیا جیسے متوازن اور خطرناک حریفوں سے ہوگا۔
اوپٹا کے مطابق امریکہ کے گروپ ٹاپ کرنے کے امکانات 32.8 فیصد ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر امریکہ ابتدائی رکاوٹ عبور کر لیتا ہے تو ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے لیے راستے مزید کھل سکتے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر ان کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات صرف 1.2 فیصد ہیں۔ یہ شرح اگرچہ کم ہے، لیکن سوئٹزرلینڈ، یوراگوئے اور ایکواڈور جیسے تجربہ کار ممالک کے برابر ضرور انہیں ایک قابلِ احترام درجہ دیتی ہے۔
امریکہ کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ ہوم گراؤنڈ کے دباؤ کو فائدے میں کیسے بدلتا ہے، کیونکہ یہی عنصر اکثر میزبان ٹیموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔
میکسیکو: افتتاحی دن کی امیدیں
میکسیکو اس ٹورنامنٹ کے پہلے ہی دن توجہ کا مرکز ہوگا جب وہ تاریخی اسٹیڈیم ایزٹیکا میں جنوبی کوریا کے خلاف میدان میں اترے گا۔
اوپٹا کے مطابق میکسیکو کے گروپ اے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے امکانات 47.8 فیصد ہیں، جو انہیں اپنے گروپ میں ایک مضبوط دعویدار بناتے ہیں۔ اسی طرح ان کے راؤنڈ آف 16 تک پہنچنے کے امکانات 52 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ کوارٹر فائنل تک رسائی کا امکان 24.2 فیصد ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ میکسیکو ایک مستحکم کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابتدائی مراحل میں۔
لیکن جہاں بات ٹرافی کی آتی ہے، وہاں تصویر مختلف ہو جاتی ہے۔ ان کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات صرف 1.0 فیصد ہیں، جو انہیں مجموعی درجہ بندی میں درمیانی درجے کے مضبوط مگر غیر فیورٹ زمرے میں رکھتا ہے۔
کینیڈا: خاموش مگر پرامید میزبان
تینوں میزبانوں میں شاید سب سے کم توجہ کینیڈا کو مل رہی ہے، لیکن اوپٹا کی پیشگوئیاں بتاتی ہیں کہ یہ ٹیم خاموشی سے ایک مؤثر مہم چلا سکتی ہے۔
کوچ جیسی مارش کی قیادت میں کینیڈا کو گروپ بی میں ایک متوازن لیکن سخت مقابلہ درپیش ہوگا، جہاں انہیں سوئٹزرلینڈ جیسے مضبوط حریف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا کے راؤنڈ آف 16 تک پہنچنے کے امکانات 42.7 فیصد ہیں، جو کسی بھی میزبان ٹیم کے لیے ایک قابلِ ذکر ہدف ہے۔ مزید یہ کہ انہیں مجموعی درجہ بندی میں ٹاپ 22 میں رکھا گیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مکمل طور پر کمزور ٹیم نہیں۔
اگرچہ کینیڈا کو فیورٹس کی صف میں شامل نہیں کیا جا رہا، لیکن ان کی کارکردگی انہیں ”سرپرائز پیکیج“ بنانے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے۔
سرپرائز فیکٹر: جب کمزور سمجھی جانے والی ٹیمیں تاریخ بدل سکتی ہیں
ورلڈ کپ کی اصل خوبصورتی صرف ان بڑے ناموں میں نہیں جو ہر بار ٹرافی کے قریب نظر آتے ہیں، بلکہ ان ٹیموں میں بھی ہے جو خاموشی سے آتی ہیں اور پورے ٹورنامنٹ کا توازن بگاڑ دیتی ہیں۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کے مطابق اگرچہ زیادہ تر توجہ فیورٹ ٹیموں پر مرکوز ہے، لیکن کچھ ایسی ٹیمیں بھی موجود ہیں جو ”ڈارک ہارس“ کے طور پر کسی بھی لمحے بڑے اپ سیٹ کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
کروشیا: تجربے کا زوال یا آخری چمک؟
کروشیا کو اس فہرست میں ایک دلچسپ مقام حاصل ہے۔ 2018 میں رنر اپ اور 2022 میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم اب بھی خطرناک ضرور ہے، لیکن اعداد و شمار اس بار اس کے حق میں اتنے مضبوط نہیں جتنے ماضی میں تھے۔
اوپٹا کے مطابق کروشیا کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات صرف 1.6 فیصد ہیں، اور وہ مجموعی طور پر 15ویں نمبر پر موجود ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ ٹیم کا بدلتا ہوا ڈھانچہ ہے۔ کئی اہم کھلاڑی اپنے عروج کے بعد کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور وہ تسلسل جو انہیں گزشتہ دو ورلڈ کپ میں خاص بناتا تھا، اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
اس کے باوجود، کروشیا جیسی ٹیم کو کبھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ تجربہ بعض اوقات اعداد و شمار سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔
ایکواڈور: خاموش لیکن سخت مزاحمت
اگر کوئی ٹیم اس فہرست میں ”خاموش خطرہ“ کہی جا سکتی ہے تو وہ ایکواڈور ہے۔
اوپٹا نے انہیں 1.4 فیصد جیتنے کے امکانات دیے ہیں، لیکن ان کی اصل طاقت ان کا دفاعی نظام ہے۔ جنوبی امریکی کوالیفائرز میں دوسری پوزیشن حاصل کرنا اور 18 میچوں میں صرف پانچ گول کھانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ٹیم آسانی سے ٹوٹنے والی نہیں۔
گروپ ای میں ان کا مقابلہ جرمنی جیسے بڑے نام سے ہوگا، لیکن یہی وہ ٹیمیں ہیں جو بڑے ٹورنامنٹس میں اپ سیٹ کا باعث بنتی ہیں۔
ایکواڈور کے راؤنڈ آف 16 تک پہنچنے کے امکانات 43.4 فیصد ہیں، جو انہیں ایک سنجیدہ ناک آؤٹ دعویدار بناتے ہیں۔
وہ ٹیمیں، جن کے لیے خوابوں کی گنجائش ابھی باقی ہے
اعداد و شمار کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں کوئی بھی ٹیم مکمل طور پر بے امید نہیں ہوتی۔ اوپٹا کی 10 ہزار سیمولیشنز میں حیران کن طور پر آسٹریلیا نے 28 بار اور اسکاٹ لینڈ نے 22 بار ورلڈ کپ جیتا۔ یہ اعداد اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فٹ بال میں ”ناممکن“ محض ایک تصور ہے۔
ٹورنامنٹ کے پانچ ہفتوں میں حالات پلک جھپکتے بدل سکتے ہیں، ایک بڑا اپ سیٹ پورے بریکٹ کو الٹ سکتا ہے۔
دلچسپ طور پر، سپر کمپیوٹر نے صرف ایک ہی ٹیم کو ایسا قرار دیا جو ایک بار بھی چیمپئن نہیں بنی: کوراؤساؤ۔ دوسری طرف ہیٹی نے ایک سیمولیشن میں حیران کن طور پر پورا ورلڈ کپ جیت بھی لیا۔
یہی وہ غیر یقینی کیفیت ہے جو ورلڈ کپ کو دنیا کا سب سے غیر متوقع ٹورنامنٹ بناتی ہے۔
نئے چہرے اور ابھرتے ہوئے خطرات
اس بار چار نئی ٹیمیں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کا حصہ بن رہی ہیں، اور ان کے لیے راستہ آسان نہیں ہوگا۔
کیپ ورڈی کے گروپ سے نکلنے کے امکانات 33.9 فیصد ہیں، جبکہ کوراؤساؤ کے لیے یہ شرح صرف 18.5 فیصد ہے۔
سپر کمپیوٹر نسبتاً بہتر امکانات ازبکستان (0.1 فیصد) اور اردن (0.1 فیصد) کو دیتا ہے، لیکن دونوں کے لیے گروپ مرحلہ ہی سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
افریقہ سے آنے والی ٹیموں میں مصر ایک نمایاں نام ہے، جس کی قیادت محمد صلاح جیسے عالمی اسٹار کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے راؤنڈ آف 16 تک پہنچنے کے امکانات 30.6 فیصد ہیں، جو انہیں نچلے درجے کی ٹیموں میں سب سے خطرناک بناتے ہیں۔
جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک بھی حیران کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے امکانات 59.2 فیصد ہیں، جبکہ جنوبی افریقہ کے لیے یہ شرح 49.3 فیصد تک جاتی ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے لیے گروپ مرحلہ آسان نہیں، کیونکہ انہیں برازیل اور مراکش جیسے بڑے ناموں کا سامنا ہوگا۔ تاہم اوپٹا کے مطابق ان کے گروپ سے نکلنے کے امکانات 66.1 فیصد ہیں، جو ایک حیران کن حد تک مضبوط تخمینہ ہے۔
اگر وہ ابتدائی رکاوٹیں عبور کر لیتے ہیں تو راؤنڈ آف 16 تک رسائی ان کے لیے ایک حقیقت بن سکتی ہے۔
بالآخر ہر ٹیم کے پاس ایک کہانی ہے
ہیٹی، کیپ ورڈی اور کوراؤساؤ جیسے ممالک کے لیے شاید اعداد و شمار زیادہ امید افزا نہ ہوں، لیکن ورلڈ کپ کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ یہاں ہر ٹیم کے پاس ایک کہانی موجود ہے، اور ہر کہانی کا اختتام حیران کن ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر کوراؤساؤ، جو رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ورلڈ کپ کھیلنے والا سب سے چھوٹا ملک ہے، اس بات کی علامت ہے کہ فٹ بال میں سائز نہیں، جذبہ فیصلہ کرتا ہے۔
اور یہی جذبہ ہر چار سال بعد اس ٹورنامنٹ کو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک عالمی داستان بنا دیتا ہے۔
__________________________
جب دنیا گیند کے گرد گھومنے لگے گی: 2026 فیفا ورلڈ کپ کے خواب، خوف اور جنگیں




