
مشرق وسطیٰ کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اس وقت ایک ایسے تاریخی اور تزویراتی سنگ میل پر کھڑی ہے جہاں دہائیوں سے قائم "یکطرفہ غلبہ” کا امریکی بت پاش پاش ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ واشنگٹن کے ایوانوں میں چھائی ہوئی سیاسی بے یقینی اور تہران کی بڑھتی ہوئی عسکری خود اعتمادی نے عالمی طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ محض دو روایتی حریفوں کے درمیان لفظی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کا آغاز ہے جہاں تیل کی ترسیل، بحری گزرگاہوں کی حفاظت اور سفارتی آداب کے پیمانے تہران کی شرائط پر طے کیے جا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو کبھی اپنی جارحانہ ٹویٹس اور غیر متوقع فیصلوں سے دنیا کو مرعوب رکھتے تھے، آج خود اپنے ہی ملک کے اندرونی سیاسی گرداب میں اس طرح پھنس چکے ہیں کہ ان کی بین الاقوامی ساکھ تیزی سے مٹ رہی ہے۔
یہ فیچر ٹرمپ کے داخلی بحرانوں اور ایران کی اس نئی تزویراتی جارحیت کا گہرا تجزیہ پیش کرتا ہے جس نے واشنگٹن کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کا نفسیاتی دباؤ اور دوسری طرف ایران کی نئی قیادت کا "جارحیت بطور ڈیٹرنس” (Aggression as Deterrence) کا نظریہ ,یہ دونوں عوامل مل کر مشرق وسطیٰ کے نقشے کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کی داخلی سیاست میں اٹھنے والا طوفان اب محض وائٹ ہاؤس تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پینٹاگون کی عسکری صلاحیتوں کو بھی مفلوج کرنا شروع کر دیا ہے۔
امریکی کانگریس کا تاریخی فیصلہ: ٹرمپ کے ہاتھ بندھ گئے
امریکی سیاست کے افق پر حالیہ دنوں میں جو سب سے بڑا دھماکہ ہوا، وہ امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کی جانب سے منظور کی جانے والی وہ قرارداد ہے جس نے صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو عملاً سلب کر لیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کی رو سے صدر اب کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا فضائی حملے کا حکم دینے کے مجاز نہیں رہے۔ یہ ایک ایسا "تزویراتی چیک میٹ” ہے جس نے خلیج فارس میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کو ایک بے بس تماشائی بنا کر رکھ دیا ہے۔
اس سیاسی دھچکے کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ریپبلکن پارٹی کے چار اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنی ہی پارٹی کے صدر کے خلاف ووٹ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ٹرمپ کی قیادت پر خود ان کے اپنے گھر کے اندر سے عدم اعتماد کا اظہار شروع ہو چکا ہے۔ یہ دراڑ محض ایک ووٹنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ اس خوف کا عکاس ہے جو امریکی قانون سازوں کے دلوں میں ایران کے ساتھ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ یہ قرارداد اب سینیٹ میں جائے گی، جہاں ٹرمپ کو مزید سبکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر سینیٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی، تو ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی بھی عسکری آپشن باقی نہیں رہے گا، سوائے اس کے کہ وہ مذاکرات کی میز پر گھٹنے ٹیک دیں۔
سیاسی دھچکے کے اہم محرکات
- عالمی معیشت کا ممکنہ انہدام: امریکی اراکین بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی براہِ راست تصادم کا نتیجہ عالمی سپلائی چین کی مکمل تباہی کی صورت میں نکلے گا۔
- تیل و گیس کے بحران کا خوف: آبنائے ہرمز کی بندش سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا ہوش ربا اضافہ امریکی ڈومیسٹک مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دے گا، جس کا خمیازہ عام امریکی ووٹر کو بھگتنا پڑے گا۔
- وسط مدتی انتخابات (Mid-term Elections) کا دباؤ: نومبر میں ہونے والے انتخابات ٹرمپ کے لیے بقا کی جنگ ہیں۔ ریپبلکن اراکین کو خدشہ ہے کہ جنگی جنون ان کی نشستوں کو ڈبو سکتا ہے، اس لیے وہ ٹرمپ کے مہم جویانہ عزائم سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔
- ٹرمپ کی ناقابلِ پیش گوئی شخصیت پر عدم اعتماد: اسٹیبلشمنٹ کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت اور ان کے فیصلے ملک کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔
اس قانون سازی نے صدر ٹرمپ کو نفسیاتی طور پر دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات ان کی حالیہ پریس کانفرنسوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
صدارتی وقار اور نفسیاتی دباؤ: ٹرمپ کی بدلتی ہوئی کیفیت
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں اور امریکی میڈیا نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کی جس کیفیت کا مشاہدہ کیا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ پریس کانفرنسوں کے دوران صدر کا تھکا ہوا چہرہ، بار بار آنکھیں جھپکنا اور سوالات سے گریز کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ شدید "نفسیاتی دباؤ” اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ امریکی صحافیوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں ٹرمپ کو دورانِ گفتگو "اونگھتے” ہوئے دیکھا گیا ہے، جو ایک عالمی طاقت کے سربراہ کے لیے انتہائی غیر معمولی اور افسوسناک منظر ہے۔
اس نفسیاتی تبدیلی کا ایک بڑا سراغ ان کے حالیہ دورہ چین سے ملتا ہے۔ اسرائیلی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ چین سے واپسی کے بعد ٹرمپ ایک بالکل "مختلف انسان” بن چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیجنگ میں ان پر کوئی ایسا دباؤ ڈالا گیا یا کوئی ایسی "چوڑی کسی گئی” جس نے ان کے لہجے سے وہ پرانی گھن گرج ختم کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنے قریبی ترین اتحادی، نیتن یاہو پر برس رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے دہائیوں پرانے تزویراتی اتحاد میں ایک گہری دراڑ کا پیش خیمہ ہے۔ ٹرمپ اب اسرائیل کی جنگ لڑنے کے بجائے اپنی سیاسی جان بچانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کی یہ ذہنی کشمکش ان کے اس بیان سے بھی ظاہر ہوتی ہے جہاں وہ ایک طرف تہران کو دھمکاتے ہیں اور دوسری طرف ایران کے نئے سپریم لیڈر سے ملنے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔
"میں نئے سپریم لیڈر (مجتبیٰ خامنہ ای) کی بہت عزت کرتا ہوں، وہ ایک باوقار اور پیشہ ور انسان ہیں۔ اگرچہ میں ان کا پسندیدہ شخص نہیں ہوں اور ماضی میں ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تلخ ہے، لیکن اگر ایک ‘ڈیل’ کی گنجائش ہو تو میں ان سے ملاقات کو اپنے لیے اعزاز سمجھوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ ان کی ساکھ بہت مضبوط ہے۔”
یہ بیان اس "بے بسی” کی انتہا ہے جہاں ایک صدر اس شخص سے ڈیل مانگ رہا ہے جس کے خاندان اور ملک کو وہ تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ واشنگٹن کے اس خلا کو اب تہران کی نئی اور جارحانہ قیادت پر کر رہی ہے۔
تہران کی نئی ڈاکٹرائن: دفاع سے جارحیت تک کا سفر
ایران کی سیاسی اور عسکری بساط پر ایک نئی طاقتور شخصیت کا ظہور ہو چکا ہے۔ 28 فروری کے اس خوفناک دھماکے میں، جس میں امام خامنہ ای شہید ہوئے تھے، ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ ہفتوں آئی سی یو میں رہنے اور زندگی و موت کی جنگ لڑنے کے بعد، مصطفیٰ خامنہ ای اب نہ صرف مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں بلکہ وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر تمام اہم تزویراتی فیصلے کر رہے ہیں۔ اس ذاتی صدمے اور قومی سانحے نے ان کی سوچ میں ایک نئی سختی پیدا کر دی ہے، جس کا نتیجہ "جارحیت بطور ڈیٹرنس” (Aggression as Deterrence) کی صورت میں نکلا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا نظریہ واضح ہے: "ہمارا حملہ ہی ہمارا بہترین دفاع ہے”۔ اب ایران امریکی حملے کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ خطے میں موجود ہر امریکی اثاثے کو نشانہ بنائے گا۔ اس نئی ڈاکٹرائن کا عملی مظاہرہ حال ہی میں دیکھنے کو ملا جب کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، اور سب سے بڑھ کر آبنائے ہرمز میں "قشم جزیرے” (Kishm Tapu) کے قریب امریکی بحریہ کے ایک بڑے جہاز (Vessel) پر براہِ راست حملہ کیا گیا۔ اس حملے پر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی مکمل خاموشی تہران کی بہت بڑی تزویراتی فتح ہے۔ امریکہ کا جوابی کارروائی نہ کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ اب وہ ایران کی نئی عسکری طاقت سے خوفزدہ ہے۔
ایران کی نئی حکمت عملی کے تین کلیدی ستون:
- فعال جارحیت (Active Offense): تہران اب دشمن کو اس کے گھر میں یا قریبی اڈوں پر ضرب لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ کسی بھی بڑے حملے کے ارادے کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔
- امریکی بحری برتری کا خاتمہ: آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان (Gulf of Oman) میں امریکی جہازوں کو براہِ راست چیلنج کرنا تاکہ عالمی دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ یہ سمندر اب امریکہ کی جاگیر نہیں رہے۔
- علاقائی گماشتہ قوتوں (Proxies) کا مربوط استعمال: حزب اللہ، حماس اور دیگر گروہوں کو جدید ترین ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرنا تاکہ اسرائیل اور امریکی مفادات پر ہمہ وقت دباؤ برقرار رہے۔
ایران کی اس نئی خود اعتمادی کو روس اور چین کی "عسکری ڈھال” نے مزید مضبوط کر دیا ہے۔
روس اور چین کا بلاک: ایران کی نئی عسکری ڈھال
مشرق وسطیٰ میں طاقت کا پلڑا جھکنے کی ایک بڑی وجہ روس اور چین کا ایران کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا ہے۔ اب یہ تعاون محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں ٹھوس شکل اختیار کر چکا ہے۔ روس کی جانب سے جدید ترین "پینٹسر” (Pantsir) ایئر ڈیفنس سسٹم اور SU-35 لڑاکا طیاروں کی ایران کو فراہمی نے خطے کی فضائی حرکیات بدل دی ہیں۔ پینٹسر سسٹم کی تنصیب کے بعد گزشتہ چند دنوں میں کئی امریکی ڈرونز کو ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا گیا ہے، جس نے امریکی ٹیکنالوجی کا بھرم توڑ دیا ہے۔
اس تعاون کا سب سے اہم پہلو "کیسپین سمندر کا راستہ” (Caspian Sea Route) ہے، جس کے ذریعے روس مسلسل ڈرون کے پرزے اور حساس عسکری آلات ایران پہنچا رہا ہے۔ یہ سپلائی لائن امریکی پابندیوں کے اثر کو زائل کر رہی ہے اور ایران کو "وار فٹنگ” (War Footing) پر اپنی دفاعی صلاحیتیں بحال کرنے کا موقع دے رہی ہے۔
اس مضبوط عسکری بنیاد کے ساتھ ایران اب معاشی محاذ پر بھی اپنی شرائط منوانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے، جس نے ہندوستان جیسے علاقائی کھلاڑیوں کے لیے ایک کڑا امتحان پیدا کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور وہاں جاری کشیدگی نے ہندوستان کے لیے ایک بڑا معاشی اور تزویراتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہندوستان کی توانائی کی سلامتی کا مکمل انحصار اسی بحری گزرگاہ پر ہے۔ ایران نے اس صورتحال میں ایک انتہائی ذہین چال چلی ہے؛ اس نے اپنی نو تشکیل شدہ "پرشین گلف اسٹیٹس اتھارٹی” (Persian Gulf States Authority) کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ان ممالک کے ٹینکرز کو راستہ دے گا جن کے ساتھ اس کے مراسم بہتر ہوں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ماہ تقریباً 300 تیل بردار ٹینکرز کو ایران نے بحفاظت گزرنے دیا، جن میں سب سے بڑی تعداد چین کی تھی اور اس کے بعد ہندوستان کے جہاز شامل تھے۔ یہ ہندوستان کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ اگر وہ اپنی "تزویراتی خودمختاری” (Strategic Autonomy) کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو اسے واشنگٹن کے بجائے تہران کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ہندوستان کے لیے کہ اگر وہ ایران سے دوری برقرار رکھتا ہے تو اسے نہ صرف مہنگے داموں تیل خریدنا پڑے گا بلکہ اس کی سپلائی بھی غیر یقینی رہے گی۔
________________________




