گوشت خور پچر پلانٹ چوری ہونے لگے، بقا کو خطرہ لاحق

ویب ڈیسک

ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ باقاعدہ دانتوں والے گوشت خور پچر پلانٹ کی بقا کو خطرات لاحق ہیں، جو دنیا میں پہلے ہی نایاب ہیں

اسے البانی پچرپلانٹ کہا جاتا ہے، جو پوری دنیا میں صرف مغربی آسٹریلیا کے جنوبی ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہے

اگرچہ اس پر تحقیق کی بہت ضرورت ہے لیکن دوسری جانب اس کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے، کیونکہ ان کو غیرقانونی طور پر مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔ لوگ ان نایاب اور انوکھے پودوں کو گھر میں بطور سجاوٹ کے لیے رکھتے ہیں

پچرپلانٹ کے صراحی دار پودوں کے کناروں پر لگا کیمیکل حشرات اور اڑنے والے کیڑوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور پھسلن کی وجہ سے مکھیاں اور کیڑے اندر جا گرتے ہیں

پودے کے اندر کئی اقسام کے خامرے اس جانداروں کو گھلا دیتے ہیں، جو ان کی غذا بھی ہوتے ہیں

اپنے انہی خواص کی بنا پر ان پودوں کی دنیا بھر میں غیرمعمولی مانگ ہے اور یہاں سے چوری کرکے دنیا بھر میں اسمگل کئے جاتے ہیں

اس سے قبل بھی البانی پچر پلانٹ کی بقا کو شدید خطرات لاحق تھے اور اسے نایاب ترین انواع میں شامل کیا گیا ہے، تاہم مغربی آسٹریلیا کے البانی پچرپلانٹ کچھ تبدیل ہوکر چیونٹیوں کو ہضم کرنے لگے ہیں

اس پودے کے کنارے پر خمیدہ انداز میں دانت نما ابھار ہوتے ہیں، جو تیزی سے بند ہوکر کیڑے کو اندر قید کر لیتے ہیں۔ پرندے کا اوپری حصہ نیم شفاف ہوتا ہے اور آخر تک کیڑا خود کو کھلے آسمان تلے سمجھتا ہے، لیکن درحقیقت وہ ’شجری پنجرے‘ میں قید ہو چکا ہوتا ہے

لیکن دوسری جانب امید افزا بات یہ ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اسے اگایا جارہا ہے اور اس میں کامیابی بھی ملی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close