برطانیہ میں بدترین مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے کیلئے پورٹ ملازمین نے بھی ہڑتال کردی

ویب ڈیسک

مشرقی انگلینڈ کی بندرگاہ پر تقریباً 2 ہزار یونین ملازمین نے ہڑتال کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا، احتجاج کرنے والے ملازمین میں کرین ڈرائیور، مشین آپریٹرز سمیت دیگر مزدور شامل ہیں، 1989 کے بعد فیلکس اسٹو میں کی جانے والی یہ پہلی ہڑتال ہے۔

فیلکس اسٹو ورکرز کی جانب سے یہ ہڑتال برطانیہ کی مختلف صنعتوں میں تنخواہوں اور ورکنگ کنڈیشنز سے متعلق پیدا ہونے والے تعطل کے دوران سامنے آئی ہے جب کہ اس سے قبل ریلوے ملازمین نے رواں ہفتے کے دوران جمعرات اور ہفتے کے روز ہڑتال کی

پوسٹل ورکرز رواں ماہ کے آخر میں 4 روزہ ہڑتال پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ٹیلی کام شعبے سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنی بی ٹی کو دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہڑتال کے باعث بندش کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ ایمیزون کے گوداموں میں کام کرنے والا عملہ، مجرمانہ کیسز لڑنے والے وکلا اور ڈسٹ بینوں سے کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے ملازمین بھی ہڑتال پر جانے والے دیگر افراد میں شامل ہیں۔

تنخواہوں میں اضافے کے یہ مطالبات مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے ہیں جو گزشتہ ماہ 10 فیصد سے بڑھنے کے بعد 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جب کہ خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث لاکھوں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ہڑتال پر جانے والی کمپنی فیلکس اسٹو کے عملے کی نمائندگی کرنے والی یونائیٹ یونین کا کہنا ہے کہ کام رکنے سے بندرگاہ بری طرح سے متاثر ہوگی جب کہ کمپنی سالانہ 2 ہزار بحری جہازوں سے تقریباً 40 لاکھ کنٹینرز ہینڈل کرتی ہے۔

یونائیٹ یونین نے مہنگائی میں اضافے کی شرح سے اپنے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور دلیل دی ہے کہ پورٹ سے متعلق یہ شعبہ بہت منافع بخش کاروبار ہے

یونائیٹ یونین کے جنرل سیکریٹری شیرون گراہم کا کہنا تھا کہ وہ فیلکس اسٹو ورکرز کو تنخواہ میں معقول اضافہ دے سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ فیلکس اسٹو کی پیرنٹ کمپنی سی کے ہچیسن ہولڈنگ لمیٹڈ نے 2020 میں اپنے شیئر ہولڈرز کو تقریباً 10 کروڑ پاؤنڈز دیے ہیں۔

پورٹ آف فیلکس اسٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہڑتال پر جانے کا اقدام مایوس ہے اور تنخواہ میں اوسطاً 8 فیصد اضافے کی اپنی پیشکش کو مناسب قرار دیا۔

کساد بازاری
رہنما لز ٹرس نے برطانیہ میں کساد بازاری کے امکان کو مسترد کر دیا جب کہ ان کے متوقع وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں

اپنے حریف رشی سنک کو شکست دینے اور برطانوی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں سب سے آگے لز ٹرس نے ایک انٹرویو میں عزم ظاہر کیا کہ اگر وہ اقتدار آئیں تو چھوٹے کاروبار اور خود انحصاری پر مبنی روزگار کے انقلاب کی قیادت کریں گی۔

اپنے انٹرویو کے دوران لز ٹرس نے کہا کہ بہت زیادہ باتیں ہو رہی ہیں کہ کساد بازاری ہونے والی ہے، میں نہیں مانتی کہ ایسا ہونا ضروی ہے، ہم ملک میں مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں برطانیہ کو اگلا گوگل یا فیس بک بنانے کے لیے معاشی حالات پیدا کرنے چاہییں، ہمارا ادارہ اور خواہش اس طرح کے مواقع اور منصوبے شروع کرنے کے بارے میں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close