”سوچ سکنے والا مواد بنا لیا“ سائنسدانوں کا دعویٰ

ویب ڈیسک

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا مواد تیار کیا ہے جو ’سوچنے‘ کے قابل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے

اس تحقیق کی تفصیلات پر مشتمل ایک مطالعہ بدھ کو سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوا

پین اسٹیٹ یونیورسٹی اور امریکی فضائیہ کے محققین نے میکانیکی معلومات کی پروسیسنگ کو بروئے کار لانے اور اسے مواد کی ایک جدید شکل میں ضم کرنے کے لیے 1938ع سے ہونے والی تحقیق پر مزید کام کیا

واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی مربوط سرکٹس پر مبنی ہے، جو عام طور پر سلیکون سیمی کنڈکٹرز پر انحصار کرتی ہے تاکہ معلومات کو اس طرح پراسیس کیا جا سکے، جس طرح انسانی جسم میں دماغ کا کردار ہے

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ کمپیوٹر کی طرح کام انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والے مربوط سرکٹ ہمارے ارد گرد ’تقریباً کسی بھی مواد‘ کا استعمال کرتے ہوئے بنائے جا سکتے ہیں

پین اسٹیٹ یونیورسٹی میں مکینیکل انجینیئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ریان ہارن نے کہا ”ہم نے ایک ایسا انجینیئرنگ مواد تیار کیا ہے، جو بیک وقت میکانیکی دباؤ کو محسوس کر سکتا ہے، سوچ سکتا ہے اور اس پر عمل کر سکتا ہے اور اسے اس طرح کے سگنلز پر کارروائی کے لیے درکار اضافی سرکٹوں کی بھی ضرورت نہیں ہے“

ان کا کہنا تھا ”یہ نرم پولیمر مواد ایک دماغ کی طرح کام کرتا ہے، جو عمل کرنے کے لیے علامات اور اعدادوشمار کی صورت میں معلومات لیتا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیجیٹل معلومات کے نئے سلسلے پیدا ہوتے ہیں، جو ردعمل کو کنٹرول کر سکتے ہیں“

سائنسدانوں کے مطابق یہ مواد دوبارہ تشکیل دیے جا سکنے والے سرکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے، جو بیرونی محرکات وصول اور انہیں برقی معلومات میں تبدیل کر سکتے ہیں، جس کو بعد ازاں آؤٹ پٹ سگنل بنانے کے لیے پراسس کیا جا سکتا ہے

ٹیم نے مواد سے پیچیدہ حساب کتاب کروا کر اس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ اسے خودمختار سرچ اینڈ ریسکیو سسٹمز جیسی ایپلیکیشنز کو لائٹ سگنلز بھیجنے کی خاطر درکار ریڈیو فریکوئنسی کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

یہاں تک کہ ممکنہ طور پر اسے بائیو ہائبرڈ مواد میں بھی استعمال کرنا ممکن ہے، جو ہوا میں موجود بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی شناخت، انہیں الگ اور بے اثر کر سکتا ہے

اب سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ ایسا مواد بھی تیار کر لیں گے جو دیکھ کر معلومات پر اسی طرح عمل کر سکے، جس طرح یہ اشاروں کو ’محسوس‘ کرتا ہے

پروفیسر ہارن کہتے ہیں ”فی الحال ہم اس کو ’دیکھنے‘ والے ذرائع میں تبدیل کر رہے ہیں تاکہ اس ’چھونے‘ کے احساس کو بڑھا سکیں جو ابھی ہم نے بنایا کیا ہے“

انہوں نے مزید کہا ”ہمارا مقصد ایک ایسا مواد تیار کرنا ہے، جو کسی ماحول میں نشانات دیکھ کر اور ان پر عمل کر کے خودکار طریقے سے اپنا راستہ متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور نقصان دہ چیزوں سے بچنے کا اہل ہو، مثلاً اگر اس پر کوئی پاؤں رکھ دے تو اس سے خود کو بچا سکے“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close