46 ہزار برس تک برف میں منجمد کیڑے میں زندگی کی بحالی اور زندگی کو کسی خاص مدت تک منجمد رکھنے کے امکانات

ویب ڈیسک

سائنسی حلقوں میں ایک بار پھر زندگی کو کسی خاص مدت تک منجمد رکھنے کے امکانات کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ تازہ بحث کا آغاز اس وقت ہوا، جب حال ہی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے سائبیریا کی منجمد زمین پر چھیالیس ہزار سال سے دفن دو راؤنڈ ورمز یا کینچووں کو ہوش میں لا کر ان کی افزائش نسل بھی کی

عالمی سطح پر درجہِ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سائبیریا کے ہزاروں سالوں سے منجمد علاقے بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں سائبیریا کی پرما فروسٹ یا منجمد زمین کے پگھلنے سے ماحولیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں وہیں سائنسدانوں کو زمانہِ قدیم کے بارے میں جاننے میں بھی مدد ملی ہے، کیونکہ یہاں کے منجمد دریاؤں سے اکثر اوقات وائرس اور خوردبینی و عظیم الجثہ جانوروں کی باقیات ملتی رہتی ہیں

2018ع میں روس کے انسٹیٹیوٹ آف فزیو کیمیکل اینڈ بایو لوجیکل پرابلمز سے منسلک سائنسدان انستازیا شیٹی لووچ کو سائبیریا کے کولائیما نامی دریا سے دو منجمد راؤنڈ ورمز یا کینچوے ملے تھے۔ یہ راؤنڈ ورمز تقریباً ایک سو تیس فٹ کی گہرائی پر منجمد زمین میں دفن تھے اور ساکن حالت میں تھے

انستازیا شیٹی لووچ نے لیبارٹری کے مخصوص ماحول میں جب ان راؤنڈ ورمز کو پانی میں ڈالا تو حیرت انگیز طور پر یہ ہوش میں آ گئے۔ یہ ایک چونکا دینے والی پیش رفت تھی، جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ حاصل کی۔ بعد ازاں ان کیڑوں کی عمر معلوم کرنے کے لئے انہیں ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ جرمنی منتقل کر دیا گیا

27 جولائی 2023 کو پبلک لائبریری آف سائنس کے جینیاتی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ان راؤنڈ ورم کی عمر 45،839 سے 47،769 برس کے درمیان ہے۔ یہ زمانہ سائنسی اصطلاح میں (PLEISTOCENE) کہلاتا ہے

اس تحقیق میں معاونت کرنے والے جرمن ادارے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے ایک محقق تیمورز کرزشیلیا نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سائنسدانوں کے لئے یہ جاننا انتہائی اہم تھا کہ ان راؤنڈ ورمز کی عمر کیا ہے، جس کے لئے ریڈیو ایکٹو کاربن ڈیٹنگ کی تکنیک استعمال کی گئی

تیمورز کرزشیلیا بتاتے ہیں ”صرف چند ملی میٹر سائز کے ان کیڑوں کا تعلق نیماٹوڈ انواع سے ہے، جو انتہائی کم درجہِ حرارت میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کیڑے تقریباً چھیالیس ہزار سال پہلے پیدا ہوئے اور کسی طرح سائیبیریا کی پرما فروسٹ (منجمد زمین) میں دفن ہو گئے۔ اس طویل عرصے کے دوران یہ ساکن حالت میں رہے، جسے سائنسی اصطلاح میں ’کرائیٹو بایوسز‘ کہا جاتا ہے“

انہوں نے بتایا ”چونکہ ان راؤنڈ ورمز کا دورِ حیات صرف چند دن ہوتا ہے، اس لئے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ میں افزائشِ نسل کے بعد یہ طبعی موت مر گئے تھے۔“

تیمورز کرزشیلیا کے مطابق، نیماٹوڈ کی اس طرح کی انواع دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں جو ایک مخصوص وقت تک خود کو ساکن رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں

وہ کہتے ہیں ”دنیا بھر کے سائنسدان اس تحقیق میں معاونت کر رہے ہیں اور ان راؤنڈ ورمز کی جین پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ایک مخصوس شوگر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، جسے (TREHLOSE) کہا جاتا ہے۔ اس جین پر مزید تحقیق سے معلوم ہوگا کہ یہ نیما ٹوڈ کس طرح طویل عرصے تک منجمد رہتے ہیں۔“

تیمورز کرزشیلیا کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے سب سے اہم سوال یہ سامنا آیا ہے کہ کیا زندگی کو طویل مدت تک منجمد رکھا جا سکتا ہے؟

مذکورہ تحقیق میں معاونت کرنے والے یونیورسٹی آف کولون کے زولوجی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ سائنسدان فلپ شیفر کہتے ہیں ”یہ تحقیق اس حوالے سے زیادہ اہم ہے کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جانوروں اور پرندوں کی بہت سی انواع معدومی کے خدشے سے دوچار ہیں۔ اس سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ جینیاتی انجینئرنگ سے کس طرح ان انواع کو شدید ماحولیاتی تبدیلیوں میں زندہ رہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔“

فلپ شیفر کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا شدہ الارمنگ صورتحال سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے اہم فیصلوں اور پالیسیوں کی ضرورت ہے

وہ کہتے ہیں کہ ان نیماٹوڈز کی جین پر مزید تحقیق سے ماہرین ماحولیات کو مؤثر پالیسیاں بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

اس تحقیق کے شائع ہوتے ہی بہت سے حلقوں کی جانب سےیہ تشویش سامنے آئی ہے کہ اگر یہ کیڑے چھیالیس ہزار سال قدیم ہیں تو کیا ان پر یا قدیم انواع پر تحقیق انسانیت کے لئے خطرناک نہیں ہوگی؟

واضح رہے کہ اس طرح کے سوالات کرونا وائرس وبا کے دوران بھی اٹھائے گئے تھے، جب اس وائرس کے ایک لیبارٹری سے لیک ہوجانے کی خبریں ہر جانب گردش میں تھیں۔ اس حوالے سے تیمورز کرزشیلیا کا کہنا ہے ”سوالات کی حد تک یہ تشویش درست ہے مگر دنیا بھر میں اس طرح کی تحقیقات لیبارٹریوں کے محفوظ ماحول میں کی جاتی ہے، جہاں سے کسی وائرس یا وبا کا پھیل جانا محض اتفاقی یا حاد ثاتی ہی ہو سکتا ہے۔“

وہ کہتے ہیں، ”عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے سائیبیریا کی منجمد زمین تیزی سے پگھل رہی ہے، جہاں سے قدیم خوردبینی و عظیم الجثہ جانووروں کی باقیات دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ ظاہر ہے ان پر تحقیق تو ہوگی مگر انسانیت کے وسیع تر مفاد میں محفوظ ماحول میں تحقیق کرنا سائنسدانوں کی ذمہ داری ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close